03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہنوئی کی دھمکی کی وجہ سےتحریری طلاقنامہ پر دستخط کرنے کاحکم
84444طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

میں نے رازداری میں دوسری شادی کی، لیکن میرے گھر والوں نے ،معلوم ہونے،مجھے اپنی دوسری بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کیا ،تاکہ میرے بہنوئی کو میری بہن کو طلاق دینے سے روکا جا سکے۔ میرا بہنوئی میری پہلی بیوی کا بھائی ہے،دباؤ ڈالنے کے لیے اس نے میری بہن کو پہلی طلاق دے دی،بہت زیادہ خاندانی دباؤ کے تحت میں نے طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیے،حالانکہ میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں نے یہ طلاق منہ سے نہیں بولی، قرآنی اصولوں اور سنت کی تعلیمات کی روشنی میں، کیا آپ اس طلاق کے عمل کے جواز اور قانونی حیثیت کو واضح کر سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ظن غالب یایقین ہوکہ طلاق نامہ پر دستخط نہ کیے تو بہنوئی آپ کی بہن کو مزید طلاق دے گا،اوریہ امر آپ اور آپ کے خاندان کے لیے قابل برداشت نہ ہوگا ،خاندان نے اس خطرے کے پیش نظر آپ پراس قدر دباؤ ڈالا کہ آپ مجبور ہوگئے،نیز دستخط کرتےوقت  طلاق کی نیت بھی  نہیں تھی اور نہ ہی زبان سے طلاق کےکوئی الفاظ ذکر کیےہیں ،تو اس صورت میں دیانةً طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، دیانةً کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی بیوی اس طلاقنامے کو دلیل بناکر طلاق کا دعوی نہیں کرتی تو طلاق نہیں ہوتی ہے ۔

حوالہ جات

حاشية رد المحتار" 3 / 271:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا۔"

"رد المحتار" 10 / 458:

"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ،لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔"

"رد المحتار "(130/6):

(قوله: أو حبس) أي حبس نفسه قال الزيلعي: والإكراه بحبس الوالدين أو الاولاد لا يعد إكراها لأنه ليس بملجئ ولا يعدم الرضا بخلاف نفسه اه. لكن في الشرنبلالية عن المبسوط: أنه قياس وفي الاستحسان حبس الأب إكراه. وذكر الطوري أن المعتمد أنه لا فرق بين حبس الوالدين والولد في وجه الاستحسان زاد القهستاني أو غيرهم: من ذوي رحم محرم وعزاه للمبسوط.

"رد المحتار" (6 / 128):

"(و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال۔" 

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

30/ محرم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب