03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بریلوی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے حکم
84437نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میراتعلق دیوبند حنفی مکتبہ فکر سے ہے،میرے گھر کے پاس بریلویوں کی مسجد ہے،جبکہ دیوبندیوں کی مسجد دورہے،کبھی تاخیرہوجانے کی وجہ سے بریلویوں کی مسجد میں جماعت کی نماز پڑھ لیتاہوں،پوچھنایہ ہے کہ کیا بریلوی امام کی اقتداء میں میری نماز ہوجاتی ہے ؟ اگرنہیں ہوتی تو اب تک جو پڑھی ہے اس کاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بریلوی عقائد کے حامل  امام  کے عقائد اگر کفر وشرک کی حد تک نہ ہوں، بلکہ یہ شخص بدعات کا مرتکب ہو جیسا کہ آج کل اکثر بریلویوں کا حال ہے تو عام حالا ت میں اپنے اختیار سے  ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے،البتہ اگر کسی نے پڑھ لی تو نماز  ادا ہو جائے گی ،اُس نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں  ہے،لہذاحتی الامکان کسی ایسے امام کے پیچھےنماز ادا کی جائے جو صحیح عقیدہ والا   اور متبعِ سنت ہو،  تاہم اگر صحیح العقیدہ امام میسر نہ ہو یا اُس کے پیچھےباجماعت  نماز ملنے کی امید نہ ہو تو ایسی صورت میں مسجد کی جماعت نہیں چھوڑنی چاہیے اور مسجد کی جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے ایسے امام کے پیچھے  نماز پڑھ لینا اکیلے نماز پڑھنے سے  بہتر ہے ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية - (1 / 157)

قال بعض مشايخنا: إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة،

فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي - (2 / 182)

لَوْ صَلَّى خَلْفَ فَاسِقٍ أَوْ مُبْتَدِعٍ أَحْرَزَ ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ ، لَكِنْ لَا يُحْرِزُ ثَوَابَ الْمُصَلِّي خَلْفَ تَقِيٍّ ا هـ . يُرِيدُ بِالْمُبْتَدِعِ مَنْ لَمْ يُكَفَّرْ،

الفتاوى الهندية - (1 / 84)

وَلَوْ صَلَّى خَلْفَ مُبْتَدِعٍ أَوْ فَاسِقٍ فَهُوَ مُحْرِزٌ ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ لَكِنْ لَا يَنَالُ مِثْلَ مَا يَنَالُ خَلْفَ تَقِيٍّ. كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ.کذا فی  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 562) کذا فی حاشية الطحاوي على مراقي الفلاح (ص: 204)،

البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي - (1 / 370)

فَالْحَاصِلُ أَنَّهُ يُكْرَهُ لِهَؤُلَاءِ التَّقَدُّمُ وَيُكْرَهُ الِاقْتِدَاءُ بِهِمْ كَرَاهَةَ تَنْزِيهٍ، فَإِنْ أَمْكَنَ الصَّلَاةُ خَلْفَ غَيْرِهِمْ فَهُوَ أَفْضَلُ وَإِلَّا فَالِاقْتِدَاءُ أَوْلَى مِنْ الِانْفِرَادِ وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَحَلُّ كَرَاهَةِ الِاقْتِدَاءِ بِهِمْ عِنْدَ وُجُودِ غَيْرِهِمْ وَإِلَّا فَلَا كَرَاهَةَ كَمَا لَا يَخْفَى.

سیدحکیم شاہ عفی عن

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/محرم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب