03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ، تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی رقم کی تقسیم
85037میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال 2016ء میں ہوا، ان کے انتقال کے وقت ان کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا، ہم پانچ بہنیں اور تین بھائی ہیں، جبکہ والدہ بھی حیات ہے۔ والد مرحوم کی ایک آٹا چکی تھی جسے والدہ کے بقول 2024ء میں انہوں نے اور بھائی نے چودہ (14) لاکھ میں فروخت کیا ہے، اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکے یعنی میراث کے ساتھ چار حقوق کا تعلق ہوتا ہے، سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنا، البتہ اگر یہ اخراجات کوئی اپنی طرف سے بطورِ احسان کرلے تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا، اس کے بعد اگر اس پر کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنا، اس کے بعد اگر اس نے غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی تک اس کو پورا کرنا، ان تینوں حقوق کے بعد ورثا کی باری آتی ہے اور باقی مال ان میں تقسیم ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد صاحب کے ابتدائی تین حقوق میں سے کوئی حق نہیں ہے یا وہ سب باقی ترکہ سے ادا ہوچکے ہیں تو آٹا چکی کے چودہ لاکھ روپے کو کل اٹھاسی حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے مرحوم کی بیوہ کو گیارہ حصے، تین بیٹوں میں سے ہر ہر بیٹے کو چودہ، چودہ حصے اور پانچ بیٹیوں میں سے ہر ہر بیٹی کو سات، سات حصے دئیے جائیں، لہٰذا:

  • آپ کی والدہ کو (175,000) روپے ملیں گے۔
  • آپ تین بھائیوں میں سے ہر ایک کو (222,727.27) روپے ملیں گے۔
  • پانچ بہنوں میں سے ہر ایک کو (111,363.63) روپے ملیں گے۔
حوالہ جات

     القرآن الکریم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ……….وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ } [النساء: 11]

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       16/ربیع الثانی/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب