03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سروے میں کسی کےمکان کو اپنے نام پر لکھ دینا
85098غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!

مفتی صاحب!میرا  نام محمد یاسر ہے ،میراتعلق ضلع مظفرگڑھ پنجاب سے ہے، میرا مکان سیلاب میں مکمل گر گیا تھا،اس کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے سروے کیا گیا تھا  تو اُس وقت میں وہاں موجود نہیں تھا تو میرا چھوٹا بھائی محمد عامر، جو اس وقت شادی شدہ نہیں تھا،اس نے میرے گھر کے ملبے پہ کھڑے ہو کر سروے کروادیا ،جب میں گھر آیا  تو  اُس کو کہا کہ آپ نے میرے گھر پے اپنا سروے  کیو ںکروایا ہے  ؟ تو عامر بھائی نے کہا کہ جو کچھ بھی گورنمنٹ کی طرف سےملے گامیں آپ کو دو ں گا۔ دو سال بعد گورنمنٹ کی طرف  سےمکان الاٹ ہواتو  اس میں بھائی عامر کا  ہی نام تھا ۔  جب عامر بھائی کو میں نے کہا کہ مکان مجھے دو ؛کیونکہ مکان تو میرا گرا تھا اور اِس پر میرا حق ہے تو اس نے میراحق نہیں دیا ـ اب کیا اِس مکان پر میرا حق ہے، یا  عامر کا حق ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں عامرنےاپنےنام پرمکان الاٹ کرواکردھوکہ دیاہے،جو کہ سخت گناہ اور حرام ہے۔لہذاعامر کوچاہیےکہ مکان یاسرکودیدے ،یہ شرعًا یاسرہی کاحق ہے۔دوسرامکان ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یاسر کویہ مکان نہ دیا جائےیاشرعًااس کا حق نہیں بنتا ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ : وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم.

(الدر المختار :5/ 688)

وفی الھندیۃ:وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ. (الفتاوى الهندية :4/ 374)

قال العلامۃ ابن النجیم رحمہ اللہ :وحكمها ثبوت الملك للموهوب له، غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها.(البحر الرائق: 7/ 284)

قال العلامۃ سلیم رستم باز رحمہ اللہ:لایجوزلأحدأن یتصرف في ملک غیرہ بلاإذنہ،أووکالۃ منہ أوولایۃ علیہ،وإن فعل کان ضامنا. (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز:1 / 61    رقم المادۃ:961)

قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ: وعلى الغاصب رد العين المغصوبة ،معناه ما دام قائما؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: على اليد ما أخذت حتى ترد،وقال عليه الصلاة والسلام: لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا، فإن أخذه فليرده عليه. (الهداية:4/ 296)

قال العلامۃ الزیلعی رحمه الله: ويجب رد عينه….. لقوله عليه الصلاة والسلام :على اليد ما أخذت حتى ترد،ولقوله صلى الله عليه وسلم :لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه. (تبيين الحقائق :5/ 222)

قال العلامۃ قاسم الحنفی رحمہ اللہ :وعلى الغاصب رد العين المغصوبة على مالكها.

(التصحيح للقدوري : 299 )    

محمدادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

12ربیع اثانی1446/ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن غلام محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب