03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت پر قرض کا دعوی
83886دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے: ہمارے چچا محمد گلزار کو ہمارے والد نے ایک پلاٹ ہبہ کیا تھا،جس کو بنانے کے لئے انہوں نے ہاؤس بلڈنگ سے اسی ہزار کا قرض انیس سو اسی میں ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن سے لیا تھا اور دو ہزار دو کو واپس کردیا تھا۔چچا کی کوئی اولاد نہیں تھی۔انہوں نے اپنے پہلی بیوی کو دو ہزار دس میں ان کے مطالبہ پر طلاق دے دی تھی۔جس میں مرحوم کی مطلقہ زوجہ نے لکھا تھا کہ مجھے طلاق چاہئے اور میں تم سے اپنے تمام مطالبات اور حقوق معاف کرتی ہوں۔اسی سال چچا نے دوسری شادی کرلی ۔پھر چچا کا دو ہزار اکیس میں انتقال ہوگیا ۔بنوری ٹاؤن نے دو فتووں میں ان کی زوجہ کو پچیس فیصد کا وارث گردانا جبکہ ان کے بڑے بھائی کی نر و ذکور اولاد کو ان کے بقیہ پچھتر فیصد کا وارث قرار دیا۔اب ان کی پہلی بیوی یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ میں نے ان کو مکان بنانے کے لئے سونے کے زیورات دیےتھے۔لہذا مجھے بیس لاکھ روپے زیورات کی جگہ دئے جائیں ۔ان کے علاؤہ اس زیور والی بات کا نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی اس سونے کے وزن کا کوئی ثبوت موجود ہے۔واضح رہے کہ اسی سے نوے کی دھائی تک سونا ڈھائی ہزار تولہ کے درمیان رہا ہے۔اگر دس تولہ بھی زیور مان لیا جائے تو رقم اس دور کی قیمت کے لحاظ سے پچاس ہزار سے زائد نہیں بنتی ہے۔جبکہ اسی اور نوے کے درمیان عام مکان ایک ڈیڑھ لاکھ کی لاگت میں بن جاتا تھا، جبکہ اس مکان کیےلئے اسی ہزار لون لیا گیا تھا۔ہم ان کو حسن نیت سے پانچ لاکھ دینے کو تیار ہیں، مگر ان کا مطالبہ  ہےکہ مجھے بیس لاکھ روپے اور پانچ ہزار روپے ماہانہ ادا کئے جائیں ۔برائے مہربانی اس کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   صورت مسولہ میں آپ کے چچا کی سابقہ زوجہ نے  میت پر قرض کا دعوی کیا ہے، اور ان کے پاس اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے دو گواہ بھی نہیں ہیں، لہذا اب وہ چاہیں تو تمام ورثاء سے قسم لے لیں کہ انہیں اس قرض کا علم نہیں اور نہ ہی ان کے چچا نے انہیں اس بارے میں بتایا ہے، ورثاء قسم اٹھا لیں تو دعوی ختم ہو جائے گا اور اگر قسم اٹھانے سے انکار کریں تو دعوی ثابت ہو جائے گا ، لیکن دعوی ثابت ہونے کی صورت میں بھی آپ  کی چچی کا بیس لاکھ کا مطالبہ درست نہیں؛ کیونکہ پرانےزیورات  قیمی اموال میں سے ہیں اور ان میں اسی وقت کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے جب ان کو لیا گیا ہو ، اس تفصیل کی روشنی میں آپ کی چچی کا شرعی حق بظاہر 5لاکھ سے کم ہی بنتا ہے،اس لئے ان کے لئے یہی مناسب  ہےکہ جو پانچ لاکھ ورثاء باہمی رضامندی سے انہیں دے رہے ہیں اسے قبول کرلیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (25/ 21):

ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال : إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين فإنه ينبغي للقاضي أن يسأل المدعى عليه هل مات أبوه ؟ ولا يأمره بجواب دعوى المدعي أولا فبعد ذلك المسألة على وجهين : إما أن أقر الابن فقال : نعم مات أبي ، أو أنكر موت الأب فإن أقر وقال : نعم مات أبي ؛ سأله القاضي عن دعوى الرجل على أبيه فإن أقر له بالدين على أبيه يستوفى الدين من نصيبه ، ولو أنكر فأقام المدعي بينة على ذلك قبلت بينته وقضي بالدين ويستوفى الدين من جميع التركة لا من نصيب هذا الوارث خاصة .

الفتاوى الهندية (25/ 22):

وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه .

فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔

ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)(5/161):

وفي جامع الفصولين القرض الفاسد يفيد الملك، حتى لو استقرض بيتا فقبضه ملكه، وكذا سائر الأعيان وتجب القيمة على المستقرض۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 296):

قال: "ومن غصب شيئا له مثل كالمكيل والموزون فهلك في يده فعليه مثله" وفي بعض النسخ: فعليه ضمان مثله، ولا تفاوت بينهما، وهذا لأن الواجب هو المثل لقوله تعالى: {فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم} [البقرة: 194] ولأن المثل أعدل لما فيه من مراعاة الجنس والمالية فكان أدفع للضرر.

قال: "فإن لم يقدر على مثله فعليه قيمته يوم يختصمون" وهذا "عند أبي حنيفة. وقال أبو يوسف: يوم الغصب. وقال محمد: يوم الانقطاع" لأبي يوسف أنه لما انقطع التحق بما لا مثل له فتعتبر قيمته يوم انعقاد السبب إذ هو الموجب. ولمحمد أن الواجب المثل في الذمة. وإنما ينتقل إلى القيمة بالانقطاع فتعتبر قيمته يوم الانقطاع. ولأبي حنيفة أن النقل لا يثبت بمجرد الانقطاع، ولهذا لو صبر إلى أن يوجد جنسه له ذلك، وإنما ينتقل بقضاء القاضي فتعتبر قيمته يوم الخصومة والقضاء بخلاف ما لا مثل له؛ لأنه مطالب بالقيمة بأصل السبب كما وجد فتعتبر قيمته عند ذلك.

قال: "وما لا مثل له فعليه قيمته يوم غصبه" معناه العدديات المتفاوتة، لأنه لما تعذر مراعاة الحق في الجنس فيراعى في المالية وحدها دفعا للضرر بقدر الإمكان.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 223):

ال - رحمه الله -: (وما لا مثل له فقيمته يوم غصبه) أي ما لا يضمن بالمثل تعتبر قيمته يوم غصبه، وهذا بالإجماع؛ لأنه تعذر اعتبار المثل صورة ومعنى، وهو الكامل فيجب اعتبار المثل معنى، وهو القيمة؛ لأنها تقوم مقامه ويحصل بها مثله واسمها ينبئ عنه۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 183):

 (قوله (في القيمى)يوم غصبه إجماعا) هذا في الهلاك كما هو فرض المسألة. قال القهستاني: أما إذا استهلكت فكذلك عنده وعندهما يوم الاستهلاك اهـ. وفي جامع الفصولين: غصب شاة فسمنت، ثم ذبحها ضمن قيمتها يوم غصب لا يوم ذبحه عنده وعندهما يوم ذبحه، ولو تلف بلا إهلاكه ضمن قيمتها يوم غصب.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

17/ ذیقعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب