| 84513 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !وراثت کےمتعلق ایک مسئلہ یہ پوچھناہےکہ میرے دادا كے پاس 100 بیگا زمین ہے، جس میں سے انہوں نے ان کے 3 بیٹوں کو 15-15بیگہ زمین 17 سال پہلے ہی ہبہ کردی تھی،اور بچی ہوئی55 بیگہ انہی كے پاس ہےاور آج بھی ساری زمین میرے دادا كے ہی نام پر ہے۔
میرے والد کو بھی 15 بیگہ زمین دی تھی، لیکن 3 سال پہلے میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔
انتقال كے وقت میرے والد كے پاس ایک مکان تھا، جس میں، میں اور میری والدہ ابھی رہتے ہیں اور 5 لاکھ روپیہ نقد بھی تھے وہ بھی میرے اور میری والدہ كے پاس ہی ہیں۔
میرے والد کا میں ایک ہی بیٹا ہوں اور میری والدہ بھی ہے، اب وہ 15 بیگہ زمین 3 سال سے میرے اور میری والدہ كے پاس ہی ہے، جس پر ہَم کھیتی کرتے ہیں اور سالانہ 2.5 لاکھ کماتے ہیں۔
میرے دادا اور دادی ابھی حیات ہیں، مجھے پہلے شریعت کا یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ میرے والد کی وراثت میں میرے دادا دادی دونوں کا الگ الگ6/1 کا حصہ ہے ، اب میں اپنےدادا دادی کو انکا حصہ دینا چاہتا ہوں۔
میرے دادا اور دادی میرے والد کو یہ زمین دے چکےتھے، لیکن انہیں بھی یہ مسئلہ نہیں معلوم کہ شریعت كے حساب سے میرے والد كے انتقال كے بعد زمین کا 6 / 1 حصہ پھر سے انہی کا ہوگیاہے۔
میرے دادا بہت مالدار ہیں، میرے دادا نے اپنی ساری جائداد میں سے مجھے 3 / 1 حصے کی زبانی وصیت کی ہے کیونکہ میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے ۔
اب شریعت كے حساب سے میرے مرحوم والد کی وراثت میں سے جو حصہ میرے دادا اور دادی کا ہے، اس کا کیا کروں؟
میں انہیں دینے كے لیےتیارہوں، لیکن میں انہیں یہ شریعت کا مسئلہ کیسے بتاؤں؟ مجھے شرم آتی ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے وہ نہیں لیں گے اور مجھ پر ہنسیں گے اور غصہ بھی کریں گے، کیونکہ جو کچھ میرے والد كے پاس زیادہ تر جائیدادتھی وہ میرے دادا نے ہی دی تھی، اب دوبارہ اسی جائیداد میں سے انہی کو حصہ دوں تو کیسا لگے گا؟
1 . کیا دادا اور دادی کو یہ حصہ دینا ضروری ہے ؟
2 . اگر دینا ضروری ہے تو آپ کوئی طریقہ بتا دیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
2،1۔دادااوردادی کاآپ کےوالدصاحب کی میراث میں جتناحصہ بنتاہے،وہ آپ ان کومسئلہ سمجھاکربتادیں،بتانےکےبعد اگروہ اپناحصہ آپ کو اپنی خوشی سےدیدیں گےتووہ آپ کا ہوجائےگا،اوراس طرح آپ کےلیےوالدکاساراترکہ شرعاجائزاورحلال ہوجائےگا۔
ورنہ اگرآپ کومالک بنائےبغیردادادادی کاانتقال ہوگیاتوان کی وفات کےبعدان کاحصہ میراث شمارہوگا،اوروفات کےوقت موجودان کےتمام ورثہ کاحق بن جائےگا،پھرآپ کےمال میں دادادادی کےتمام ورثہ کاحق شامل ہوجائےگا،اس لیےآپ دادادادی کودین کامسئلہ سمجھانےمیں شرم وحیاسےکام نہ لیں،بلکہ اپنےمال میں دوسروں کاحق شامل ہونےسےبچنےکےلیےیہ ضروری ہےکہ ان سےبات کریں،پھراگروہ اپنےحصےآپ کودینےپرراضی ہوں توشرعی اعتبارسےان کاحصہ لینےکی:
ایک صورت تویہ ہوسکتی ہےکہ آپ والد کےپیسوں سےکوئی چیزمثلا کپڑوں کےسوٹ وغیرہ خریدکریاترکہ میں موجودکوئی ایسی چیزیں دادادادی کودیں،جن کووصول کرکےدادادادی زبان سےیہ کہیں کہ اس کےبدلےہم نےاپناحصہ آپ کودےدیا،بلکہ بہترہےکہ کوئی تحریر بھی اس مضمون کی لکھ کران سےسائن کروالیں ۔
دوسری صورت یہ ہےکہ چونکہ اس میں تمام ورثہ کاحق متعلق ہے،لہذا پہلےشرعی حصوں کےمطابق وراثت تقسیم کی جائے،اس کےبعد باقاعدہ دادادادی کی طرف سےاپنی وراثت کاحصہ آپ کوباقاعدہ قبضہ میں دےکرہبہ کردیاجائے۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسي"12 / 83:
ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض عندنا۔۔۔۔وحجتنا في ذلك ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" معناه لا يثبت الحكم وهو الملك إذ الجواز ثابت قبل القبض بالاتفاق والصحابة رضوان الله عليهم اتفقوا على هذا فقد ذكر أقاويلهم في الكتاب ولأن هذا عقد تبرع فلا يثبت الملك فيه بمجرد القبول كالوصية۔
"رد المحتار"23 / 327:
فصل في التخارج:( أخرجت الورثة أحدهم عن ) التركة وهي ( عرض أو ) هي ( عقار بمال ) أعطاه له ( أو ) أخرجوه ( عن ) تركة هي ( ذهب بفضة ) دفعوها له ( أو ) على العكس أو عن نقدين بهما ( صح ) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه ( قل ) ما أعطوه ( أو كثر ) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف ( وفي ) إخراجه عن ( نقدين ) وغيرها بأحد النقدين لا يصح ( إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس ) تحرزا عن الربا ، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا ، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


