| 84345 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اقبال صاحب فوت ہوگئے ہیں اوران کی پہلی بیوی ان کی حیات میں ہی وفات پاچکی تھی، ان کا اقبال صاحب سے ایک بیٹا اورایک بیٹی ہے،جبکہ دوسری بیوی حیات ہیں، مگر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے اوروہ 2.5سال سے اقبال صاحب کے بیٹے کےساتھ رہتی ہے،ابھی معلوم یہ کرناہے کہ اقبال صاحب کی میراث میں مذکورہ ورثہ میں سے ہرایک کا کتنا کتنا حصہ بنتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم جاوید اقبال صاحب کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعداگرمرحوم جاویداقبال کے صرف یہی ورثہ ہوں جو سوال میں درج ہیں تو مرحوم کی کل منقولہ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے دوسری بیوی کو12.5%،بیٹی کو% 29.17اوربیٹے کو% 58.33 دیاجائےگا۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


