| 84788 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
اگر بہو کے نام پر کوئی مکان یا زیورات لکھے ہوئے ہوں اور اس کے والدین کہیں کہ ہماری بیٹی کے نام جو لکھا ہوا ہے ہمیں دیں، کیا یہ قرآن و حدیث میں ثابت ہے کہ وہ بیٹی کے نام پر لکھوائیں اور پھر اسے لےکر اپنے تصرف میں لائیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے والدین اور اولاد کی علیحدہ علیحدہ ملکیت شمار کی ہے اور زکوة وغیرہ کے احکام بھی ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ واجب ہیں، اسی لیے شریعت نے کسی بھی شخص کو دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ لہذا والدین کا اپنی بیٹی کے نام لکھوایا گیا مکان سسرال سے لے کر اس کی اجازت کے بغیر اپنے تصرف میں لانا جائز نہیں۔ البتہ بیٹی کو حق حاصل ہے کہ وہ نکاح نامہ میں لکھوایا گیا مکان لے کر اپنے تصرف میں لائے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


