03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایلاء کا حکم
84898طلاق کے احکامبیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام  اس بارے میں کہ کیا ایلاء  سے  طلاق واقع ہو جاتی ہے؟میں نے  سنا تھا کہ اس سے  طلاق  واقع ہو جاتی ہے،اس لیے میں نے اپنی بیوی سے قسم کھاکر کہا کہ میں  ساری زندگی تم سے جسمانی تعلق نہیں  رکھوں گا،اب چار مہینے سے زیادہ وقت گزر گیا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے جسمانی تعلق نہیں رکھا  تو کیا بیوی میرے نکاح میں نہیں ہے؟طلاق بائن ہو گئی ہے کیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں بیان کردہ صورت میں آپ نے زندگی بھر بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھائی ہے،اس صورت میں چار

ماہ تک بیوی کے قریب نہ جانے سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے،مزیدبرآں قسم بھی ابھی تک باقی ہے،اگر آپ نے از سر نو نکاح کرکے چار ماہ کے اندر جسمانی تعلق قائم کر لیاتو قسم ٹوٹ جائے گی اورقسمتوڑنے کا کفارہدیناہوگا،قسم کا کفارہ یہ ہے کہ آپ 10مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائیں یاان کو لباس فراہم کریں،اوراگر مالی طاقت نہ ہو تو 3دن مسلسل روزے رکھیں،اور ایلاء ہمیشہ کے لیےختم ہوجائے گا،اگر نکاح کے بعد پھرچار ماہ کے اندر جسمانی تعلق قائم نہ کیاتو دوسری طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اگر آپ نے پھر تیسری مرتبہ نکاح کرلیا تو اسی طرح ہو گا یعنی اگر چار ماہ کے اندر جسمانی تعلق قائم کر لیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اورقسمتوڑنے کا کفارہدیناہوگا ،ورنہ آپ کی بیوی کو تیسری طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور آئندہ کے لیےنکاح کی گنجائش نہیں رہے گی۔ یادرہےکہ ایسی قسم کھانا نکاح کی مصلحت کے خلاف ہے،لہذا اگر کوئی کھا لے تو اسے توڑ دیناچاہیےاوراستغفار بھی کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى :(وحكمه وقوع طلقة بائنة إن بر) ولم يطأ (و) لزم (الكفارة، أو الجزاء) المعلق (إن حنث) بالقربان(و) المدة (أقلها للحرة أربعة أشهر...) (رد المحتار : 424/3 )

في الهندية: وإن لم يقربها في المدة بانت بواحدة كذا في البرجندي شرح النقاية……فإن كان حلف على أربعة أشهر فقد سقطت اليمين، وإن كان حلف على الأبد بأن قال: والله لا أقربك أبدا ،أو قال: والله لا أقربك ولم يقل أبدا فاليمين باقية إلا أنه لا يتكرر الطلاق قبل التزوج فإن تزوجها ثانيا عاد الإيلاء فإن وطئها وإلا وقعت بمضي أربعة أشهر طلقة أخرى ،ويعتبر ابتداء هذا الإيلاء من وقت التزوج، فإن تزوجها ثالثا عاد الإيلاء ووقعت بمضي أربعة أشهر طلقة أخرى، إن لم يقربها كذا في الكافي ،فإن تزوجها بعد زوج آخر لم يقع بذلك الإيلاء طلاق واليمين باقية، فإن وطئها كفر عن يمينه كذا في الهداية (الفتاوى  الهندية: 3/476)

 قال ابن نجيم رحمه الله تعالى :(قوله وإلا بانت) أي إن لم يطأ في المدة، وهي أربعة أشهر وقعت عليه طلقة بائنة ؛لأنه قد وقع التخلص من الظلم، ……..قوله: وبقيت لو على الأبد) أي بقيت اليمين لو كان حلف على الأبد سواء صرح به أو أطلق؛ لعدم ما يبطلها من حنث أو مضي وقت (قوله فلو نكحها ثانيا، وثالثا، ومضت المدتان بلا فيء بانت بأخريين) يعني لو تزوجها بعدما بانت بالإيلاء ثم مضت المدة بعد التزوج الثاني بانت بتطليقة أخرى، وكذا لو تزوجها بعد ذلك ثالثا، ومضت المدة بانت بثالثة( البحر الرائق: 4 /68)

في الهداية: قال: " كفارة اليمين عتق رقبة يجزي فيها ما يجزي في الظهار وإن شاء كسا عشرة مساكين كل واحد ثوبا فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار "والأصل فيه قوله تعالى: {فكفارته إطعام عشرة مساكين} [المائدة: ]89الآية وكلمة أو للتخيير فكان الواجب أحد الأشياء الثلاثة قال:" فإن لم يقدر على أحد الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات.(الهداية:319/2)

واجد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

03/ربیع الثانی6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب