03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیرگواہوں کے ایجاب وقبول کیانکاح ہے؟
84436نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

دو بالغ چچازاد کے درمیان ان کی رضامندی سے کچھ اس طرح رشتہ طے ہوا کہ لڑکی اورلڑکے کے گھر والے یعنی والدین ،بھائی ،بہن وغیرہ آپس  میں بیٹھیں،لڑکی کے والدنے ضروری سازوسامان کے مطالبے کے ساتھ اپنی بیٹی کا رشتہ دیدیا اورلڑکے گھروالوں نے قبول کیا،لیکن اس مجلس میں لڑکا اورلڑکی موجودنہیں تھے،پھرایک بعدان دونوں یعنی لڑکا اورلڑکی کے درمیان آپس میں ایجاب وقبول ہوا،مگر تیسرا وہاں کوئی نہیں تھا تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ نکاحِ صحیح ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لڑکا اورلڑکی کے بغیر ہونے والی پہلی مجلس میں کیا جانے والاعمل شرعاً نکاح نہیں، بلکہ صرف وعدہ نکاح ہے، لہذا اس پرنکاح کے احکام جاری نہیں ہونگے ۔

دوسری مجلس جو صرف لڑکا اورلڑکی کے درمیاں ہوئی اوراس میں ایجاب وقبول ہوا وہ بھی چونکہ گواہوں کے بغیر ہوا ہے، لہذا اس سے بھی نکاحِ صحیح منعقد نہیں ہوا،لہذا مذکورہ لڑکا اورلڑکی میاں بیوی نہیں بنے، وہ ایک دوسرے کےلیےبدستوراجنبی ہیں،لہذا نکاح سےحلال ہونے چیزیں ان کےلئے حلال نہیں ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 11):

قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.اھ
الفقه الإسلامي وأدلته - (ج 9 / ص 4):

الخطبة مجرد وعد بالزواج، وليست زواجاً  ، فإن الزواج لا يتم إلا بانعقاد العقد المعروف، فيظل كل من الخاطبين أجنبياً عن الآخر، ولا يحل له الاطلاع إلا على المقدار المباح شرعاً وهو الوجه والكفان، كما سيأتي. نص قانون الأحوال الشخصية السوري (م2) على ما يلي: الخطبة والوعد بالزواج وقراءة الفاتحة وقبض المهر وقبول الهدية، لا تكون زواجاً.

قال فی اللمعات شرح مشکوة فی  باب الوعد :

قیل الخلف فی الوعد بغیر مانع حرام وھو المراد ھھنا وکان الوفاء بالوعد مامورا بہ فی الشرائع السابقة ایضا . اھ

"عن عمران بن حصین، أن النبي صلی اﷲ علیه وسلم قال: لانکاح إلا بولي، وشاهدي عدل". (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۸/۱۴۲، رقم:۲۹۹، مصنف عبد الرزاق، المجلس العلمي۶/۱۹۵، رقم:۱۰۴۷۳)

"ولاینعقد نکاح المسلمین إلابحضور شاهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل، و امرأ تین".(الهداية، کتاب النکاح اشرفیه دیوبند ۲/۳۰۶)

قال: ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح لأن الشرط هو الإشهاد على العقد ولم يوجد وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد والإقرار بالعقد الفاسد ليس بعقد وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا۔(كتاب المبسوط للإمام شمس الدين السرخسي،كتاب النكاح،باب النكاح بغير شهود،5/35،دار الكتب العلمية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

23/01/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب