| 85016 | نماز کا بیان | قضاء نمازوں کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاﷲتعالیٰ وبرکاتہ !
حضرات مفتیان کرام!قضاء عمری کی جو نمازیں ہیں ،وہ مکہ مدینہ میں کیسے ادا کریں گے؟اور ان کی جو سنتیں ہیں ،ان کی کیا ترتیب ہوگی ؟وہ بھی اگرپڑھنی ہیں تو کیا ترتیب ہوگی ؟مکمل تفصیل سے مسئلہ حوالے کے ساتھ بتادیں۔بارک اﷲ لنا ولکم.
سائل سے بذریعہ فون سوال کی وضاحت:
میں عمرہ پہ جارہاہوں،مجھ سے زندگی میں جو نمازیں قضاء ہوئی ہیں ،کیاانہیں مکہ مدینہ میں بھی اسی طریقہ سےپڑھوں گا؟جس طرح ہم اپنے علاقے میں پڑھتےہیں یا وہاں پرجو مخصوص عبادات مثلًاطواف وغیرہ ہیں، ان کی وجہ سے اس پرکوئی فرق پڑےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قضاء عمری کا ضابطہ یہ ہےکہ اگرآپ کے ذمہ قضاء نمازیں کم ہیں توانہیں جلدازجلداداکرلیں اور اگرزیادہ ہیں تو ہرفرض نماز کے ساتھ ایک یادو یاجتنا تحمل ہو،قضاء نمازیں اداکرنے کی ترتیب بنالیں ۔ قضاء نمازوں میں سنتوں کی قضاء نہیں ہوتی۔مکہ اور مدینہ میں قضاءعمری نمازوں کی ترتیب وہی ہے جودوسری جگہوں میں ہے۔
یاد رہےکہ طواف اور عمرہ نیز زیارتِ رسول ﷺ کاموقع صرف حرمین ہی میں مل سکتاہےلہذا قضاء نمازوں کامعمول جاری رکھتے ہوئےزیادہ سے زیادہ وقت عمرہ کے افعال،طواف اورسعی وغیرہ میں لگانے کا اہتمام کریں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الشیخ نظام و جماعۃ من علماء الھندرحمھم اللہ تعالیٰ:ومن حكمه :أن الفائتة تقضی على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة، فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا ، والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منها ركعتين.(الفتاوی العالمگریہ(121/1:
وقالوارحمھم اللہ تعالیٰ أیضاً: وفي الحجة:الاشتغال بالفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المعروفة.(الفتاوی العالمگریۃ(125/1:
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ:وأما النفل ،فقال في المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة.(ردالمحتار علی الدرالمختار(74/2:
قال العلامۃ زین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ :ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة:وقت طلوع الشمس ،ووقت الزوال ،ووقت الغروب ؛فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات؛ لما مر في محله. (البحرالرائق(86/2:
قال العلامۃ علاءالدین الکاساني رحمہ اللہ تعالیٰ:وأما بيان أن السنة إذا فاتت عن وقتها ،هل تقضى أم لا؟ فنقول وباللّہ التوفيق: لا خلاف بين أصحابنا في سائر السنن سوى ركعتي الفجر، أنها إذا فاتت عن وقتها، لاتقضى سواء فاتت وحدها، أو مع الفريضة. (بدائع الصنائع :(287/1
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ : قوله :(والسنة )يوهم العموم كالفرض، والواجب وليس كذلك، فلو قال :وما يقضى من السنة ،لرفع هذا الوهم ،رمليٌ.(ردالمحتارعلی الدرالمختار:(66/2
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13 ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


