| 84728 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ ہمارے والد نے اپنی دوسری بیوی کو زندگی میں تین گھر اور ایک کروڑ روپیہ جو نقدی دیا ہے، کیا وہ اس کی مالک بن گئی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے اپنی زندگی میں جو تین گھر اور نقدی اپنی بیوی کو ہبہ اور ہدیہ کے طور پر دی ہے، اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر مرحوم نے ہبہ کرنے کے بعد اپنی بیوی کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ،مثلا ہبہ کیے گئے تینوں گھر والد صاحب نے اپنے سامان وغیرہ سے خالی کر کے اپنی بیوی کو بطور ہدیہ دیے تھے، اسی طرح نقدی بھی بیوی کے اکاؤنٹ میں ڈال دی تھی یا بالمشافہہ اس کو دے دی تھی تو اس صورت میں وہ زندگی میں اس نقدی اورتینوں گھروں کی مالک بن چکی تھی، لہذا اب یہ نقدی اور جائیداد اس سے واپس نہیں لی جا سکتی،لیکن اگر ان میں سے کسی چیز کا اس
کو مالکانہ قبضہ دیے بغیر ہبہ کیا گیاہو، مثلا ایک گھر میں مرحوم کی رہائش اور سامان وغیرہ موجود ہو اور دیگر گھر کرائے پر دیے گئے ہوں اور ہبہ کرنے کے بعد بیوی کے نام سے دوبارہ کرایہ کا معاہدہ بھی نہیں کیا گیا تو ایسی صورت میں صرف زبانی ہبہ (ہدیہ) کرنے سے شرعاً ہبہ درست نہیں ہوا، بلکہ وہ گھر زندگی میں بدستور آپ کے والد مرحوم کی ملکیت میں باقی رہے اور اب اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 353) دار إحياء التراث العربي:
(وتتم) الهبة (بالقبض الكامل) ، ولو كان الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به لقوله - عليه السلام -: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» والمراد هنا نفي الملك لا الجواز؛ لأن جوازها بدون القبض ثابت.
رد المحتار، کتاب الھبة، 690/5،ط : سعید:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
22/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


