| 85985 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
اسلامی بینکوں کی جانب سے پیش کیے جانے والےعقد مرابحہ کی تفصیلات اور اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرابحہ شریعت میں ایسے معاملے کا نام ہے جس میں سامان کا مالک سامان بیچتے ہوئے خریدار کو بتائے کہ یہ سامان اس نے کتنے میں خرید ایا اس پر کتنی لاگت آئی اور اس کی بنیاد پر اس کا نفع طے کرے۔
اسلامی بینکاری میں مرابحہ کا جو طریقہ کا رائج ہے وہ مرابحہ کے عام تصور سے تھوڑا مختلف ہے جس کاحاصل یہ ہے کہ :
1. ۔پہلے بینک اور کلائنٹ کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے، جس کو بینکنگ کی اصطلاح میں (master facility agreement murabaha) کہتے ہیں۔ اس معاہدہ میں کلائنٹ ، بینک سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ مطلوبہ سامان بینک سے خریدے گا۔ اس کے علاوہ سامان کی قیمت، بینک کا نفع اور ادائیگی کا طریقہ کار اور دیگر معاملات کی تفصیلات طے کی جاتی ہیں۔
2. اس کے بعد بینک مطلوبہ سامان خریدتا ہے، لیکن عموما بینک اسی کلائنٹ کو اپنا وکیل مقرر کرتا ہے کہ وہ بینک کی وکالت و نیابت میں جا کر مطلوبہ سامان خرید لے۔
3. سامان کلائنٹ کو موصول ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے قبضہ میں لاکر بینک کو اطلاع کر دیتا ہے۔ کلائنٹ جب تک یہ سامان بینک سے خرید نہ لے، سامان بینک کی ملکیت میں ہوتا ہے اور سامان کے تلف یا ضائع ہونے یا کسی نقصان کی صورت میں بینک اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
4. پھر ایک الگ معاہدہ (execution of murabaha) کے تحت کلائنٹ ، بینک سے وہ سامان خرید لیتا ہے اور اس کی ملکیت حاصل کرتا ہے ، کلائنٹ عموما سامان کی قیمت قسطوں میں بینک کو ادا کرتا ہے۔ ان تمام مراحل سے وجود میں آنے والے عقد کو آج کل کی اصطلاح میں "المرابحة للأمر بالشراء "اور انگریزی میں اسے (murabaha to the purchase order) کہتے ہیں ۔
حوالہ جات
سورة البقرة –( آیت 275):
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا . الاية
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 132):
المرابحة بيع ما ملكه بما قام عليه ويفضل
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/جمادی الثانیہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


