03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف میں متولی کی ذمہ داریاں
84752وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

متولی وقف کی جگہ میں کیا کیا کام کر سکتا ہے اور کیا کیا کام نہیں کر سکتا ، نیزمتولی کے اخراجات کی کیا ترتیب ہوتی ہے اور جو مہمان کے جو اخراجات ہوتے ہیں ان پر خرچ ہونے والے پیسے کس کی طرف سے ہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

متولی کے لیے ایسا کوئی کام کرنا جائز نہیں جو وقف کی شرائط اور مصلحت کے خلاف ہو، البتہ وقف کی شرائط اور مصالح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی  جائز کام  کرنا درست ہے، مثلا مدرسہ کے متولی کے لیے درج ذیل کام کرنے کی اجازت ہے:

  1. تعلیم کے لیے  ذی استعداداور امانت دار اساتذہ کا تقرر کرنا
  2. وقف کی جگہ پر بقدرضرورت عمارت تعمیر کروانا
  3. مدرسہ کے لیے بوقت ضرورت چندہ کرنا
  4. مدرسہ کے چندہ یا کسی اور کام کے لیے جاتے ہوئے سفری اخرجات مدرسہ سے وصول کرنا
  5. مدرسہ کے اشیاء کی امانت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حفاظت کرنا
  6. جو رقم کسی خاص مد جیسے طلباء کے کھانے وغیرہ کے لیے دی گئی ہو اس کو اسی مد میں خرچ کرنا
  7.  مدرسہ کی دیگر تمام ذمہ داریاں امانت اور دیانت کے مطابق سر انجام دینا

جہاں تک مدرسہ کے مہمانوں وغیرہ کے اخراجات کا تعلق ہے تو وہ اعتدال کے ساتھ مدرسہ کے فنڈ سے کیے جا سکتے ہیں، اسی طرح متولی کے اخراجات بھی مدرسہ کے فنڈ سے درج ذیل دو شرطوں کے ساتھ وصول کرنا جائز ہے:

  1. متولی کی تنخواہ باقاعدہ مقرر ہو، غیر متعین طور پر مدرسہ کے فنڈ سے اخراجات وصول کرنا جائز نہیں، کیونکہ متولی کی حیثیت وقف کے ملازم کی ہوتی ہے اور شرعاً ملازم کی باقاعدہ تنخواہ متعین ہونا ضروری ہے۔
  2. متولی کے اندر تولیت کی شرائط موجود ہوں، جن کی تفصیل سوال نمبر1 کے جواب میں گزر چکی ہے۔اگر تولیت کی شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی متولی میں نہ پائی جائےتو وہ متولی بننے اور اپنے اخراجات مدرسہ سے وصول کرنے کا حق دار نہیں ہو گا۔
حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 199) دار طوق النجاة:

عن ابن عمر رضي الله عنهما: أن عمر بن الخطاب أصاب أرضا بخيبر، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستأمره فيها، فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط أنفس عندي منه، فما تأمر به؟ قال: «إن شئت حبست أصلها، وتصدقت بها» قال: فتصدق بها عمر، أنه لا يباع ولا يوهب ولا يورث، وتصدق بها في الفقراء، وفي القربى

وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، ويطعم غير متمول قال: فحدثت به ابن سيرين، فقال: غير متأثل مالا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 432) دار الفكر-بيروت:

(قوله لم يأكل) أي يبيعها المتولي ويصرفها في مصالح الوقف بحر (قوله: إن غرس للسبيل) وهو الوقف على العامة بحر (قوله: وإلا) أي وإن لم يغرسها للسبيل بأن غرسها أو لم يعلم غرضه بحر عن الحاوي، وهذا محل الاستدلال على قوله الظاهر أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل وهو ظاهر فافهم وأصله لصاحب البحر حيث قال: ومقتضاه أي مقتضى ما في الحاوي أنه في البيت الموقوف إذا لم يعرف الشرط أن يأخذها المتولي ليبيعها ويصرفها في مصالح الوقف.

مجمع الضمانات (ص: 329) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

ويضمن المتولي لو فعله لأنه يجوز على الوقف شراء ما يكون فيه عمارة الوقف، وزيادة لغلته، وأما ما يكون وقفا على وجه ذلك الوقف فهو وقف آخر لا من مصالح الوقف الأول. ألا يرى أن غلته تصرف إلى عمارة نفسه، وما فضل يصرف إلى عمارة الوقف الأول.
وفي القنية اجتمع من مال المسجد شيء فقيل ليس للقيم أن يشتري به دارا للوقف ولو فعل ووقف يكون وقفه، ويضمن وقيل: يجوز استحسانا، وبه أفتى محمد بن سلمة، وسئل شمس الأئمة الحلواني عن وقف تعذر استغلاله هل للمتولي أن يبيعه ويشتري بثمنه آخر مكانه قال: نعم قيل له: لو لم يتعطل، ولكن يوجد بثمنه ما هو خير منه قال لا يبيعه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

/26صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب