03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 بیوی کی طرف سےالزامات عدالت میں ثابت نہ ہوسکیں،تو عدالتی خلع/فسخ نکاح معتبرنہ ہوگا۔
84735طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

سوال:جناب میرا نام سید سمیر میر ہے، میری بیوی کا نام سیدہ افشاں سمیر ہے۔ میری بیوی نے خلع کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ مقدمہ کا نمبر (89-2024) ہے۔

مقدمہ میں مجھ پرجھوٹے الزامات لگائے گئے تھے کہ میں تشدد کرتا ہوں، اپنی بیوی کو نان نفقہ ادا نہیں کرتا اور حق مہر بھی ادا نہیں کیا۔

جب عدالت کا نوٹس مجھے ملا تو میں عدالت میں پیش ہوا اور تحریری جواب بذریعہ وکیل جمع کروایا، جس میں ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے، انہیں جھوٹ اور لغو پر مبنی قرار دیااور ان سے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا گواہی طلب کی، جووہ پیش نہ کرسکے۔اصل حقائق عدالت میں تحریری شکل میں جمع کروادیے۔ 18جولائی2024 کوعدالت نے 08 اگست 2024 کی تاریخ دی،  اس دن میں اور میری بیوی عدالت میں پیش ہوئے ،میری بیوی نے جج سے کہا " میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوں، یہ مجھے یہ مینٹلی ٹارچر کرتا ہے۔ مجھے خلع چاہیے، مجھے طلاق دلوائیں"۔

جج نے مجھ سے سوال کیا، آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا میں اپنی بیوی کورکھنا چاہتا ہوں، میں چھوڑنانہیں چاہتا،ہمارے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،ہماری علیحدگی سے ان کی نفسیات پر بہت برا اثر پڑے گا۔آپ ان سے پوچھیں کہ  میری کس بات سے ان کو مینٹل ٹارچر ہوتا ہے؟ یوں من گھڑت الزام نہ لگائیں۔ مجھ پر مقدمہ میں جو الزامات لگائے گئے ہیں، وہ سب جھوٹے اور حقائق کے منافی ہیں۔

 جج صاحب! میں نے کبھی مار پیٹ نہیں کی، نان نفقہ کی ذمہ داریاں بھی بھرپور اور بروقت ادا کیں، اور حق مہر بھی ادا کیا ہے۔ آپ ان سے پوچھ لیجیے کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ جج صاحب نے میری بیوی سے پوچھاکہ  آپ کو حق مہر ملا؟ جس پر اُس نے اقرار کیا کہ جی ہاں،  حق مہر کی مد میں 50000 روپے ملے تھے۔

پھر جج نے میری بیوی سے پوچھا ،کیا آپ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟ میری بیوی نے منع کر دیا۔

پھر جج نے مجھ سے دوبارہ پوچھا، کیا آپ رکھنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا"جی میں رکھنا چاہتا ہوں، میں بالکل نہیں چھوڑنا چاہتا ،اس طرح  چھوڑنےسےتو میرے تین بچوں کی زندگی بھی خراب ہو جائےگی"

یہ مجھے اصل مسئلہ بتائیں  کیاہے؟وجہ جاننا میرا حق ہے،اگر واقعی میرا کوئی قصور ہے تو میں اس کا ازالہ کرنے کو تیار ہوں، جس پر میری بیوی خاموش رہی۔

  پھر جج نے میری بیوی کے والد سے پوچھا: کیا یہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں؟ جس پر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔

میرے انکار اور بارہا منع کرنے کے باوجود، جج نے  مصالحت کا کوئی موقع دیے بغیر، میری بیوی کو خلع کی ڈگری جاری کر دی، جج نے میری بیوی کو کہا کہ عدت کا شرعی مسئلہ آپ کسی  عالم یا مفتی سے معلوم کر لیں ۔

میں نے بھری عدالت میں سب کے سامنے اپنی بیوی کو کہا" یہ فیصلہ میری مرضی کے خلاف ہے ، میں اس نکاح کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہوں"۔

عدالت نے یکطرفہ طور پر خلع کا حکم جاری کر دیا اور میری  بیوی کو حکم دیا کہ حق مہر کی رقم 50000 روپے عدالت میں جمع کروائیں۔میں نے حق مہر کی رقم وصول نہیں کی، اور نہ میرا وصول کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ ۔ کیونکہ میں نہ تو اس خلع کے حق میں ہوں اور نہ ہی نکاح ختم کرنا چاہتا ہوں۔

01) میری بیوی کا کیس فائل کی کاپی منسلک ہے۔

02) میرا تحریری جواب جو کورٹ میں جمع کروایا کی کاپی منسلک ہے۔ 

03) کورٹ کا آرڈر سمری اور تفصیلی آرڈرکی کاپی منسلک ہے۔

براہ کرم مجھے بتائیں خلع ہو گیاہےیا نہیں؟ میری بیوی ابھی بھی میرے نکاح میں ہے یا نہیں؟

اس خلع سے بچوں کے مستقبل اور ان کی نفسیات پر جو برا اثر پڑے گا اس کا کون ذمہ دار ہوگا؟ اگر اس میں ذرا بھی میری ذمہ داری بنتی ہے تو میں اس کا ازالہ کیسے کرسکتا ہوں؟ موجودہ حالات میں جبکہ میرے دو بچے میرے پاس ہیں اور ایک ڈیڑھ سال کا بچہ اپنی والدہ کے پاس ہے، اس کی بھی تمام معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں میں ادا کر رہا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

منسلکہ عدالتی فیصلہ چونکہ خلع کافیصلہ ہےاورخلع میں شرعا شوہرکی رضامندی ضروری ہے،جبکہ صورت مسئولہ میں شوہرمستقل خلع سےانکاری ہے۔عدالت میں واضح طورپراقراربھی کیاہےکہ "میں بیوی کورکھنےکےلیےتیار ہوں،میراکوئی قصورہےتومیں اس کےازالہ کےلیےبھی تیار ہوں"اسی طرح written statement میں بھی تفصیل سےبیوی کےالزامات کی تردیدکی ہے۔   اس لیےمذکورہ بالایک طرفہ عدالتی خلع   کافیصلہ شرعامعتبرنہیں ہے ۔

دوسری طرف بیوی کی طرف سےلگائےگئےتینوں الزامات(تشددکرنا،نان نفقہ نہ دینا اورمہرادا نہ کرنا) بھی ثابت نہیں ہوسکے،شوہرنان نفقہ بھی مستقل  دیتارہاہے،مہربھی اداکرچکاہے(ان دونوں باتوں کااقرارخودبیوی نےبھی کیاہے)اسی طرح بیوی یااس کےوالدین کےپا س تشددکابھی کوئی ثبوت نہیں۔اس سےیہ واضح ہےکہ موجودہ صورت میں دیگراسباب فرقت(جن صورتوں میں عورت کو عدالت کےذریعہ فسخ نکاح کاشرعااختیارہوتاہے) میں سےکوئی ایک سبب بھی  نہیں پایاجارہا(مثلاشوہرکامتعنت فی النفقہ ہونا(گنجائش کےباوجودنان نفقہ نہ دینا)،مجنون ہونا،عنین(نامرد)ہونایامفقودہونا) اس لیےیہ فیصلہ شرعافسخ نکاح بھی شمار نہیں ہوسکتا،لہذامیاں بیوی کاسابقہ نکاح برقرارہے،بیوی پر لازم ہوگاکہ وہ شوہرکےساتھ  ازدواجی زندگی گزارے،جب تک  شوہرکی طرف سےباقاعدہ طلاق یاشوہرکی رضامندی سےخلع کامعاملہ نہیں ہوجاتا،نکاح برقرار رہےگا۔

جب نکاح ہی ختم نہیں ہواتوعدت وغیرہ کاحکم بھی نہ ہوگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت  229 :

فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔

"زادالمعاد" 2/238 :وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔

"ردالمحتارعلی الدرالمختار"3/444:

وحکمہ ان)الواقع بہ(ولوبلامال)وبالطلاق الصریح)علی مال طلاق بائن(وثمرتہ فیمالوبطل البدل  کماسیجیء۔

"المبسوط" 8 /  311:"قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ( آیت: 227)وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم۔۔۔وهو إشارة إلى أن عزيمة الطلاق بما هو مسموع وذلك بإيقاع الطلاق أو تفريق القاضي ، والمعنى فيه أن التفريق بينهما لدفع الضرر عنها عند فوت الإمساك بالمعروف ، فلا يقع إلا بتفريق القاضي كفرقة العنين ، فإن بعد مضي المدة هناك لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي بل أولى ؛ لأن الزوج هناك معذور وهنا هو ظالم متعنت ، والقاضي منصوب لإزالة الظلم فيأمره أن يوفيها حقها ، أو يفارقها ، فإن أبي ناب عنه في إيقاع الطلاق وهو نظير التفريق بسبب العجز عن النفقة ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/صفر         1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب