03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حصص (Shares)کی تجارت کا حکم
84446خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

میں ایک سوس (Swiss) مشین ساز کمپنی میں کام کرتا ہوں اور ہماری کمپنی اپنے اسٹاف کو 20٪ رعایت پر اسٹاک/شیئرزآفرکرتی ہے،اسٹاک کو (Non voting equity securities Genussscheine) کہا جاتا ہے۔ انویسٹمنٹ پہ ریٹرن یقینی نہیں ہوتا اور تین سال کے لیے اسٹاک نکال یابیچ نہیں سکتے ،البتہ اُسکا ڈیویڈنڈ نکال سکتے ہیں،البتہ نوکری چھوڑنےیانکالے جانے کی صورت میں اسٹاک نکال سکتے ہیں۔تنخواہ میں سے 0.5-10٪ ماہانہ کٹوتی ہوتی ہے، جو کمپنی کا ملازم اپنی پسند سے سال میں ایک مرتبہ سیٹ کرتا ہے جس کو ہر سال تبدیل بھی کرسکتا ہے۔ کیا اسمیں انویسٹمنٹ کرنا یا شیئرز خریدنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسٹاک ایکسچینج میں خریدوفروخت کرنے اور پیسے انویسٹ کرنے کے لیے درج ذیل شرائط کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے:

1۔جس کمپنی کے شئیرز خریدنا چاہتے ہیں اس کا کاروبار حلال ہو، غیر شرعی کاروبار والی کمپنیوں(جیسے کنونشنل بینکوں اور انشورنس کمپنیوں وغیرہ) کے شئیرز خریدنا جائز نہیں ہے۔

2۔کمپنی کا کاروبار شروع ہو چکا اور املاک (عمارتیں، مشینری وغیرہ) وجود میں آ چکی ہوں۔ اگر کاروبار  شروع نہ ہوا ہو اور املاک صرف نقد اثاثوں تک محدود ہوں تو شئیرز کو صرف ان کی  فیس ویلیو (Face value) پر خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس سے کم یا زیادہ میں خریدنا یا بیچنا جائز نہیں ہے۔

3۔ شئیرز خریدنے  میں یہ بھی ضروری  ہے کہ کمپنی  کا اصل کاروبار  حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی  طور پر بھی  کسی ناجائزکاروبار  میں ملوث نہ ہو اوراگر ہو تو اس ضمنی  کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب  اس کی مجموعی  آمدنی  میں معتد بہ مثلا ً  پانچ فی صد   سے زیادہ نہ ہو ( جیسا کہ اس کی پابندی  آج کل کے اسلامی  مالیاتی اداروں  میں کروائی جارہی ہے)، نیزاس صورت میں بھی شئیرز خریدنے والا اس ارادے  سے خریدے  کہ وہ کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات  کرنے سے  ہر طرح  منع کرےگا  ، تحریری  طور پر بھی  اور خصوصاً کمپنی کےسالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا  کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ  نہ کرے اور کم از کم  ہمارا سرمایہ   کسی حرام اور ناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔

4۔شق نمبر 3 کی صورت میں اگر شئیرز اتنے عرصے تک رکھے کہ کمپنی نے ڈیویڈنڈ تقسیم کر دیا تو شئیرز رکھنے والاکمپنی کی انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کتنا نفع ناجائز کاروبار میں ہوا ہے، اس کے حساب سے اپنے نفع میں سے اتنے فیصد حصہ بلا نیت ثواب صدقہ کر دے۔

5۔شئیر ہولڈر ا س بات کا  اہتمام  کرے کہ جس کمپنی  کے شئیرز خریدے ا س کے مجموعی  سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی  کے سود پرلیے گئے  قرضوں کی مقدار بہت زیادہ ( مثلا 33٪ سے زیادہ) نہ ہو۔

