| 84739 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں، ہمارے والد صاحب کے پاس 21 مرلے جگہ تھی، اس میں 11 مرلے میں گھر بنایا اور 10 مرلے جگہ خالی پڑی تھی، والد صاحب نے دو بڑے بھائیوں کو 10 مرلے خالی جگہ سے پانچ پانچ مرلے کے خالی پلاٹ دے دیئے ۔اس وقت جگہ کا ریٹ ڈھائی لاکھ روپے مرلہ تھا اور ڈھائی لاکھ کے حساب سے 21 مرلہ کا ریٹ 52 لاکھ 50 ہزار تھا، ملبے کی قیمت47 لاکھ 50 ہزار روپے لگائی گئی تھی۔والد صاحب نے دو بڑے بھائیوں کو پانچ پانچ مرلے پر قبضہ دے دیا، باقی تین بھائیوں کو ملبے والا گھر ملا اور تینوں بھائیوں کو اس گھر کا قبضہ بھی دے دیا گیا۔ اب اس جگہ کی قیمت بڑھ چکی ہے، دو بڑے بھائیوں نے اپنے خالی پلاٹوں پر بہترین گھر تعمیر کر لیے ہیں، اب ایک عالم بھائی کہتے ہیں کہ ہمیں جگہ کم ملی ہے، دو بڑھے بھائیوں کو زیادہ ملی ہے، اس کے جواب میں بڑے بھائیوں کا کہنا ہے کہ آپ کو والد صاحب نے ملبے سمیت گھر دیا ہے اور ملبے سمیت گھر کی قیمت ہماری جگہ سے زیادہ بنتی تھی، اسی لیے بہنوں کا حصہ ان تین بھائیوں کے ذمہ میں ڈالا گیا، اس پر عالم بھائی کا کہنا ہے کہ ملبہ والی صاحب کی زندگی کے بعد تقسیم ہو گا، اس کو زندگی میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
1۔ جائیداد تقسیم کرنے کے بعد بہنوں کے حصے میں آنے والی رقم تین بھائیوں کے ذمے لگائی گئی، 2011 میں یہ فیصلہ ہوا اور 2024 تک ان تین بھائیوں نے بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔ ہر بہن کا حصہ پانچ لاکھ روپیہ طے کیا گیا تھا، اب سوال یہ ہے کہ کیا بہنوں کے حصہ کی دوبارہ قیمت لگائی جائےگی یا وہی پانچ پانچ لاکھ روپیہ ان کو دیا جائے گا، جبکہ والد صاحب ابھی حیات ہیں۔یہ فیصلہ دوبارہ ہو گا یا اسی فیصلے کو برقرار رکھا جائے گا؟
2۔ سوال یہ ہے کہ کیا والد صاحب ملبہ یعنی تعمیر کو تقسیم میں شامل کرنا درست تھا اوراب وہی فیصلہ برقرار رہے گا یا دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ والد صاحب اسی گھر میں رہائش پذیر تھے، جو تین بھائیوں کو دیا گیا تھا، والد صاحب کا سامان بھی وہیں، مکان کی تعمیر سمیت قیمت لگائی گئی تھی، جس میں بہنوں کو ان کے حصہ کی رقم دینا طے کیا گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید دو باتیں سمجھنا ضروری ہیں:
پہلی بات: زندگی میں آدمی کے مال میں کسی بھی شخص کا کوئی حق متعلق نہیں ہے، اس لیے زندگی میں وہ اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کر سکتاہے، البتہ اگروہ زندگی میں اولاد کو کوئی جائیداد دینا چاہے تو شرعی اعتبار سے یہ وراثت نہیں، بلکہ ہبہ (ہدیہ) کہلاتا ہے، جس میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، لہذا زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیا جائے، البتہ اگر وراثت کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، نیزکسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی دینداری، خدمت اور معاشی تنگی کے پیشِ نظر کچھہ زیادہ دے دیا جائے تو اس کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
دوسری بات: ہبہ یعنی عطیہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ قبضہ دیے بغیر یہ ہبہ معتبر اور تام نہیں ہوتا، بلکہ وہ چیز بدستور عطیہ دینے والی کی زندگی میں اس کی ملکیت رہتی ہے اور اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوتی ہے، نیز اولاد کو کوئی چیز ہدیہ کرنے کے بعد شرعاً واپس نہیں لی جا سکتی۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
-
والد صاحب نے تقسیم کے وقت دوبڑے بھائیوں کو جو خالی پلاٹ دیے تھے چونکہ ان کا مالکانہ قبضہ بھی دے دیا گیا تھا اس لیے ان پلاٹوں میں ہبہ مکمل اور درست ہو چکا، اب وہ پلاٹ ان بھائیوں سے واپس نہیں لیے جا سکتے، کیونکہ شرعی اعتبار سے والد کا اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کرنے کے بعد اس کی رضامندی کے بغیر واپس لینا جائز نہیں، نیز اب وہ بیٹے ان پلاٹوں پر تعمیر بھی کر چکے ہیں اور موہوب لہ (جس کو چیز ہدیہ کی گئی) کا ہبہ کی گئی زمین پر تعمیر کرنا اس زمین کی واپسی سے مانع ہے۔باقی یہ کہنا درست نہیں کہ والد نے ان کو زیادہ حصہ دیا، کیونکہ ہبہ کےوقت ان پلاٹوں کی قیمت دیگر بھائیوں کے لیے مختص کیے گئے مکان کی قیمت سے بھی کم تھی، لہذا اب ان دو بھائیوں سے دوبارہ تقسیم کا مطالبہ غیر شرعی ہے،جس پر عمل کرنا ان کے ذمہ لازم نہیں۔
ان کے علاوہ بقیہ تینوں بیٹوں اور بیٹیوں کووالدصاحب کی طرف سے کیاگیا ہبہ درست نہیں ہوا، کیونکہ والدین اس وقت سے اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں اور ان کا سامان وغیرہ بھی وہیں ہے اورایسی صورت میں اس مکان کا قبضہ شرعا معتبر نہیں ہوتا، لہذا شرعی قبضہ نہ دیے جانے کی وجہ سے ابھی تک یہ مکان والد صاحب کی ملکیت میں ہے، وہ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کر سکتے ہیں، اب بہتر صورت یہ ہے کہ والدین اس مکان کے علاوہ کسی اور بیٹےکے ہاں رہائش اختیار کر لیں اور اپنا سامان بھی وہیں منتقل کر لیں، اس کے بعد تعمیر سمیت یہ مکمل مکان ان تین بیٹوں اور بیٹیوں کو ہبہ کر دیں، جس میں بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر یا کم از کم ہر بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا
حصہ دے دیا جائے۔(اس طرح مشاع طور پرپانچ افراد کو مکان ہبہ کرنا اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں، مگر حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کی اجازت ہے، اس لیے ضرورت کے وقت اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔)
-
والد صاحب کا تعمیر سمیت مکان ہبہ کرنا بالکل جائز ہے، بشرطیکہ شرعی اعتبار سے اس کا قبضہ دے دیا جائے، لہذا آپ کے عالم بھائی کا یہ کہنا درست نہیں کہ تعمیر زندگی میں تقسیم نہیں کیا جا سکتی، بلکہ وہ والد صاحب کی وفات کے بعد تقسیم ہو گی، کیونکہ آدمی اپنی ملکیت میں موجود کوئی بھی چیز شرعادوسرے کو بطور ہبہ اور ہدیہ دے سکتا ہے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 167) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 869) إذا حصل في الموهوب زيادة متصلة كأن كان أرضا وأحدث الموهوب له عليها بناء أو غرس فيها شجرا أو كان حيوانا ضعيفا فسمن عند الموهوب له أو غير على وجه تبدل به اسمه كأن كان حنطة فطحنت وجعلت دقيقا لا يصح الرجوع عن الهبة حينئذ وأما الزيادة المنفصلة فلا تكون مانعة للرجوع فلو حملت الفرس التي وهبها أحد لغيره فليس له الرجوع عن الهبة لكن له الرجوع بعد الولادة وبهذه الصورة يكون فلوها للموهوب له.
المبسوط للسرخسي (12/ 67) دار المعرفة – بيروت:
(ولو وهب دارا لرجلين، وسلمها إليهما فالهبة لا تجوز، في قول أبي حنيفة - رضي الله عنه -، وفي قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله: يجوز)؛ لأن العقد والتسليم لاقى مقسوما، فإنه حصل في الدار جملة، فيجوز، كما لو وهبها لرجل واحد؛ وهذا لأن تمكن الشيوع باعتبار تفرق المالك، والملك هنا حكم الهبة، وحكم الشيء يعقبه. فالشيوع الذي ينبني على ملك يقع للموهوب لهما لا يكون مقترنا بالعقد ولا تأثير للشيوع الطارئ في الهبة كما لو رجع الواهب بالنصف.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
26/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


