| 84818 | خرید و فروخت کے احکام | جو چیز تبعاً فروخت کی جانے والی چیز میں خود بخود داخل ہوتی ہے |
سوال
میں نے ایک نئے بننے والے پلازہ میں زمینی منزل پر ایک دکان خریدی، جس کی تعمیر بیچنے والے ہی کریں گے، دکان ابھی تک بنی نہیں ہے، دکان تعمیر ہونے کے بعد ہم صرف اس دکان کے مالک ہوں گے، اس کے اوپر کچھ نہیں بنا سکتے، اوپر دکانیں بنانے اور بیچنے کا اختیار ان کو ہوگا۔ کیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی، اگر اس معاملے میں کوئی اور خرابی نہ ہو تو یہ شرعا درست ہے، یہ معاملہ اس وجہ سے ناجائز نہیں ہوگا کہ بیچنے والے نے اوپر دکان بنانے کا حق آپ کو نہیں دیا، اپنے پاس رکھا ہے۔
حوالہ جات
فقه البیوع (1/269):
وقد ذكرنا في أوّل البحث أنّ الأئمة الثلاثة يُدخلون بيع المنافع المؤبدة في تعريف البيع، فلا مانع عندهم من جواز هذا البيع، فيجوز عندهم بيع حق المرور ، وحق وضع الخشب على الجدار، وحق البناء على السطح الذي قد يُعبر عنه بحق التعلي. أما الحنفية، فقصروا المال على الأعيان، ولم يُدخلوا فيه المنافع والحقوق. ولكن ألحق مشايخهم الحقوق المتعلقة بالأعيان، مثل حق المرور في أرض معلومة، فجوزوا بيعه في القول المختار عندهم، ولم يجوزوا بيع حق التعلّى، لأنه يتعلّق بالهواء الذي ليس بعين مال . والظاهر أنّ حق التعلي صار الآن متعاملاً به، فالأخذ بقول الأئمة الثلاثة أولى، والله سبحانه أعلم.
المجلة (ص: 43):
مادة 219: كل ما جاز بيعه منفردا جاز استثناؤه من المبيع، مثلا لو باع ثمرة شجرة واستثنى منها كذا رطلا على أنه له صح البيع.
فقه البیوع (2/799):
ما یدخل في البیع وما لایدخل: مسائل هذا الباب متفرعة علی أصول آتیة: الأول: أن کل ما هو متناول اسم البیع بأن یعتبر من أجزائه عرفًا یدخل في البیع، وإن لم یذکر في العقد صراحةً. وهذا مثل من باع دارًا أوشقةً، فإنه یدخل فیه جمیع غرفه، ومطبخه، وبهوه، ودورة المیاه فیه،
فإن اسم الدار یتناول الجمیع عرفًا. ولکن لایدخل فیه عِلوُه إلا بالتصریح؛ لأن لفظ الدار لایتناوله دائما. بخلاف ما إذا باع فِلةً، فهو شامل في العرف للعلو والسفل، فیدخلان في البیع إلا إذا استثنی أحدهما.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
2/ربیع الاول/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


