| 84592 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے والد مرحوم کی 5 فوت شدہ بہنوں یعنی میری پھوپھیوں نے اپنی زندگی میں دادا کی وراثت میں سے حصہ نہیں لیا اور انتقال کر گئیں،دادا کی اولاد میں اب کوئی باقی نہیں ،سوائے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں۔مرحوم پھوپھیوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی زمین کی تقسیم کا تقاضہ نہیں کیا، اب ان کی اولاد کی جانب سے ممکنہ تقاضا پر شرعی اور قانونی مدد درکار ہے ۔
ورثہ:۔
بیوہ یعنی میری دادی مرحومہ۔ایک بیٹا مرحوم ،کوئی اولاد نہیں( ان کی بیوہ میرے والد مرحوم کی پہلی بیوہ ہیں)۔
ایک بیٹا یعنی میرے والد مرحوم ( والد کی دو بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں سب حیات ہیں)۔
پانچ بیٹیاں یعنی میری پانچ پھوپھیاں سب مرحوم ( ایک مرحوم پھوپھی کی صرف دو بیٹیاں حیات ہیں اور دو پھوپھیوں کی اولاد میں کافی بیٹے بیٹیاں حیات ہیں اور ایک پھوپھی کے پوتے پوتیاں ہیں، اولاد حیات نہیں، اس کے علاوہ دو پھوپھیوں کا کوئی واث ہی نہیں)
دادا کی زمین 80 کنالہے،اب ہم تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ورثاء کون کون شمار ہونگے اور 80 کنال زرعی زمین کس طرح تقسیم ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک
تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،دادا کی میراث میں 80کنال زرعی زمین
ہے، ان کے ورثہ میں ایک بیوہ،دوبیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، میراث پہلے دادا کے اپنے ورثہ میں تقسیم ہوگی،پھر اس
کے بعد ہرایک وارث کا حصہ ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے۔:۔
میراث کے 72 حصے بنائے جائیں ،جن میں سے9 حصے اہلیہ اور28 حصےدو بیٹوں کو دیے جائیں،ہر بیٹے کو14حصے ملیں گے،اور35حصےبیٹیوں کو دیے جائیں،ہر بیٹی کو 7حصے ملیں گے ،یہ کل میراث کی تقسیم ہے،جبکہ زمین میں سے ہر ایک کا حصہ نیچے درج نقشہ میں موجود ہے۔
چونکہ یہاں دادا کے ورثہ کی تعداد بتائی گئی ہے،جس کے مطابق زمین تقسیم کردی گئی ہے،پوتوں اور نواسوں وغیرہ کے حصص معلوم کرنے کے لیے ان کی مکمل تعدادبمع نام اور مرحومین کی وفات کی ترتیب بتانا ضروری ہے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
زمین کنال |
1 |
بیوی |
9 |
12.5 |
10 |
2 |
بیٹا |
14 |
19.444444 |
15.555555 |
3 |
بیٹا |
14 |
19.444444 |
15.555555 |
4 |
بیٹی |
7 |
9.722222 |
7.777777 |
5 |
بیٹی |
7 |
9.722222 |
7.777777 |
6 |
بیٹی |
7 |
9.722222 |
7.777777 |
7 |
بیٹی |
7 |
9.722222 |
7.777777 |
8 |
بیٹی |
7 |
9.722222 |
7.777777 |
حوالہ جات
..
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
12/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


