| 84743 | وکیل بنانے کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
میرے بھائی کو ریفریجریٹر کی ضرورت تھی، وقت نہ ہونے کے باعث انہوں نے مجھے پیسے دیے کہ میں خرید کر لے آؤں، میں نے پیسے لیے کہ میں لے آؤں گا۔ چونکہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، اس لیے میں نے اپنی طرف سے قسطوں پر بھائی کا مطلوبہ ریفریجریٹر خرید کر ان کو دیدیا اور ان کی رقم خود رکھ لی، پھر ہر مہینے اپنی آمدنی سے وہ اقساط ادا کرتا رہا۔
سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز تھا یا نہیں؟ ناجائز ہونے کی صورت میں اب اس کی تلافی کی صورت ہوسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں ریفریجریٹر کی خریداری میں آپ اپنے بھائی کے وکیل تھے، وکیل کے پاس مؤکل کی رقم امانت ہوتی ہے، وکیل کے لیے مؤکل کی رقم ذاتی استعمال میں لانا یا عقدِ وکالت کی کسی اور شرط (مثلا انہوں نے نقد خریداری کا کہا تھا اور آپ نے ادھار معاملہ کیا) کی مخالفت کرنا جائز نہیں، اگر وہ ایسی کوئی مخالفت کرتا ہے تو وہ معاملہ مؤکل کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر وہ اس کو نافذ کرے گا تو نافذ ہوجائے گا، ورنہ وہ معاملہ خود وکیل کے لیے ہوگا اور وہ مؤکل کو اس کی رقم وغیرہ کا ضمان ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کے بھائی ریفریجریٹر آپ سے وصول کر کے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو نافذ اور وکالت کے معاملے کو مکمل سمجھا جائے گا، البتہ ادھار خریداری کی وجہ سے ریفریجریٹر نقد کی نسبت جتنا مہنگا ملا ہو، وہ بھی آپ اپنے مال سے ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ نیز امانت میں خیانت کرنے اور وکالت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے ہیں، آپ پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کریں، نیز اپنے بھائی سے بھی کسی طریقے سے معافی مانگ لیں، اگر صراحتا یہ بات کہہ کر معافی مانگنا مشکل ہو تو عمومی انداز میں معافی مانگ لیں، مثلا یہ کہ: اگر آپ کا کسی بھی قسم کا کوئی حق میری طرف ہو یا مجھ سے آپ کے حق میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی ہو تو میں اس کے لیے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔
حوالہ جات
الدر المختار (5/ 523):
( وتقيد شراؤه بمثل القيمة وغبن يسير ) وهو ما يقوم به مقوم، وهذا ( إذا لم يكن سعره معروفا وإن كان ) سعره ( معروفا ) بين الناس ( كخبز ولحم ) وموز وجبن ( لا ينفذ على الموكل وإن قلت الزيادة ) ولو فلسا واحدا، به يفتى، بحر وبناية.
رد المحتار (5/ 523):
قوله ( وتقيد شراؤه ) لأن التهمة في الأكثر متحققة، فلعله اشتراه لنفسه، فإذا لم يوافقه ألحقه بغيره على ما مر، وأطلقه فشمل ما إذا كان وكيلا بشراء معين، فإنه وإن كان لا يملك شراءه لنفسه، فبالمخالفة يكون مشتريا لنفسه، فالتهمة باقية كما في الزيلعي، وفي الهداية: قالوا: ينفذ على الآمر، وذكر في البناية أنه قول عامة المشايخ، والأول قول البعض، وفي الذخيرة أنه لا نص فيه بحر ملخصا.
قوله ( ما يقوم به مقوم ) أي لم يدخل تحت تقويم أحد من المقومين، قال مسكين: فلو قومه عدل عشرة وعدل آخر ثمانية وآخر سبعة فيما بين الشعرة والسبعة داخل تحت تقويم المقومين، وتمامه فيه. قوله ( وبناية ) هي شرح الهداية
المعاییر الشرعیة (635-625):
6/3 مخالفة قیود الوکالة:
6/3/1 إذا خالف الوکیل ما قیده به المؤکل، ولم تکن المخالفة إلی ما هو أفضل للمؤکل، فإن العقد موقوف علی إجازة المؤکل، سواء أ کانت المخالفة تتعلق بمحل الوکالة أم ببعضه أم بالثمن أم بصفته من حلول أو تأجیل، و سواء أ کانت المخالفة في التملك (الشراء) أم التملیك (البیع).
6/3/2 إذا خالف الوکیل بالشراء فاشتری بأکثر من ثمن المثل أو بأکثر مما حدده المؤکل، فإنه یضمن الفرق بین الثمن الذي اشتری به وثمن المثل……. الخ
·مستند معالجة المخالفة في حال تحدید ثمن البیع أو الشراء بأن یتحمل الوکیل المخالف الفرق بین الثمن الذي تصرف به وثمن المثل، هو تحقیق العدل ورفع الضرر عنه دون الوقوع في أخذ المال بالشرط، وهو ممنوع شرعا لما في ذلک من شبهة الربا، وقد ورد النص علی هذه المسألة في المغني لابن قدامة وأشار إلی أن هناك رأیا آخر بإبطال التعامل في هذه الحالة.
المجلة (ص: 217):
مادة 1126 : قسمة الفضولي موقوفة على الإجازة قولا أو فعلا، مثلا إذا قسم واحد المال المشترك بنفسه، فلا تكون القسمة جائزة، لكن أصحابه إن أجازوا قولا بأن قالوا: أحسنت، أو تصرفوا بالحصص المفرزة تصرف الملاك، يعني بوجه من لوازم التملك، كبيع وإيجار، فالقسمة صحيحة نافذة.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 122):
قسمة الفضولي موقوفة على إجازة المقسوم لهم قولا أو فعلا؛ لأن القاعدة أن كل عقد يصح فيه التوكيل يتوقف عقد الفضولي فيه على الإجازة، والقسمة هي من العقود التي يصح فيها التوكيل ( الخيرية ) .
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