6۔ شئیرز خریدنے کے بعد آگے بیچنے سے پہلے ان پر قبضہ کرنا بھی ضروری ہے، قبضہ کئے بغیر  انہیں  آگے فروخت  کرنا شرعاً درست نہیں،  شئیرز پر قبضہ اس وقت شمار ہوگا جب سی ڈی سی میں وہ فروخت کنندہ سے خریدار کے نام پر منتقل ہو جائیں۔ اس کے لیے عموماً "ٹی پلس ٹو" کو معیار بنایا گیا ہے،یعنی ٹرانزیکشن کے بعد دودن گزرجائیں۔

7۔فارورڈ سیل اور فیوچر سیل کی مروجہ صورتیں ناجائز ہیں، الا یہ کہ کوئی کمپنی مستقبل میں شئیرز دینے کا فقط وعدہ کرے اور حقیقی لین دین اس قت ہو جب شئیرز حوالے کیے جائیں، اس صورت میں اس کمپنی کے شئیرز قبضے میں آنے سے قبل آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

8۔کسی کو اس شرط پر شئیر بیچنا کہ فروخت کنندہ اس سے مستقبل میں واپس خریدے گا (جسے بدلہ کہا جاتا ہے) جائز نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بہت سے شیئرزخرید لیتا ہے، مگر اس کے پاس قیمت کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہوتی،  اس لیے وہ شخص یہی شیئرز کسی دوسرے شخص کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ وہ ایک وقتِ مقرر پر زیادہ قیمت پر واپس خرید لے گا)  بیع قبل القبض  اوردوسری  شرط فاسد ( یعنی زیادہ قیمت  پر واپس  خریدنے کی شرط  پر بیچنے ) کی بناء پر جائز نہیں،مزیداس طرح کم قیمت پر نقد بیچ کر واپس زائد قیمت پر خریدنا اگر پہلے سے طے ہوتو یہ ربا کا حیلہ ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔حنابلہ کے ہاں اس کو عکس عینہ کہتے ہیں۔

9۔ اسٹاک ایکسچینج  میں رائج  شئیرز کی بلینک سیل (Blank Sale)  اور  شارٹ سیل (Short Sale)  بھی شرعا ممنوع اور ناجائز ہے، ان دونوں میں شیئرز بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتے، جبکہ  شریعت نے غیر مملوک چیز کی خریدوفروخت کو ناجائز قرار دیا ہے۔

10۔ شیئرز کی خریدوفروخت میں اختیارات (Options) کے سودے کرنا بھی جائز نہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعین قیمت پر ایک متعین وقت کے لیے شیئرز کی خریدوفروخت کا حق حاصل ہوتا ہے اور شیئرز بیچنے والے کے ہی ضمان میں ہوتے ہیں۔

Roche ایک ہولڈنگ (Holding)کمپنی ہے جس کے تحت کئی سبسڈریز (Subsidiaries)آتی ہیں، لہذا یہ تحقیق ضروری ہے کہ وہ سب کمپنیاں حلال کاروبار کرتی ہیں،  چنانچہ اگر یہ کمپنی مذکورہ بالا شرائط کو پورا کرتی ہے تو اس کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے ۔

جہاں تک بات (Non voting equity securities) کی ہے  کہ ان کو تین سال تک نکالا یا بیچا نہیں جاسکتا  تو یہ شرکت مؤقت  کی صورت ہے اور شرکت کو باہمی رضا مندی سے مؤقت کیا جاسکتا ہے، یہ شرعی اصولوں سے متصادم نہیں ہے،لہذا خرید و فروخت کے حوالے سے ان کا حکم بھی کمپنی کے  عام شیئرز کی طرح ہے، اس کے علاوہ تنخواہ سے  جو کٹوتی ہوگی وہ شیئرز کی قیمت ہے اور یہ شیئرز کی ادھار بیع شمار ہوگی کہ شیئرز پر قبضہ ہوگیا،لیکن قیمت بعد میں قسط وار ادا کی جائے گی۔ مستفاد از تبویب(74626)              

حوالہ جات

    فقہ البیوع (1/365،366):

   وبجواز بيع الأسهم أفتى كثير من علماء الهند، مثل: الإمام الشيخ أشرف علي التهانوي  ۔

ولكن هذا الجواز يخضع لجميع شروط البيع؛ فلو كانت الشركة لم تبدأ نشاطها، وكانت موجوداتها مقتصرة على نقود، فإن أسهم تلك الشركة لا تمثل إلا نقوداً، فلو بيع السهم بنقد في هذه الحالة، فإنه لا يجوز بيعها بأقل أو أكثر من قيمتها الاسمية، لأن التفاضل يؤدي إلى الربا۔

 وكذلك إن كانت الشركة تجارتها حراماً، مثل: الشركات التي تتعامل في الخمر أو الخنزير، أو البنوك الربوية، يحرم تداول أسهمها.

أما إذا كانت الشركة نشاطها التجاري حلالاً، ولكنها تودع فائض نقودها في البنوك الربوية، وقد تقترض منها قروضاً ربوية، فاختلفت أنظار الفقهاء المعاصرين في جواز شراء أسهمها؛ فقالت جماعة من العلماء: إنّه لا يجوز شراء أسهمها ؛ لأنّ حامل السهم يشارك في هذه العمليات المحرمة، فكان مثل شراء أسهم الشركات التي نشاطها التجاري حرام. وقال الآخرون: إن إيداع فائض النقود في البنوك الربوية عملية منفصلة عن نشاطها التجاري، فلا يؤثر على أصل النشاط، بشرط أن يكون قليلاً بالنسبة إلى نشاطها الأساسي، وقدره أكثر المجيزين أن يكون مثل هذا الإيداع أقل من ثلاثين في المئة بالنسبة إلى قيمة موجوداتها، والعائد الناتج منها أقل من خمسة في المئة من مجموع إيراداتها، وقالوا: إن حامل السهم يجب عليه أن يرفع صوته في الجمعية العمومية ضد الإقراض أو الاقتراض الربوي، ولكن إذا رفض صوته بالأغلبية، ودخل هذا الكسب المحرم في أرباح الشركة، فإنه يجب عليه أن يتخلص من هذا الكسب المحرم بالتصدق بما يُساوي حصته من الإيراد الذي دخل في الشركة تبعاً من خلال هذا الإيداع.

أما عملية الاقتراض الربوي، فحرام بلا شك، ويأثم بها فاعلها، ولكن المبالغ المقترضة تدخل في ملكه وضمانه، فلا يحرم ما يكسبه بها، وعلى حامل السهم أن لا يأذن لمديري الشركة بهذه التعاملات الربوية برفع صوته في الجمعية العمومية، فإن امتنعوا فهو المقصود، وإن لم يمتنعوا، فلا يُنسب فعلهم إلى حامل السهم، لأن طبيعة الشركة المساهمة مختلفة عن شركة الأشخاص من حيث إن القرارات في الشركة المساهمة تتخذ على أساس الأغلبية، وليس بإجماع الشركاء، كما هو الحال في شركة الأشخاص، فلا تنسب القرارات إلى حامل السهم الذي صرح بإنكاره عليها، وإلى هذا يبدو ميلان شيخ مشايخنا التهانوي ، والله أعلم.

ثم إن كان اقتناء أسهم الشركات جائزاً، انطبق على بيعه وشرائه جميع الشروط الشرعية لجواز البيع وصحته، ولذلك لا يجوز لأحد أن يبيع أسهماً لا يملكها، كما هو معمول به في البورصات، فإن الناس يبيعون أسهماً لا يملكونها، ويُسمونها: (Short Sale) وهو ممنوع في الشريعة قطعاً.

وكذلك يجب أن تكون الأسهم مقبوضةً لدى البائع قبل أن يبيعها إلى آخر، وألا يكون بيعاً مضافاً إلى المستقبل، وألا يستلزم محظوراً آخر، مثل الربا.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

29/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب