03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں عورت کاخیانت کرکے شرط لکھنے کاحکم
84167نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے ایک عورت (............)سے نیک نیتی سے حلالہ کےلئے  کورٹ میں نکاح کیا،نکاح کے وقت میں نے نکاح نامہ پردستخط کئے اوراس وقت  اس میں کوئی شرط نہیں تھی،نکاح کے تین  دن بعد میں نے اس کوتین طلاقیں دیدیں،طلاق  کے الفاظ یہ ہیں:فلانہ....... میں تمہیں طلاق دیتاہوں،یہ جملہ میں نے تین مرتبہ دہرایا،اس کے بعداس عورت نے الٹامیرے خلاف کورٹ میں کیس  دائرکیا اورنکاح نامہ میں اپنی طرف سے یہ لکھا ہے کہ اگر میں اس کوطلاق دوں گا تومیں دوکروڑ روپے دوں گا اوراگروہ مجھ سے خلع مانگے گی تووہ دوکروڑ روپے دےگی،کیااس طرح اس عورت کاکرنااوراس کی بنیاد پررقم کامطالبہ کرنادرست ہے یانہیں؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح نامہ میں عورت کا اپنی طرف سے مذکورہ شرط کااضافہ کرکے کورٹ میں دعوی کرنادھوکہ اورجھوٹ ہے جوکہ سخت گناہ ہے،یہ رقم کسی صورت عورت کے لئے حلال نہیں،بالفرض اگریہ شرط بوقت نکاح  نکاح نامہ میں لگائی بھی جاتی تواس شرط کاکوئی اعتبارنہیں تھا،یہ باطل تھی، اس لئے صورت مسؤلہ میں عورت کے لئے مذکورہ رقم کادعوی کرناکسی بھی صورت جائزنہیں۔

حوالہ جات

فی صحيح مسلم (ج 2 / ص 1035):

”عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :﴿ إن أحق الشرط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج ﴾

 هذا لفظ حديث أبي بكر وابن المثنى غير أن ابن المثنى قال الشروط

 [  ( إن أحق الشرط أن يوفى به ) قال الشافعي وأكثر العلماء رضي الله عنهم إن هذا محمول على شروط لا تنافي مقتضى النكاح بل تكون من مقتضياته ومقاصده كاشتراط العشرة بالمعروف والإنفاق عليها وكسوتها وسكناها بالمعروف وأنه لا يقصر في شيء من حقوقها ويقسم لها كغيرها وأنها لا تخرج من بيته إلا بإذنه ولا تنشز عليه ولا تصوم تطوعا بغير إذنه ولا تأذن في بيته إلا بإذنه ولا تتصرف في متاعه إلا برضاه ونحو ذلك ]"

وفی الدر المختار للحصفكي  (ج 3 / ص 58):

"(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح."

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 5 / ص 468):

"إذا تزوجها على خمر أو خنزير فإن المسمى ليس بمال متقوم في حق المسلم فكان شرط قبوله شرطا فاسدا غير أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فيصح النكاح ويلغو الشرط ويجب مهر المثل

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۲/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب