03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفریہ کلمات کہنے کی وجہ سے طلاق کا حکم
84828ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

ابھی کچھ دن پہلے میرے شوہر نے الٹی سیدھی باتیں کی کہ میری نظر میں پہلے پیسہ ہے پھر خدا ہے۔نماز پڑھنے سے پیسے نہیں آتے۔میرا ابورشن کروا دیا ،کیونکہ کہ یہ نہیں مانتے کہ اولاد کے نصیب کا رزق اللہ دیتا ہے۔میری دو طلاقیں پہلے بھی ہوئی ہیں، تو ایسی صورت میں کیا  میرا نکاح باقی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ جملوں میں جہاں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالی کی  صفت رازقیت کی نفی لازم آتی ہے ،وہیں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالی اسباب اختیار کئے بغیر رزق نہیں دیتے،اس لئے جب تک مذکور ہ جملے کہنے والے کی مراد اور قصد وارادہ واضح نہ ہو تب تک اس کے متعلق کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔لہذا اگر اعتقاد یہ ہے کہ اللہ تعالی   اولاد کا رزق  اسباب اختیار کرنے کے باوجود بھی نہیں دیتے تو ان کلمات کی وجہ سے کفر لازم آئے گا  ،جس کے نتیجے آپ کا نکاح  فسخ ہوجائے گاا ور تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی ضروری ہوگا۔ واضح رہے کہ اس صورت میں  فسخ نکاح کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔اور اگر اعتقاد یہ ہے کہ بلا اسباب  اللہ تعالی رزق نہیں دیتے تو کفر لازم نہیں آئے گا اور آپ کا نکاح باقی ہے، البتہ  اس طرح کے مشتبہ الفاظ کے استمال سے احتراز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 224):

لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره. أقول: قدمت هذا ليصير ميزانا فيما نقلته في هذا الفصل من المسائل، فإنه قد ذكر في بعضها إنه كفر مع أنه لا يكفر على قياس هذه المقدمة فليتأمل اهـ ما في جامع الفصولين وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 193):

(وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء. قال ابن عابدین رحمہ اللہ:

"(قوله فلا ينقص عددا) فلو ارتد مرارا وجدد الإسلام في كل مرة وجدد النكاح على قول أبي حنيفة تحل

امرأته من غير إصابةزوج ثان بحر عن الخانية".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 134)

 وفي التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

20/ صفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب