| 84204 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کا ایک تین منزلہ گھر ہے،ہم اس میں مل کررہاکرتے تھے،ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں،والدہ بھی حیات ہیں،والدصاحب کے انتقال کے بعد میری شادی ہوئی اور میں شادی کے بعد اسی گھر میں جوائنٹ فیملی میں رہنے لگا،کچھ عرصہ بعد والدہ نے یہ فیصلہ کیاکہ مجھے گھر چھوڑنا پڑے گا،کچھ تنازع کی وجہ سے مجھے اپنی فیملی یعنی بیوی بچے کو لے کرالگ ہونا پڑا،اس گھر کےلیے کیا شرعی حکم ہے؟ کیونکہ میری والدہ اور بھائیوں کا یہ اجتماعی فیصلہ ہے کہ میں گھر اب واپس نہیں آسکتا،جب گھر فروخت ہوجائے گا تو مجھے میرا حق دیدیا جائے گا،میری والدہ اور بھائی ،بہن اس گھر میں رہتے ہیں،گھر فروخت ہونے میں کافی مشکلات ہیں،اور کتنا وقت لگ جائے اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں ،مجھے ضرورت ہے کیونکہ میں تقریبا تین سال سے الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں،کوئی ایسی صورت بیان فرمادیں کہ گھرکے فروخت ہوئے بغیر مجھے میرا حصہ ملتا رہے ،جب تک میں الگ رہتاہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس مکان میں آپ کا بھی حصہ ہے ، اس لیے آپ کو اس میں شرعا رہنے کا حق ہے،تاہم جب وہاں رہنا کسی عذر کی بناء پر مشکل ہے،تو بھائیوں کو چاہیے کہ گھر میں آ پ کے حصے کے مطابق کرایہ کی رقم کی ادائیگی کریں،یا کرایہ کے گھر ،جس میں آپ رہائش پذیر ہیں،کا کچھ کرایہ اپنے ذمہ لے لیں، اس طرح باہمی تعاون سے اصل گھر بکنے تک رہنا آسان ہوجائے گا۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


