03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آخری قعدہ میں امام سے پہلے تشہد مکمل ہونے پر مقتدی کیا کرے؟
85024نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

اگر مقتدی قعدہ اخیرہ میں امام سے پہلے فارغ ہوجائے تو امام کے سلام پھیرنے تک مقتدی کےلیے خاموش رہنا اولی ہے یاپھر دعا وغیرہ پڑھنا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قعدہ اخیرہ میں  اگر مقتدی نے امام سے پہلے تشہد پڑھ لیا تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر مقتدی مدرک (شروع سے امام کے ساتھ شریک ) ہے، تو وہ تشہد درود اور دعا کے بعد  مزید  درود شریف یا وہ دعا ئیں پڑ ھ سکتا ہے ، جو قرآن وحدیث میں منقول ہیں۔ اور اگر مقتدی مسبوق ہو یعنی ( جس کی کچھ  رکعتیں نکل گئی ہوں) تو اس  کے لئے  حکم   یہ ہےکہ وہ قعدہ اخیرہ میں  التحیات اس طرح ٹھہر ٹھہر کر  پڑ ھے گا،  کہ امام کے سلام  پھیرنے تک  ختم  کر لے، اور اگر اس نے اما م سے پہلے التحیات مکمل کر لی ہو تو پھر خاموش رہے گا یا ایک قول کے مطابق  تشہد)اشھد ان لا اله الا الله(کو آہستہ آہستہ دہرانا بھی جائز  ہے۔

حوالہ جات

 خلاصةالفتاوي (1 /160):

المقتدي إذا فرغ من التشهد في القعدة الاخيرة قبل إلامام واشتغل بالصلوات والدعوات فلما فرغ الإمام وهوقد قرأالدعوات لا يكره۔

الفتاوی الهنديۃ (1/149):

ومنها أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات ثم ماذا يفعل تكلموا فيه وعن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله أشهد أن لا إله إلا الله وهو المختار كذا في الغياثية والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتى يفرغ عند سلام الإمام كذا في الوجيز للكردري وفتاوى قاضي خان وهكذا في الخلاصة وفتح القدير۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

11/ ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب