03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اس کواپنے گھر لے جاؤ” سے طلاق کاحکم
84616طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میاں بیوی کے درمیان باہمی اختلاف ہوگیا،بیوی نے زہر کھانے کی کوشش بھی کی ،پھر صلح کی غرض سے خاندان کے کچھ افراد جمع ہوگئے،اس دوران خاوند نے کہا: "مجھے میری بیوی کسی بھی صورت نہیں چاہیے"،"اس کو اپنے گھر لے کر جاو"،اب بقول شوہر اس کی نیت طلاق کی تھی ، تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے جملے "مجھے میری بیوی کسی بھی صورت نہیں چاہیے" سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،دوسرے جملے"اس کو اپنے گھر لے کر جاو"سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے،بیوی نکاح سے نکل چکی ہے،عدت کے اندر یا عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية  (8 / 323):

"إذا قال: لاأريدك أو لاأحبك أو لاأشتهيك أو لا رغبة لي فيك؛ فإنه لايقع وإن نوى في قول أبي حنيفة -رحمه الله تعالى-، كذا في البحر الرائق".

وفی البدائع  (3 / 187):

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد"

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

14/ صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب