03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا غیرذمہ دار والدہ کو حضانت کا حق حاصل ہو گا؟
84570طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہو گا؟ اس کے پاس بچے رہنے کی صورت میں بچوں کی تربیت خراب ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ اس سے بعض ایسے افعال سرزد ہوئے کہ جس سے اس خاتون کی ذہنی حالت درست نہیں لگتی، ان کو ان کے گھر والے مورخہ16-05-2022کو حیدرآباد میں ڈاکٹر جمیل جونیجو سائیکاٹرسٹ کو دیکھانے لے گئے، ڈاکٹر نے معائنہ اور تفصیلات سننے کے بعد کہا کہ ان کو ’’DELUSIONAL DISORDERنامی ذہنی بیماری ہے، مگر میں اس حالت حمل  میں علاج نہیں کروں گاا، ابھی یہ نارمل دوائیں لے گی، جب ڈیلیوری ہوجائے تو میرے پاس آجانا میں اس کا علاج شروع کر دونگا اور یہ نارمل ہوجائے گی۔ ڈیلیوری سے ہفتہ پہلے فیصلے کے مطابق میں ان کو کراچی لے آیا اور دارالصحت ہسپتال سے ڈیلیوری کرائی، بچے کی پیدائش کے بعد ہم نے لوگوں سے ذہنی بیماری کیلئے سائیکاٹرسٹ سے مزید علاج کی بات کی تو کہنے لگی کہ مجھے کیا ہوا ہے؟ میں تو بالکل ٹھیک ہوں، علاج کی تم لوگوں کو ضرورت ہے، اس طرح جب ان کے والدین سے علاج کی بات کی تو وہ بھی مکر گئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی طور پر علیحدگی کے بعد شرعی اعتبار سے بچوں کی پرورش کا سب سے پہلا حق ماں کو حاصل ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ بیٹا سات سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا اور بیٹی بالغ ہونے تک ماں کے پاس رہے گی، بشرطیکہ اس دوران ماں بچوں کے کسی غیر محرم رشتہ دار سے شادی نہ کرے اور نہ ہی کوئی ایسی ملازمت اختیار کرے کہ جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت میں خلل واقع ہوتا ہو، ورنہ ماں کا پرورش کا حق ساقط ہو جائے گا۔ لہذااگر ماں  بچے کے کسی غیر محرم سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچے کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں بچے کی نانی کو پرورش کا حق حاصل ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو حق ملے گا، وہ نہ ہو توبہن کو، اگر وہ نہ ہو تو  خالہ کو اور اگر وہ بھی نہ ہو تو پھوپھی کو حق ملے گا، نیز اگر ان خواتین میں سے کوئی خاتون نہ ہو یا وہ  پرورش کے لیے تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں پرورش کا  حق باپ کو حاصل ہو گا۔

لہذا اگر یہ خاتون واقعتاً ذہنی طور پر کسی بیماری میں مبتلا ہے اور علاج کرانے پر بھی آمادہ نہیں، جس کے نتیجے میں بچوں کی تربیت خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق بچوں کی پرورش کا حق نانی کو حاصل ہو گا، پھر اسی ترتیب سے خاندان کی دیگر خواتین کو حقِ حضانت حاصل ہو گا، یہ بھی یاد رہے کہ ماں کے پاس پرورش کے دوران بچوں کے کھانے پینے، علاج معالجے اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات باپ برداشت کرے گا۔

حوالہ جات

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 179) دار الكتاب الإسلامي:

(قوله والحاضنة المرأة إلخ) قال الرملي ولها شروط أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة وأن تخلو من زوج أجنبي وإن كان الحاضن ذكرا فشرطه أن يكون كذلك ما عدا الأخير، وهذا قلته منفردا به أخذا من كلامهم ولم أر أحدا ذكر هذه الشروط على هذه الكيفية على علمي الآن والله تعالى هو الموفق اھ.

حاشية ابن عابدين (3/ 555) دار الفكر-بيروت:

مطلب: شروط الحضانة. قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي، وكذا في الحاضن الذكر سوى الشرط الأخير، هذا ما يؤخذ من كلامهم. اهـ.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 412) دار إحياء الكتب العربية:

يشترط أيضا أن لا تكون متزوجة بغير محرم للصغير.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 254) دار الكتب العلمية:

وفي القنية: الام أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا.

حاشية ابن عابدين (3/ 557) دار الفكر-بيروت:

(قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المراد كثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:

" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب " لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا فلا نظر۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 284) دار احياء التراث العربي – بيروت:

"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغير حتى يستغني فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده " والمعنى واحد لأن تمام الاستغناء بالقدرة على الاستنجاء.

ووجهه أنه إذا استغنى يحتاج إلى التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقم والأب أقدر على التأديب والتثقيف والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب " والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض " لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى وعن محمد رحمه الله أنها تدفع ألى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة " ومن سوى الأم والجدة أحق بالجارية حتى تبلغ حدا تشتهى وفي الجامع الصغير حتى تستغنى " لأنها لا تقدر على استخدامها ولهذا لا تؤاجراها للخدمة فلا يحصل المقصود بخلاف الأم والجدة لقدرتهما عليه شرعا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

11/ صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب