03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور اپنی بھانجی کے لیے فلیٹ کی وصیت کا حکم
84853وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

(1)۔۔۔ منسلکہ وصیت نامہ کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ قابلِ عمل ہے؟

(2)۔۔۔ وصیت کرنے والی مسماۃ مسرت افزا کے انتقال کے بعد اگر کرن شاہد جس کو اس نے وصیت کی ہے، اس وصیت نامہ میں ذکر کردہ ہدایات اور شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ گناہ گار ہوگی یا نہیں؟

(3)۔۔۔ مسرت افزا کے انتقال کے بعد اگر اس کے ورثا وراثت میں اپنے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا ہوگا؟ اس وصیت نامہ پر ورثا کے دستخط نہیں ہیں۔ 

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ مسرت افزا صاحبہ میری ہمشیرہ ہے اور ابھی زندہ ہے، ان کے والدین، دادا، دادی، نانی اور شوہر کا انتقال ہوا ہے، جبکہ بچے نہیں ہیں۔ اس وقت ان کے ورثا دو بھائی (محمد سجاد صدیقی، محمد جواد صدیقی) اور ایک بہن (عزت افزا صدیقی) ہیں۔

وصیت نامہ کا خلاصہ از مجیب:

میں مسرت افزا گلستانِ جوہر میں واقع اپنے فلیٹ (جہاں میں رہائش پذیر ہوں) کے اندرونی اور بیرونی معاملات دیکھنے کے لیے اپنی حیات میں اپنی بھانجی کرن شاہد صدیقی کو ذمہ داری دیتی ہوں کہ میرے بعد اس فلیٹ کی دیکھ بھال کرے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی وصول کرے اور درجِ ذیل طریقے پر خرچ کرے:

  1. مسرت افزاء بلال چار (4) مختلف جگہوں پر فی سبیل اللہ اپنے ذاتی خرچہ سے صدقہ کرتی ہے، دو عدد مدارس میں 15 ہزار روپے، اپنے علاقے کی مسجد میں 5 ہزار روپے، ایک بیوہ اور معذور کو 5 ہزار روپے اور 5 ہزار روپے متفر قات کی مد میں فی سبیل اللہ ادا کرتی ہے۔
  2.  میرے انتقال کے بعد میری سگی بھانجی محترمہ کرن شاہد صدیقی صاحبہ کو میرے درج بالا فلیٹ پر میری وصیت کے مطابق یہ اختیارات حاصل ہوں گے: .i اپنی مرضی سے اس فلیٹ میں رہائش اختیار کر سکتی ہے۔ .iiاس کو کرایہ پر دے سکتی ہے۔ .iii اس کو فروخت کر سکتی ہیں۔
  3. درج بالا تینوں صورتوں میں میری سگی بھانجی کرن شاہد صدیقی صاحبہ حاصل ہونے والی آمدنی کی ٹوٹل رقم کا ستر فیصد (70%) اللہ کی راہ میں خرچ کرے گی اور تیس فیصد (30%) کی وہ بذاتِ خود حق دار ہوگی۔
  4. فلیٹ میں رہنے کی صورت میں کرن شاہد صدیقی صاحبہ ستر فیصد (70%) ہر ماہ ان مدات میں دے گی جن کا نمبر 1 میں ذکر ہوا، جہاں مسرت افزاء بلال اپنی زندگی میں دیتی رہی ہے۔ 
  5. فلیٹ کرایہ پر دینے کی صورت میں کرایہ کا ستر فیصد (٪70) نمبر 1 میں ذکر کردہ مدات میں دے گی اور تیس فیصد (٪30) خود رکھنے کی حق دار ہوگی۔
  6. فلیٹ بیچنے کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم کا ٹوٹل ستر فیصد (٪70) یکمشت کسی رفاہی ادارے جیسے کہ انڈس ہسپتال، جناح ہسپتال ، ایس ، آئی ، یوٹی (SIUT) کو یا میری بھانجی کرن شاہد صدیقی صاحبہ اپنی مرضی سے کسی بھی رفاہی ادارے کو دے گی اور تیس فیصد (٪30) خود ر کھنے کی حق دار ہوگی۔
  7. درج بالا فلیٹ کی مالیت مورخہ 2024-05-06 کو ایک (1) کروڑ پچاس (50) لاکھ روپے ہے، اور اس کا موجودہ کرا یہ چالیس (40) ہزار روپے ہے۔
  8. مجھے اور میرے ورثا ۱۔ عزت افزاء صدیقی، (بہن) ۲- محمد سجاد صدیقی، (بھائی) ۳۔ محمد جواد صدیقی، (بھائی) کوکسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان کو اپنے مال کی ایک تہائی حد تک وصیت کرنے کی اجازت ہے، ایک تہائی سے زیادہ وصیت پر عمل کرنا ورثا پر لازم نہیں، البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور وہ ایک تہائی سے زیادہ وصیت پر بھی عمل کرنا چاہیں تو یہ درست ہے اور ان کو بھی اس کا اجر ملے گا۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:

(1)۔۔۔ مسرت افزا صاحبہ کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ/ میراث سے ان کی مسنون تجہیز و تکفین کے اخراجات اور ان پر قرضے ہونے کی صورت میں قرضے ادا کرنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ یہ فلیٹ ان کے کل ترکہ/ میراث کا کتنا فیصد بنتا ہے؟ اگر یہ کل ترکہ کا ایک تہائی یا اس سے کم بنتا ہو تو اس پوری وصیت پر عمل کرنا لازم ہوگا، ورثا اس میں حصے کا مطالبہ نہیں کرسکیں گے۔ لیکن اگر یہ فلیٹ ایک تہائی سے زیادہ بنتا ہو تو پھر مسرت افزا صاحبہ کے انتقال کے وقت موجود عاقل بالغ ورثا اگر پوری وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دیں تو پوری وصیت پر عمل کیا جائے گا، ورنہ صرف ایک تہائی حصے تک وصیت پر عمل کیا جائے گا، باقی دو تہائی حصے ورثا میں تقسیم ہوں گے، مسرت افزا صاحبہ کی زندگی میں اس وصیت پر رضامندی کی وجہ سے ورثا کا حق ختم نہیں ہوگا، البتہ ان کے انتقال کے بعد اگر ایک دفعہ انہوں نے رضامندی کا اظہار کرلیا تو پھر ان کے لیے اس سے رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا۔

(2)۔۔۔ کرن شاہد صاحبہ پر نمبر (1) میں ذکر کردہ تفصیل کا لحاظ کرتے ہوئے اس وصیت نامے پر عمل کرنا لازم ہوگا، اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتی تو گناہ گار ہوگی۔

(3)۔۔۔ اس کا جواب نمبر (1) میں آچکا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (4/ 348):

فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني.

حاشية ابن عابدين (4/ 348):

قوله ( فلا يجوز وقف مشاع يقسم الخ ) شمل ما لو استحق جزء من الأرض شائع، فيبطل في الباقي؛ لأن الشيوع مقارن كما في الهبة، بخلاف ما لو رجع الوارث في الثلثين بعد موت الواقف في مرضه، وفي المال ضيق؛ لأنه شيوع طارىء، ولو استحق جزء معين لم يبطل في الباقي لعدم الشيوع، بحر عن الهداية.

ولو بينهما أرض وقفاها ودفعاها معا إلى قيم واحد جاز اتفاقا لأن المانع من الجواز عند محمد هو الشيوع وقت القبض لا وقت العقد ولم يوجد هاهنا لوجودهما معا منهما وكذا لو وقف كل منهما نصيبه على جهة وسلماه معا لقيم واحد لعدم الشيوع وقت القبض وكذا لو اختلفا في وقفيهما جهة وقيما واتحد زمان تسليمهما مالهما أو قال كل منهما لقيمه اقبض نصيبي مع نصيب صاحبي لأنهما صارا كمتول واحد، بخلاف ما لو وقف كل واحد وحده وسلم لقيمه وحده فلا يصح عند محمد لوجود الشيوع وقت العقد، وتمكنه وقت القبض، إسعاف.

وفيه أيضا: وقفت دارها على بناتها الثلاث، ثم على الفقراء، ولا مال لها غيرها ولا وارث غيرهن، فالثلث وقف والثلثان ميراث لهن، وهذا عند أبي يوسف، خلافا لمحمد اه، أي لأنه مشاع حيث لم تقسمه بينهن.   

الأصل للشيباني ط قطر (5/ 429):

  قال محمد: قال أبو حنيفة: من أوصى بالثلث فهو جائز، ومن أوصى بأكثر من الثلث فالفضل على الثلث لا يجوز إلا أن يجيز ذلك الورثة وهم كبار بعدما يموت الموصي، فإن أجازوا جاز ذلك.

وكذلك الوصية للوارث إن أجازوا شيئاً من ذلك في حياة الميت فلهم  أن يردوه بعد موته. بلغنا ذلك عن عبد الله بن مسعود. ألا ترى أنهم أجازوا ما لم يملكوا وما لم يقع لهم الميراث فيه بعد. أرأيت لو حدث له وارث فحجبهم أو ماتوا قبل موت الموصي أليس كان يكون الورثة غيرهم، فكانوا قد أجازوا ما لم يملكوا.

المبسوط للسرخسي (7/ 424):

ولو كاتب رجل عبده في مرضه ولا مال له غيره فأجاز الورثة في حياته فلهم أن يمتنعوا من الإجازة بعد موته، كما في سائر الوصايا. وهذا لأنهم أجازوا قبل تقرر حقهم؛ لأن حقهم إنما يثبت في الحقيقة بعد موت المولى، ولأن إجازتهم في الحياة للاستحياء منه، فلا يكون ذلك دليل الرضا منهم، وإنما دليل الرضا الإجازة بعد الموت.

الدر المختار (6/ 678):

 ( ….. إذا أوصى بالزيادة على الثلث أو لقاتله أو لوراثه فأجازتها الورثة ) حيث لا يكون المنع بعد الإجازة، بل يجبروا على التسليم؛ لما تقرر أن المجاز له يتملكه من قبل الموصي عندنا، وعند الشافعي من قبل المجيز.

رد المحتار (6/ 678):

قوله ( بل يجبروا ) صوابه يجبرون.  قوله ( لما تقرر الخ ) بيان للفرق، وحاصله أن الوصية هنا في مخرجها صحيحة لمصادفتها ملك نفسه والتوقف كان لحق الورثة فإذا أجازوا سقط حقهم فنفذ من جهة الموصي، درر.  قوله ( يتملكه من قبل الموصي عندنا ) فيجبر الوارث على التسليم.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       5/ربیع الاول/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب