03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ کے دن عصرکے بعد درودشریف کی فضیلت سے متعلق احادیث کی تحقیق
63134حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سوال:بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جوشخص جمعہ کے دن عصرکی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے یہ خاص درود شریف پڑھے:

اللھم صل علی محمدالنبی الامی وعلی آلہ وسلم تسلیما۔تواس کے اگلے اورپچھلے80سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔گزارش یہ ہے کہ اس کی پوری وضاحت کردیجئے،کسی لحاظ سے اس میں کوئی شک وشبہہ نہ ہو۔اوراس کے راوی کون ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جمعہ کے دن 80دفعہ درودپڑھنے سے متعلق روایات میں مختلف الفاظ  مذکورہیں،تقریباچارطرح کی روایات  ملتی ہیں،اوریہ روایات مجموعی طورپرتین حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل کی گئی ہیں:

1. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

2. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ

3. حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

روایات کےمختلف الفاظ  میں سےپہلی اورتیسری روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے،دوسری حضرت سہل بن عبداللہ سے،جبکہ چوتھی روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے۔

پہلی روایت:

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" 198:

وفي لفظ عند ابن بشكوال من حديث أبي هريرة أيضاً" من صلى صلاة العصر من يوم الجمعة فقال قبل أن يقوم من مكانه اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليماً ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً وكتبت له عبادة ثمانين سنة "ونحوه عن سهل كما سيأتي ۔

دوسری روایت:

 "القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"199:

وعن سهل بن عبد الله قال من قال في يوم الجمعة بعد العصر اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى إله وسلم ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً أخرجه ابن بشكوال وقد تقدم قريباً في حديث أبي هريرة معناه، وعن أنس رفعه من صلى علي يوم الجمعة صلاة واحدة صلى الله عليه وملائكتة ألف ألف درجة في الجنة. قلت: ولم أقف على أصله وأحسبه غير صحيح بل أجزم ببطلانه والله أعلم۔

تیسری روایت:

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"198:

 وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً أخرجه ابن شاهين في الأفراد وغيرها وابن بشكوال من طريقه وأبو الشيخ والضياء من طريق الدارقطني في الأفراد أيضاً والديلمي في مسند الفردوس وأبو نعيم وسنده ضعيف وهو عند الأزدي في الضعفاء من حديث أبي هريرة أيضاً لكنه من وجه آخر ضعيف أيضاً وأخرجه أبو سعيد في شرف المصطفى من حديث أنس والله أعلم۔

چوتھی روایت:

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"198:

وعند الدارقطني مرفوعاً بلفظ من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين سنة قيل يارسول الله كيف الصلاة عليك قال تقول اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك، النبي الأمي وتعقد واحدة: قلت: وحسنه العراقی ومن قبله أبو عبد الله بن النعمان ويحتاج إلى نظر وقد تقدم نحوه من حديث أنس قريباً۔

مذکورہ روایات میں سے ہرایک پرتفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔

پہلی روایت

وہی ہے،جس کاآپ نے تذکرہ کیاہے"جس نے جمعہ کے دن عصرکے بعداپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے پہلے  اللھم صلی علی محمد النبی الامی وعلی الہ وسلم تسلیما۔80 دفعہ پڑھا تواس کے 80سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے"،لیکن اس کے آخر میں اس کابھی اضافہ ہے"اوراس کےلئے 80سال کی عبادت بھی لکھی جائے گی"۔

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" 198:

وفي لفظ عند ابن بشكوال من حديث أبي هريرة أيضاً" من صلى صلاة العصر من يوم الجمعة فقال قبل أن يقوم من مكانه اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليماً ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً وكتبت له عبادة ثمانين سنة "ونحوه عن سهل كما سيأتي ۔

مذکورہ حدیث علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالی نے القول  البدیع میں بحوالہ ابن بشکوال  ذکر فرمائی ہے،لیکن اس روایت کی سند یاحکم نقل نہیں فرمایااورتلاش کے باوجودمذکورہ روایت نہیں مل سکی،علامہ ابن بشکوال کی کتاب القربہ الی رب العالمین میں جوروایت منقول ہےوہ بعینہ یہی روایت نہیں،بلکہ علامہ سخاوی کی روایت سے کچھ مختلف ہے جوآگےتیسری روایت کے تحت  تفصیل سے آرہی ہے،چونکہ یہ روایت نہیں مل سکی،اس لئےاس کودلیل کے طورپرپیش کرنا صحیح نہیں۔

واضح رہے کہ علامہ سخاوی اورابن بشکوال دونوں ہی اعلی پایہ کے محدث ہیں،اسی طرح علامہ سخاوی کی کتاب القول البدیع( جس میں مذکورہ حدیث ذکرکی گئی ہے)کوبھی کواللہ تعالی نے بڑی مقبولیت اورجامعیت سے نوازاہے،اس لئےدونوں حضرات سےاس بات کاامکان نہیں کہ کوئی حدیث بغیرکسی سندکے ذکرکردی ہو،یقینااس کی کوئی مقبول سند ہوگی،لیکن ہمیں نہ مل سکی۔واللہ اعلم

علامہ ذہبی نے ابن بشکوال کوامام،حافظ،متقن، اوراس طرح کےدوسرے القابات سے نوازاہے۔

اسی طرح علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالی بھی علامہ ابن حجرکےشاگردوں میں سےہیں،ابن حجر نے ان کے بارےمیں فرمایا"میرے ممتازشاگردوں میں سےہیں"،بلکہ یہاں تک بھی کہاگیاہے کہ علامہ ذہبی کے بعدان کےعلاوہ کوئی شخص ایساپیدانہیں ہواجوان کی راہ پرچلا ہو۔

اسی طرح علامہ سخاوی کی کتاب"القول البدیع" کے بارے میں ابن حجر ہیثمی مکی شافعی(المتوفی974 ھج)الدرالمنضودکے مقدمہ میں فرماتے ہیں:یہ کتاب ترتیب اوروضع کے اعتبارسےسب سے عمدہ اورتحقیق اورابحاث کی تقسیم کے اعتبارسےسب سے آگےہے،حافظ مرتضی زبیدی حنفی (المتوفی 1205)"شرح احیاء العلوم"میں لکھتے ہیں کہ درودشریف کے باب میں یہ کتاب سب سے بہترین تصنیف ہے،شیخ الشیوخ علامہ نبھانی اپنی کتاب "سعادۃ الدارین" میں لکھتے ہیں:اس فن کی تمام کتب میں سب سے عمدہ،جامع،افضل،اورفائدہ مندکتاب ہے۔

"تذكرة الحفاظ وذيوله للذھبی "4 / 90:

الطبقة السابعة عشرة: وعدتهم أربع وعشرون نفسًا:

ابن بشْكُوال الحافظ الإمام المتقن, أبو القاسم خلف بن عبد الملك بن مسعود بن موسى بن بشكوال بن يوسف بن داحة الأنصاري الأندلسي محدث الأندلس ومؤرخها:

ولد سنة أربع وتسعين وأربعمائة، وسمع أباه وأبا محمد عبد الرحمن بن محمد بن عتاب فأكثر، وأبا بحر بن العاص وأبا الوليد بن رشد الفقيه وأبا الوليد بن طريف وأبا القاسم بن بقي وشريح بن محمد والقاضي أبا بكر بن العربي وطبقتهم, وأجاز له أبو علي بن سكرة الصدفي وأبو القاسم بن منظور، ومن بغداد هبة الله بن أحمد الشبلي وآخرون، وصنف معجمًا لنفسه. قال أبو عبد الله الأبار: كان متسع الرواية شديد العناية بها عارفًا بوجوهها حجة مقدمًا على أهل وقته حافظًا حافلًا أخباريًّا تاريخيًّا ذاكرًا لأخبار الأندلس، سمع العالي والنازل وأسند عن شيوخه أزيد من أربعمائة كتاب بين صغير وكبير، ورحل إليه الناس وأخذوا عنه وحدثنا جماعة عنه ووصفوه بصلاح الدخلة وسلامة الباطن وصحة التواضع وصدق الصبر للطلبة وطول احتمال۔۔

"فهرس الفهارس والأثبات"2 / 437:

 السخاوي:هو الإمام الحافظ الشهير شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن السخاوي نسبة إلى سخا قرية من أعمال مصر المصري الشافعي ولد في ربيع الأول عام 831 وحفظ القرآن واشتغل بالعلم وأوقع الله في قلبه محبة شيخه الحافظ ابن حجر فلازمه واختص به في هذا الشأن قال عنه ابن روزبهان في شرح الشمائل الشيخ أبو الخير رحلة الزمان وحافظ العصر فريد مصره لازم المشايخ وصاحب الحافظ ابن حجر سنين متطاولة وأثنى عليه الحافظ ابن حجر في كتبه سيما في الطبقات۔

"شذرات الذهب في أخبار من ذهب"7 / 14:

 الحافظ شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن أبي بكر بن عثمان بن محمد السخاوي الأصل القاهري المولد الشافعي المذهب نزيل الحرمين الشريفين ولد في ربيع الأول سنة إحدى وثلاثين وثمانمائة۔۔۔وسمع الكثير على شيخه الحافظ ابن حجر العسقلاني ولازمه أشد الملازمة وحمل عنه ما لم يشاركه فيه غيره وأخذ عنه أكثر تصانيفه وقال عنه" هو أمثل جماعتي "وأذن له ۔

"الدر المنضود في الصلاة والسلام على صاحب المقام المحمود": 34:

فلا ترى منهم من أحاط ببعض كتب هذا المقصد الأسنى إلا الشاذ النادر، الذي خلصه الله تعالى من الحظوظ والعنا؛ لاشتمالها على بعض البسط وزيادة التأصيل والتفريع، ككتاب الحافظ «1» المسمى ب «القول البديع» ، هذا مع أنه أحسنها جمعا، وأحكمها وضعا، وأحقها بالتقديم، وأولاها بالإحاطة، بما فيه من التحقيق والتقسيم۔

دوسری روایت

سابقہ روایت کی طرح ہے،البتہ  فرق اتناہے کہ آخرمیں وسلم ہے،تسلیمانہیں ہے،قبل ا ن یقوم(اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے)  کالفظ نہیں،اسی طرح 80سال کی عبادت لکھے جانے کاذکرنہیں،صرف 80سال کے گناہوں کی معافی کاذکرہے۔

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"199:

وعن سهل بن عبد الله قال من قال في يوم الجمعة بعد العصر اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى إله وسلم ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً أخرجه ابن بشكوال وقد تقدم قريباً في حديث أبي هريرة معناه، وعن أنس رفعه من صلى علي يوم الجمعة صلاة واحدة صلى الله عليه وملائكتة ألف ألف درجة في الجنة. قلت: ولم أقف على أصله وأحسبه غير صحيح بل أجزم ببطلانه والله أعلم۔

"القربۃ الی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین"114:

قال شیخنا ابوالقاسم :روینا عن سھل بن عبداللہ بمن قال فی یوم الجمعۃ بعدالعصر اللھم صلی علی محمد النبی الامی وعلی آلہ وسلم ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوب ثمانین سنۃ ۔

علامہ ابن بشکوال نے اس روایت کی سند ذکرنہیں فرمائی ،اس بناء پرکسی محدث نے صحیح،حسن یاضعیف ہونے کاحکم نہیں لگایا،البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی محدث نے اسے موضوع بھی نہیں کہا،موقوفایہ روایت اسی طرح بیان کی گئی ہے۔

علامہ ابن بشکوال نےشیخناابوالقاسم کاذکرفرمایاہے،اورانہی کےبارےمیں ابن بشکوال اپنی دوسری(تاریخ کی) کتاب "الصلۃ" میں فرماتےہیں’’موصوف کا تعلق انتہائی شریف ،علمی اور پاکیزہ خاندان سے تھا۔ نِت نئے مسائل کا خوب استحضار اور فتویٰ نویسی میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ شرائط اورعلل ِ حدیث میں بصیر ت انتہاء  درجہ کی تھی۔ لوگوں نے ان سے خوب علم حاصل کیا۔ میں نے بھی ان سے استفادہ کیا اور انہوں نے کئی مرتبہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر مجھے اجازت دی۔‘‘

پھرشیخ ابوالقاسم اپنے استاد،بقیۃ الشیوخ، محدثِ اندلس، فقیہ وقت ابو عبداللہ محمد بن الفرج قرطبی مالکی (۴۰۴ھ - ۴۹۷ھ)کے شاگردوں میں سے تھے۔

  حافظ ذہبی ان کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’و کان شدیدًا علی أھل البدع، مجانبا لمن یخوض فی غیر الحدیث۔‘‘’’بدعتیوں کے سخت خلاف تھے،حدیث کے علاوہ دوسری ابحاث میں نہیں پڑتے تھے۔‘‘

ابن الفرج قرطبی مالکی،اپنے استاذابو الولیدیوسف بن عبداللہ بن المغیث(۳۳۸ھ تا ۴۲۹ھ) سےروایت کرتےہیں، جن کا تذکرہ حافظ ذہبی نے ان الفاظ:’’الإمام الفقیہ، المحدث شیخ الأندلس، قاضی القضاۃ، بقیۃ الأعیان‘‘ سے کیا ہے۔

ابوالولیدیوسف ابن عبداللہ ،اپنے شیخ مسند الاندلس ابو عیسی یحییٰ بن عبداللہ اللیثی( المتوفی۳۶۷ھ) سے روایت کرتےہیں۔

اورمسند الاندلس ابو عیسی یحییٰ بن عبداللہ اللیثی،اپنے والد کے چچا ابو مروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی (المتوفی۲۹۸ھ) سےروایت کرتےہیں،جن کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بقول حافظ ذہبی کے: ’’اندلس میں ان کے جنازے سے بڑا کوئی جنازہ نہیں ہوا، حتیٰ کہ یہودیوں اور عیسائیوں  نے بھی ان کے جنازے میں شرکت کی۔‘‘

اور ابو مروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی اپنے والد، راویِ موطا، فقیہ کبیر یحییٰ بن یحییٰ بن کثیرالمصمودی الاندلسی القرطبی (المتوفی۲۹۸ھ)رحمھم اللّٰہ تعالٰی أجمعین سےروایت کرتے ہیں، جوخود کسی تعارف کے  محتاج نہیں ہیں۔اس سے آگے امام مالک تک  سند واضح ہے۔

 خلاصہ بحث یہ ہے کہ ابن بشکوال نے اس درود کو اگر چہ تعلیقاً ذکر کیا ہے، لیکن سند کےمذکورہ سلسلہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان تک جو حدیث پہنچتی رہی وہ اسی سلسلے کی مرہونِ منت ہے، جس میں وقت کے بڑے بڑے علماء و محدثین شامل ہیں،لیکن چونکہ حدیث میں مذکورہ بالاراوی سھل بن عبداللہ کے بارےمیں  معلوم نہیں ہوسکا کہ ان سےمرادکون ہیں؟اگرسہل بن عبداللہ بن بریدہ المروزی ہیں تووہ بقول علامہ ذہبی کےمنکرالحدیث ہیں،پھرمزیدیہ کہ  خودعلامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالی نےا س روایت کے باطل ہونے پرجزم کیاہے،اس لئے مذکورہ بالاروایت بھی قابل استدلال نہیں ہوسکتی۔

"الصلة لابن بشكوال"1 / 54:

أحمد بن محمد بن أحمد بن مخلد بن عبد الرحمن بن أحمد بن بقي بن مخلد بن يزيد : من أهل قرطبة يكنى : أبا القاسم ،سمع : من أبيه بعض ما عنده وسمع بإشبيلية من أبي عبد الله محمد بن أحمد بن منظور القيسي وصحب أبا عبد الله محمد بن فرج الفقيه وانتفع بصحبته وأخذ عنه بعض روايته وكتب إليه أبو العباس العذري المحدث بإجازة ما رواه عن شيوخه وشوور في الأحكام بقرطبة فصار صدراً في المفتين بها لسنه وتقدمه وهو من بيته علم ونباهة وفضلٍ وصيانةٍ وكان ذاكراً للمسائل والنوازل درباً بالفتوى بصيراً بعقد الشروط وعللها مقدماً في معرفتها أخذ الناس عنه واختلفت إليه وأخذت عنه بعض ما عنده وأجاز لي بخطه غير مرة ۔

"ميزان الأعتدال للذهبي"4 /  163:

 3586- سهل بن عبدالله بن بريدة المروزى . عن أبيه . قال ابن حبان : منكر الحديث۔

تیسری روایت

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصلوۃ علی نورعلی الصراط ومن صلی یوم الجمعۃ ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوب ثمانین عاما۔

"جس نے جمعہ کے دن مجھ پر80دفعہ درود بھیجا اس کے 80سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے"۔

اس میں درودمطلقا ہے،یعنی سابقہ روایات کی طرح کوئی خاص الفاظ مذکورنہیں اورخاص عصرکے بعد کابھی ذکرنہیں۔

درج بالاحدیث مبارک درج  ذیل  کتب میں مذکور ہے:

1. "الترغیب فی فضائل الأعمال وثواب ذلک " لابن شاہین۔

2. " القربۃ الی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین"لابن بشکوال۔

3. "نتائج الافکارفی تخریج احادیث الاذکار"لابن حجر۔

4. "فیض القدیر"للمناوی۔

5. "التیسیر بشرح الجامع الصغیر"۔

6."القول البدیع"للسخاوی۔

7. "الفردوس بمأثورالخطاب"للدیلمی۔

8. "الجامع الصغیر"

الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذالک کی مذکورہ حدیث میں چارراوی ہیں:

عون بن عمارۃ،سکن البرجمی،حجاج بن سنان ،علی بن زید

عون بن عمارۃ کو امام ابوداؤداورحافظ ابن حجرنے "ضعیف" لکھاہے،جبکہ ابوحاتم نے ضعیف اورمنکرالحدیث لکھاہے۔

جب کسی راوی کے بارےمیں ائمہ جرح "ضعیف یامتروک" لکھتے ہیں تویہ جرح متوسط کے الفاظ ہیں، اس کامطلب ہوتاہےکہ راوی میں ضعف بھی ہےاورساتھ ساتھ کوئی عیب بھی پایاجاتاہے۔

سکن(زکریا)البرجمی کوامام ازدی نے لین کہاہے،جبکہ حافظ ابن حجر نے ضعیف لکھاہے۔

ائمہ جرح کے نزدیک لین کامطلب ہوتاہے،مجہول الحال یعنی جس کے بارےمیں کچھ پتہ نہ ہو(ثقہ ہےیاضعیف)،اس کادرجہ ضعف سےکم ہوتاہے،لیکن بقول حافظ ابن حجریہ بھی ضعیف بہرحال ہیں۔

حجاج بن سنان کوعلامہ ازدی نےمتروک،اوران کی مذکورہ حدیث کومنکرکہاہے،اورحافظ ابن حجرنےضعیف لکھاہے۔

منکروہ حدیث ہوتی  ہے،جس کاروای باوجودضعیف ہونے کے جماعت ثقات کی مخالفت کرے۔

علی بن زیدکی ابن عیینہ تضعیف کرتےہیں،اسی طرح یحیی قطان کہتےہیں لیس بذاک القوی اورلیس بشئی،احمدالعجلی کہتےہیں کان یتشیع ولیس بالقوی امام بخاری اورامام حاتم کہتے ہیں ان کی حدیث سے استدلال نہیں کیاجاسکتا،حافظ ابن حجرنے بھی ان کوضعیف کہاہے۔

تضعیف سےمرادبھی ضعیف مع القدح  ہوتاہے،)لیس بذاک القوی،لیس بشئی،اورلیس بالقوی اوران کی حدیث سے استدلال نہیں کیاجاسکتا(ان تمام الفاظ سےمراد مطلقاضعیف ہوتاہے،جس کادرجہ ضعیف مع القدح سے کم ہوتاہے۔

اکثرکتب حدیث میں  مذکورہ روایت کی سند میں یہی چارراوی ہیں،ان رواۃ کوعلامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے "نتائج الافکارفی تخریج احادیث الاذکار"میں ضعیف قراردیاہے،اوربعض دوسرےائمہ جرح نے اس سے بھی سخت الفاظ میں جرح کی ہے،اسی طرح فیض القدیر للمناوی،التیسر بشرح الجامع الصغیر،اطراف الغرائب والافرادللدارقطنی،تخریج احادیث الاحیاءللعراقی اورالقول البدیع للسخاوی میں بھی اسی کواختیارفرمایاہے۔

"ميزان الأعتدال للذهبي"2 /  210:

6534 - عون بن عمارة القيسي . بصرى ، معروف . عن حميد الطويل ، وهشام بن حسان . قال البخاري : يعرف وينكر ، فقد روى عن عبدالله بن المثنى الانصاري ، عن أبيه ، عن جده ، عن أبي قتادة ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الآيات بعد المائتين . قال البخاري : فقد مضى مائتان ، ولم يكن من الآيات شئ . وقال أبو داود : ضعيف . وقال أبو حاتم : ضعيف ، منكر الحديث ، أدركته ولم أكتب عنه . قلت : روى عنه الحارث بن أبي أسامة والكديمي ، ومات سنة اثنتى عشرة ومائتين۔

"لسان الميزان لأحمد العسقلاني"2 /  354:

[ 1938 ] زكريا بن عبد الرحمن البرجمي لينه الأزدي عون بن عمارة عن زكريا عن حجاج بن سيار أحد المتروكين عن بن جدعان عن بن المسيب عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه مرفوعا الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم جمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما انتهى۔

"لسان الميزان لأحمد العسقلاني"2 /  130:

[ 797 ] حجاج بن سنان عن علي بن زيد بن جدعان قال الأزدي متروك انتهى وحدث له حديثا منكرا أخرجه الدارقطني في الإفراد من رواية عون بن عمارة عن زكريا البرجمي عنه عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه رفعه من صلى على في يوم جمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما وسيأتي في ترجمة زكريا البرجمي۔

"ميزان الأعتدال للذهبي "1 /  306:

 1739 - حجاج بن سنان . عن على بن زيد بن جدعان ( 3 [ قال الازدي ] 3 ) : متروك ۔

"ميزان الأعتدال للذهبي"2 /  88،89:

5844 - على بن زيد بن جدعان [ م ، عو ] . هو على بن زيد بن عبدالله بن زهير أبي مليكة بن جدعان ، أبو الحسن القرشى التيمى البصري ، أحد علماء التابعين . روى عن أنس ، وأبي عثمان النهدي ، وسعيد بن المسيب . وعنه شعبة ، وعبد الوارث ، وخلق . اختلفوا فيه ، قال الجريرى : أصبح فقهاء البصرة عميانا ثلاثة : قتادة ، وعلى بن زيد ، وأشعث الحدانى . وقال منصور بن زاذان : لما مات الحسن البصري قلنا لعلى بن زيد : اجلس مجلسه . قال موسى بن إسماعيل : قلت لحماد بن سلمة : زعم وهيب أن على بن زيد كان لا يحفظ . قال : ومن أين كان وهيب يقدر على مجالسة [ على ، إنما كان يجالسه ]. وجوه الناس . وقال شعبة : حدثنا على بن زيد - وكان رفاعا . وقال - مرة : حدثنا على قبل أن يختلط . وكان ابن عيينة يضعفه . وقال حماد بن زيد : أخبرنا على بن زيد - وكان يقلب الاحاديث . وقال الفلاس : كان يحيى القطان يتقى الحديث عن على بن زيد . وروى عن يزيد بن زريع ، قال : كان على بن زيد رافضيا ۔۔۔۔وهو في التهذيب أيضا ضعيف . وروى عثمان بن سعيد ، عن يحيى : ليس بذاك القوى . وروى عباس - عن يحيى : ليس بشئ . وقال في موضع آخر : هو أحب إلى من ابن عقيل ومن عاصم بن عبيد الله . وقال أحمد العجلى : كان يتشيع ، وليس بالقوى . وقال البخاري ، وأبو حاتم : لا يحتج به . وقال أبو حاتم : يكتب حديثه ، هو أحب إلى من يزيد بن أبي زياد . وقال الفسوى : اختلط في كبره . وقال ابن خزيمة : لا أحتج به لسوء حفظه الخ۔

مذکورہ بالاعبارات سے واضح ہواکہ چاروں راوی ضعیف ہیں،جن کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے،قابل حجت نہیں،البتہ ایک راوی سکن البرجمی کے بارےمیں لگتاہےکہ تسامح ہواہے،احادیث میں سکن البرجمی ہے،جبکہ حقیقت  میں یہ زکریاالبرجمی ہے،جس کے بارے میں  علم رجال حدیث کی تمام کتب میں ضعیف لکھاہے،جبکہ سکن البرجمی کو ثقہ ،بااعتماداورصالح لکھاہے،اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہےکہ لسان المیزان میں علامہ ابن حجررحمہ اللہ  نے جہاں زکریاالبرجمی پرجرح کی ہےوہاں مذکورہ حدیث بھی لکھی ہے۔اوراس میں باقی وہی تینوں راوی بھی موجودہیں۔واللہ اعلم بحقیقۃ  الحال۔

علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالی نےالقول البدیع میں اس درود پاک کو ذکر کر کے اس کی نہایت عمدہ تحقیق پیش کی ہے اور ضعف کا حکم لگا کر اس حدیث کے طرق بھی پیش کیے ہیں۔

اسی طرح الجامع الصغیر میں دارقطنی کے حوالےسے یہی الفاظ روایت کئے گئےہیں،اس میں اس بات کی بھی وضاحت ہے کہ علامہ ازدی نے اسے ضعفاء میں لکھاہے۔

جبکہ"الفردوس بمأثورالخطاب" میں اس حدیث سے متعلق نہ کوئی تفصیل مذکورہے،اورنہ ہی رواۃ کے بارےمیں کوئی وضاحت،البتہ اس میں بھی مذکورہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےہی  ہے اورباقی اکثرکتب میں  مذکورہ روایت کی سند میں وہی چارضعیف راوی موجودہیں،جن کے بارے میں اوپرتفصیل سے بیان ہوچکاہے۔

"الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين"1 /  25:

 حدثنا عمر ، نا الحسين بن إسماعيل الضبي ، وأحمد بن عبد الله بن نصر بن بجير ، قالا : نا سعيد بن محمد بن ثواب ، أنا عون بن عمارة ، أنا سكن البرجمي ، عن حجاج بن سنان ، عن علي بن زيد ، عن سعيد بن المسيب ، أظنه عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « الصلاة علي نور على الصراط فمن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما »

مذکورہ حدیث میں موجودہ  رواۃ  پربحث:

1. عمربن شاہین:ابنِ شاہین اپنے وقت کے حافظ، عالم اورملک عراق کے بڑے شیخ تھے،ان  کے بارے میں حافظ ذہبی(المتوفی ۷۴۸ھ) سیر اعلام النبلاء میں  فرماتےہیں: ابوالحفص عمر بن احمد بن عثمان بن احمد بن محمد بن ایوب بن ازداز بغدادی واعظ، شیخ ، صدوق ، حافظ اور عالم، عراق کے شیخ اورایک بڑی تفسیر کے مصنف تھے۔اسی طرح  ابن ابی الفوارس فرماتے ہیں:قابل بھروسہ او ر اعتماد والی شخصیت ہیں۔ یہ وہ  کچھ لکھ گئے جو کوئی نہیں لکھ پایا۔ ابوبکر خطیبؒ لکھتے ہیں: یہ بااعتماد اور امانت دار انسان تھے، مشرقی جانب سکونت پذیر تھے۔ حمزہ سہمیؒ‘دارقطنی کا قول نقل کرتے ہیں: ابن شاہین اگر چہ معتمد تھے، لیکن اپنی غلطی پر جمے رہتے تھے۔‘‘امیرابونصر،ابوالولیدالباجی، ابوالقاسم الازہری سب کے نزدیک بااعتماداورامانت دارتھے، آخر میں امام ذہبی نتیجہ نکالتے ہوئے اپنی تحقیق یوں پیش کرتے ہیں: ’’ماکان الرجل بالبارع فی غوامض الصنعۃ ولکنہٗ راویۃ الإسلام - رحمہ اللّٰہ-۔‘‘’’اگر چہ فن حدیث کی باریکیوں سے بے خبر تھے، لیکن ’’راویۃ الاسلام‘‘کا لقب ان کا حق ہے۔‘‘

2. حسین ابن اسماعیل الضبی:قاضی،امام،علامہ، حافظ،بغدادکے شیخ اورمحدث تھے۔خطیب بغدادی فرماتےہیں کہ فاضل،امانت دار،سچےتھے،کوفہ کے قاضی تھے۔شذارات الذھب میں کہاگیاہےکہ بااعتماداورامانت دارتھے۔

3. ابوالعباس احمدبن عبداللہ بن نصربن بجیر۔الاکمال میں ان کوقاضی اورواسط لکھاگیاہے۔

4. سعیدبن محمدبن ثواب:حافظ ابن حجر نےفرمایاکہ ابن حبان نےثقات میں ذکرکیاہےاورمستقیم الحدیث کہاہے،جبکہ خطیب بغدادی نے نہ کوئی جرح کی ہے اورنہ ہی تعدیل۔

"معجم المؤلفين"7 /  273:

 عمر بن شاهين (297ھج تا 385 هج) (909 - 995 م) عمر بن احمد بن عثمان بن احمد بن محمد بن ايوب البغدادي، المعروف بابن شاهين (أبو حفص) محدث، حافظ، مؤرخ، واعظ، مفسر۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي"16 / 431:

 ابن شاهين * الشيخ الصدوق، الحافظ العالم، شيخ العراق، وصاحب التفسير الكبير، أبو حفص، عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أيوب بن أزداذ البغدادي الواعظ۔۔۔۔

قال أبو الفتح بن أبي الفوارس ثقة مأمون، صنف ما لم يصنفه أحد.

وقال أبو بكر الخطيب: كان ثقة أمينا، يسكن بالجانب الشرقي ۔

وقال الامير أبو نصر: هو الثقة الامين، سمع بالشام، والعراق، وفارس، والبصرة، وجمع الابواب والتراجم، وصنف كثيرا۔

قال حمزة السهمي: سمعت الدارقطني يقول: ابن شاهين يلح على الخطأ وهو ثقة۔

وقال ابو الوليد الباجي: هو ثقة۔

وقال أبو القاسم الازهري: كان ثقة، عنده عن البغوي سبع مئة جزء۔

قلت: ما كان الرجل بالبارع في غوامض الصنعة، ولكنه راوية الاسلام، رحمه الله.

"تذكرة الحفاظ وذيوله "3 /  31:

المحاملي القاضي الإمام العلامة الحافظ شيخ بغداد ومحدثها أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل بن محمد الضبي البغدادي:ولد في أول سنة خمس وثلاثين ومائتين، وأول سماعه في سنة أربع وأربعين، سمع أبا حذافة أحمد بن إسماعيل السهمي صاحب مالك، وعمرو بن علي الفلاس وزياد بن أيوب وأحمد بن المقدام العجلي ويعقوب بن إبراهيم الدورقي ومحمد بن المثنى العنزي وأبا هشام الرفاعي وعبد الرحمن بن يونس السراج والزبير بن بكار وطبقتهم ومن بعدهم فأكثر وصنف وجمع؛ روى عنه دعلج والدارقطني وابن جميع وإبراهيم خرشيد قولة2 التاجر وابن الصلت الأهوازي وأبو عمر بن مهدي وأبو محمد بن البيع وآخرون۔

 قال الخطيب كان فاضلا دينا صادقا شهد عند القضاة وله عشرون سنة، وولي قضاء الكوفة ستين سنة۔

808- الفهرست: 325. تاريخ بغداد: 8/ 19-23. الوافي بالوفيات: 12/ 341. طبقات الحفاظ: 343. شذرات الذهب: 2/ 326. العبر: 2/ 222.

"شذرات الذهب في أخبار من ذهب " 3 /  323:

 القاضي أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل الضبي البغدادي في ربيع الآخر وله خمس وتسعون سنة وهو ثقة مأمون۔

"الإكمال في رفع الإرتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى" 1 /  196:

والقاضي أبو العباس أحمد بن عبدالله بن نصر بن بجير قاضي واسط۔

"سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة"8 /  47:

سعيد بن محمد بن ثواب الحصري ترجمه الخطيب في "التاريخ" (9/ 94-95) ، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً۔

"أحمد بن حجر العسقلاني"41 /  155:

وابن ثواب، أدخله ابن حبان في: "الثقات" (8/272)، وقال: "مستقيم الحديث"۔

"ثقات ابن حبان" 8 /  272:

سعيد بن محمد بن ثواب الحصرى من أهل البصرة يروى عن أبى عاصم وأهل العراق حدثنا عنه عبد الكبير بن عمر الخطابي وغيره مستقيم الحديث۔

خلاصہ:یہ کہ محمدبن سعیدبن ثواب تک تمام رواۃ ثقہ ہیں،البتہ ان کے بعد جوچارراوی ہیں وہ بالاتفاق سب کے نزدیک ضعیف ہیں جیسے تفصیل سے گزرگیاہے۔

2۔"القربۃ الی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین"114:

وقرأت علی القاضی ابی بکربن العربی قالہ انبأنا ابن المبارک بن عبدالجبار حدثنا ابوطالب العشاری حدثنا عمربن شاہین حدثنا الحسین بن اسماعیل الضبی واحمد بن عبداللہ بن نصربن بحیر قالاحدثنا سعید بن ثواب حدثنا عون بن عمارۃ حدثنا سکن البرجمی،عن الحجاج بن سنان عن علی بن زید عن سعید بن المسیب اظنہ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :الصلاۃ علی نورعلی الصراط فمن صلی علی یوم الجمعۃ ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوب ثمانین عاما۔

اس سندمیں موجودرواۃ پربحث:

1. قاضی ابوبکرابن العربی:علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے مفسرین کے طبقات میں ان الفاظ میں ان کا تذکرہ کیاہے:اپنے زمانےکےمجتہد،اوراندلس کے اندرعلوسندمیں منفرد،بہت ذہین وفطین ،علم  کی نشرواشاعت ان کااہم مقصدتھا۔بہت سی مایہ نازکتابوں کے مصنف  تھے۔

2. ابوالحسن مبارک ابن عبدالجبارالصیرفی: ابوسعدسمعانی فرماتےہیں بڑےمحدث،کثرت سے روایت کرنےوالے،نیک صالح،امانت دار،سچے تھے۔

3. محمدبن علی ابوطالب العشاری:امام دارقطنی اوردوسرے بڑے بڑے محدثین سےروایت کرتے ہیں،طبقات حنابلہ میں ہے کہ بڑے نیک تھے،ابوالحسن ابن الطوری نقل کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کاان کےبارےمیں یہ بھی کہناتھاکہ جب ہمارےہاں قحط پڑجاتاہےتوہم سیراب ہونے کے لئے ابوطالب عشاری کے پاس جاتے ہیں،(اس سے ان کے نیک ،متقی اورثقہ  ہونے کااندازہ لگایاجاسکتاہے)۔

4. عمربن شاہین:ان کے بارےمیں اوپرتفصیل گزرچکی ہے۔

5. حسن بن اسماعیل الضبی:سابقہ حدیث کی تفصیل میں ان کے بارےمیں بحث ہوچکی ہے۔

6. احمدبن عبداللہ بن نصربن بجیر:ان کے بارےمیں بھی سابقہ حدیث کے تحت تفصیل گزرچکی ہے۔

7. سعیدبن ثواب:ان کے بارےمیں بھی سابقہ حدیث کے تحت تفصیل گزرچکی ہے۔

خلاصہ:یہ کہ اس حدیث میں بھی سعیدبن ثواب تک تمام رواۃ ثقہ ہیں،البتہ ان کے بعد جوچارراوی ہیں وہ بالاتفاق سب کے نزدیک ضعیف ہیں جیسے تفصیل سے گزرگیاہے۔

"طبقات المفسرين للسيوطي "1 / 90:

محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن أحمد الإمام أبو بكر بن العربي المعافري الأندلسي الحافظ ،أحد الأعلام ولد في شعبان سنة ثمان وستين ۔۔۔۔

وكان من أهل التفنن في العلوم والإستبحار فيها والجمع لها مقدما في المعارف كلها أحد من بلغ رتبة الإجتهاد وأحد من إنفرد بالأندلس بعلو الإسناد ثاقب الذهن ملازما لنشر العلم صارما في أحكامه هيوبا على الظلمة صنف التفسير و أحكام القرآن و شرح الموطأ و شرح الترمذي وغير ذلك وولي القضاء ببلده ،مات في ربيع الآخر سنة ثلاث وأربعين وخمسمائة۔

"تزيين الممالك للسيوطي"1 /  67:

 القاضي أبو بكر بن العربي۔۔هو أبو بكر محمد بن عبد الله ابن العربي الأندلسي المالكي المتوفى سنة 543هـ , صاحب ((أحكام القرآن)) وغيرها من التصانيف المفيدة, وكتابه في شرح ((جامع الترمذي)) اسمه: ((عارضة الأحوذي)۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي"19 /  213:

 - ابن الطيوري * الشيخ الامام، المحدث العالم المفيد، بقية النقلة المكثرين أبو الحسين المبارك بن عبد الجبار بن أحمد بن القاسم بن أحمد بن عبد الله البغدادي الصيرفي ابن الطيوري۔

ولد سنة إحدى عشرة وأربع مئة۔سمع أبا القاسم الحرفي، ۔۔۔وأبا طالب العشاري،وعددا كثيرا، وارتحل، فسمع بالبصرة أبا علي الشاموخي، وغيره، وجمع وخرج، وسمع ما لا يوصف كثرة.

قال أبو سعد السمعاني: كان محدثا مكثرا صالحا، أمينا صدوقا، صحيح الاصول، صينا ورعا وقروا، حسن السمت، كثير الخير، كتب الكثير، وسمع الناس بإفادته، ومتعه الله بما سمع حتى انتشرت عنه الرواية۔

"طبقات الحنابلة للحنبلي"2 /  190:

محمد بن علي بن الفتح بن محمد بن الفتح أبو طالب العشاري :حدث عن جماعة منهم أبو بكر محمد بن يوسف ۔۔۔والدارقطني ۔۔وكان العشاري من الزهاد صحب أبا عبد الله بن بطة وأبا حفص البرمكي وأبا عبد الله بن حامد.وحكى أبو الحسين بن الطيوري قال: قال لي بعض أهل البادية: إذا قحطتنا استسقينا بابن العشاري فنسقى۔

3. "نتائج الافکارفی تخریج احادیث الاذکار"555/:

اخبرنی الحافظ شیخ الاسلام ابوالفضل بن الحسین ،وابوالحسن بن ابی بکر قالا اخبرنا عبداللہ بن محمد قال اخبرنا ابراھیم بن علی ،قال اخبرنا داؤد بن احمد قال اخبرنا محمد بن عمر قال اخبرنا عبدالصمد بن علی قال  اخبرنا الحافظ ابوالحسن الدارقطنی قال حدثنا ابوعبیدالقاسم  ابن اسماعیل ومحمدبن موسی بن سھل قالاحدثنا سعید بن محمد ثواب قال حدثنا عون بن عمارۃ قال حدثنا السکن بن ابی السکن قال حدثنا الحجاج بن سنان عن علی بن زید عن سعید بن  المسیب عن ابی  ھریرۃرضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما)۔

ھذاحدیث غریب ۔اخرجہ ابونعیم من وجہ آخر عن سعید بن محمد ۔

فوقع لناعالیا لاتصال السماع ۔قال الدارقطنی:تفردبہ حجاج بن سنان عن علی بن زید ولم یروہ عن الحجاج الاالسکن تفردبہ عون ۔قلت :والاربعۃ ضعفاء۔

مذکورہ حدیث میں موجودرواۃ کی تفصیل :

شیخ الاسلام ابوالفضل بن الحسین العراقي۔حافظ العصر،اپنے زمانے کےبڑے محدث تھے،حدیث اورعلوم حدیث سے بڑاشغف تھا،انہی کے اپنے اساتذہ وشیوخ نے ان کےباے میں بڑے تعریفی کلمات فرمائےہیں،ان کوحافظ العصر اورحافط الوقت جیسے القابات سےنوازاگیاہے۔

2 ۔ابولحسن علی بن ابی بکرالہیثمی:یہ بھی بڑے محدث اورعلامہ عراقی کےخصوصی رفیق اورساتھیوں میں سےتھے،حافظ ابن حجراوردوسرے ائمہ نے ان کو"متون حدیث کےحافظ،عالم اورمتقی"فرمایاہے۔

عبداللہ بن محمد:ان کامعلوم نہیں ہوسکا،اگرعلامہ عبداللہ بن محمدالقرطبی التونسی ہیں تووہ ثقہ ہیں۔

ابواسحاق ابراہیم ابن علی ابن الواسطی:امام ذہبی نے ان کوحدسے زیادہ تعریفی کلمات سے نوازاہےاورفرمایاکہ عظیم مرتبے والےتھے،عام لوگوں کے دلوں میں بھی ان کابہت زیادہ مقام تھا۔

ابوالبرکات داؤدبن احمد ابن محمدبن ملاعب البغدادی:یہ بھی ثقہ بااعتمادتھےعلم روایت اوراصول حدیث سے شٖغف تھا۔

قاضی ابوالفضل عمرابن یوسف الارموی:ابن سمعانی ان کے بارےمیں فرماتے ہیں:فقیہ ،امام،نیک،متقی اوربااعتمادتھے۔

أبو الغنائم عبد الصمد بن علي بن محمد بن الحسن بن الفضل بن المأمون:ابوسعدسمعانی ان ے بارےمیں فرماتےہیں:بااعتماد،سچےتھے،خطیب بغدادی فرماتے ہیں:سچےتھےاورمیں نے ان سے روایت بھی نقل کی ہیں،ابوسعدسمعانی فرماتےہیں ہیں کہ میں نے حافظ اسماعیل بن محمدسے ان کے بارےمیں پوچھاتوانہوں نےفرمایا:شریف بااعتماد،کثرت سماع والے تھے۔

ابوالحسن الدارقطنی:حدیث کی مشہورکتاب سنن دارقطنی کے مصنف اورمشہورمحدث  جن کے ثقہ اوربااعتمادہونے میں کسی کوشبہہ نہیں ہوسکتا۔

اخوالمحاملی،ابوعبید القاسم بن اسماعیل الضبی:علامہ ذہبی نے ان کے بارےمیں فرمایا:محدث فقیہ اوربااعتماد تھے۔

10 ۔محمدبن موسی بن سہل ابوبکرالعطارالبربہاری:خطیب بغدادی نے فرمایاکہ بااعتمادتھے،اسی طرح  علامہ ذہبی نے فرمایاکہ علامہ دارقطنی نے بھی ان کوبااعتمادکہاہے۔

11۔سعیدبن محمدبن ثواب:ان کے بارےمیں سابقہ حدیث کے تحت تفصیل سےگزرچکاہے۔

خلاصہ:یہ کہ اس حدیث میں بھی سعیدبن ثواب تک تمام رواۃ ثقہ ہیں،البتہ ان کے بعد جوچارراوی ہیں وہ بالاتفاق سب کے نزدیک ضعیف ہیں جیسے تفصیل سے گزرگیاہے۔

"تذكرة الحفاظ وذيوله " / 246،245:

العراقي الحافظ الإمام الكبير الشهير أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم بن الحسين بن عبد الرحمن بن أبي بكر بن إبراهيم العراقي حافظ العصر:ولد في جمادى الأولى سنة خمس وعشرين وسبعمائة بمنشأة المهزاني بين مصر والقاهرة وكان أصل أبيه من بلدة يقال لها رازيان من عمل أربل وقدم القاهرة وهو صغير فنشأ في خدمة الصالحين ومن جملتهم الشيخ تقي الدين القنائي ويقال إنه بشره بالشيخ وقال: سمه عبد الرحيم، يعني باسم جده الأعلى الشيخ عبد الرحيم القنائي أحد المعتقدين بصعيد مصر فكان كذلك، وأول ما أسمع الحديث على سنجر الجاولي والتقي الأخنائي ثم أسمع على ابن شاهد الجيش وابن عبد الهادي والتقي السبكي واشتغل بالعلوم وأحب الحديث فأكثر من السماع وتقدم في فن الحديث بحیث كان شيوخ عصره يبالغون في الثناء عليه بالمعرفة كالسبكي والعلائي والعز بن جماعة والعماد بن كثير وغيره، ونقل عنه الشيخ جمال الدين الأسنوي في المهمات ووصفه بحافظ العصر وكذلك وصفه في الطبقات في ترجمة ابن سيد الناس فقال: وشرح -يعني ابن سيد الناس- قطعة من الترمذي نحو مجلدين وشرع في إكماله حافظ الوقت زين الدين العراقي إكمالا مناسبا لأصله انتهى۔

قال: وكان الشيخ منور الشيبة جميل الصورة كثير الوقار نزر الكلم طارحا للتكلف لطيف المزاح سليم الصدر كثير الحياء قل أن يواجه أحدا بما يكرهه ولو آذاه، متواضعا حسن النادرة والفكاهة وكان لا يترك قيام الليل بل صار له كالمألوف وكان كثير التلاوة إذا ۔

"تذكرة الحفاظ وذيوله"1 /  156،246:

الهيثمي الحافظ نور الدين أبو الحسن علي بن أبي بكر بن سليمان بن عمر بن صالح رفيق الحافظ أبي الفضل العراقي:ولد سنة خمس وثلاثين وسبعمائة ورافق العراقي في السماع فسمع جميع ما سمعه وكان ملازما له مبالغا في خدمته وكان يحفظ كثيرا من متون الأحاديث ۔۔۔۔قال الحافظ ابن حجر: كان خيرا ساكنا صينا سليم الفطرة شديد الإنكار للمنكر لا يترك قيام الليل، مات في تاسع عشري رمضان سنة سبع وثمانمائة۔

وكان -رحمه الله تعالى- عليه إماما عالما حافظا ورعا زاهدا،، متواضعا خيرا هينا لينا سالكا سليم الفطرة شديد الإنكار للمنكر كثير الاحتمال محبا للغرباء وأهل الدين والعلم والحديث كثير التودد إلى الناس مع العبادة والاقتصاد والتعفف۔

"معجم المحدثين ـ للذهبى " 1 / 62:

عبدالله بن محمد القرطبي التونسي:عبد الله ابن شيخنا أبي الوليد محمد بن أحمد بن أحمد بن محمد ابن الحاج الإمام العادل المفتي البركة أبو محمد الأندلسي القرطبي ثم التونسي المالكي أخو الإمام أبي عمروقدم بهما أبوهما في عام أربع وثمانين وستمائة ( 684 ه 1285 م ) فسمعوا من الفخر علي وغيره ولازم أبو محمد حلقة شهاب الدين ابن فرح وحصل جملة من فقه الحديث وكتب الطباق وبرع في المذهب۔مولده سنة خمس وسبعين وستمائة ( 675 ه 1276 م )

أخذ عنه البرزالي والسروجي توفي في صفر سنة ثلاث وأربعين وسبعمائة ( 743 ه 1341 م )

"تهذيب الكمال مع حواشيه ليوسف المزي"2 /  34:

أبو إسحاق إبراهيم " هو الإمام القدوة الشيخ الإمام أبو إسحاق إبراهيم بن علي بن أحمد بن فضل الواسطي الاصل الصالحي الحنبلي"602 - 692 ه"أطنب الإمام الذهبي في مدحه ، وَقَال : قال شيخنا أبو عَبد الله بن الزملكاني ومن خطه نقلت ، قال : كان كبير القدر له وقع في القلوب وجلالة۔قال : وكان داعية إلى عقيدة أهل السنة والسلف الصالح مثابرا على السعي في هداية من يرى فيه زيغا عنها"معجم الشيوخ : 1 / الورقة : 29)۔

"الوافي في الوفيات"1 / 1903:

أبو البركات البغدادي ،داود بن أحمد بن محمد بن ملاعب أبو البركات البغدادي . كان والده يتولّى بعض أعمال السَّواد وكانت له رياسة ونباهة . وأسمع ابنه هذا الكثير في صباه من القاضي أبي الفضل محمد بن عمر بن يوسف الأرموي وأبي بكر محمد بن عبيد الله بن نصر بن الزّاغوني وأبي العباس أحمد بن محمد بن عبد العزيز العباسي المكي وغيرهم وحصَّل له النسخ بما سمع وخرج إلى دمشق وأقام بها إلى أن توفي سنة ست عشرة وست مائة . وكان يتوكل على باب القضاة وله مروءة وكان محباً للرواية وأصوله صحيحة۔

"الوافي بالوفيات"25 / 54:

أبو الفضل الأرموي الشافعي محمد بن عمر بن يوسف بن محمد القاضي ابو الفضل الأرموي الفقيه الشافعي من أهل ارمية.قال ابن السمعاني:هو فقيه إمام متدين ثقة صالح الكلام في المسائل كثير التلاوة،حدث عنه السلفي وابن عساكر وابن السمعاني وعبد الخالق بن أسد وابن طبرزد وتاج الدين الكندي وجماعة كثيرة،كان أسند من بقى ببغداد وآخر من حدث عنه بالسماع الفتح بن عبد السلام.توفي سنة سبع وأربعين وخمس مائة۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي" 18 / 221: -

ابن المأمون * الشيخ الامام، الثقة، الجليل، المعمر، أبو الغنائم، عبد الصمد بن علي بن محمد بن الحسن بن الفضل بن المأمون بن الرشيد الهاشمي، العباسي، البغدادي، شيخ المحدثين ببغداد۔

قال أبو سعد السمعاني: كان ثقة، صدوقا، نبيلا، مهيبا، كثير الصمت، تعلوه سكينة ووقار، وكان رئيس آل المأمون وزعيمهم. طعن في السن، ورحل إليه الناس، وانتشرت روايته في الآفاق.

سمع أبا الحسن الدارقطني ۔۔۔

قال الخطيب:كان صدوقا، كتبت عنه۔قال السمعاني: سألت إسماعيل بن محمد الحافظ عن أبي الغنائم ابن المأمون، فقال: شريف محتشم، ثقة، كثير السماع۔

مات في سابع عشر شوال، سنة خمس وستين وأربع مئة۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي"15 /  263: -

أخو المحاملي  المحدث الثقة أبو عبيد القاسم بن إسماعيل الضبي:سمع أبا حفص الفلاس، ومحمد بن المثنى العنزي، ويعقوب بن إبراهيم الدورقي، وعدة ،حدث عنه: محمد بن المظفر، والدارقطني، عيسى بن الوزير، وآخرونمات في سنة ثلاث وعشرين وثلاث مئة۔

"تاريخ بغداد"3 / 245:-

محمد بن موسى بن سهل أبو بكر العطار البربهاري حدث عن إسحاق بن البهلول الأنباري والحسن بن عرفة العبدي روى عنه القاضي أبو الحسن الجراحى وأبو الحسن الدارقطني وغيرهما وكان ثقة۔

"تاريخ الإسلام للإمام الذهبي" 36 / 84:

تاريخ الإسلام للذهبي الجزء الثالث والعشرون الصفحة 592

محمد بن موسى بن سهل أبو بكر العطار البربهاري. سمع: الحسن بن عرفة، وإسحاق بن بهلول. وعنه: أبو الحسن علي الجراحي، والدارقطني. وثقوه.۔

4۔"فيض القدير للمناوي"15 /  117:

 5191 ۔الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما) فيه أن الصلاة عليه نور على الصراط ونجاة ورحمة وأخذ من إفراد الصلاة هنا أن محل كراهة إفرادها عن السلام فيما لم يرد الإفراد فيه بخصوصه وإلا فلا يزاد على الوارد . )الأزدي في) كتاب (الضعفاء قط في الأفراد عن أبي هريرة) ثم قال  الدارقطني : تفرد به حجاج بن سنان عن علي بن زيد فلم يروه عن حجاج إلا السكن بن أبي السكن قال ابن حجر في تخريج الأذكار : والأربعة ضعفاء وأخرجه أبو نعيم من وجه آخر وضعفه ابن حجر۔

مذکورہ حدیث کے رواۃ پربحث ہوچکی ہے،دارقطنی نےجوتفردراوی کی بات کی ہے،اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

حافظ ابن حجر نے جن رواۃ کوضعیف کہاہے،ان رواۃ کی تفصیل بھی گزرچکی ہے،جہاں تک بات ہےکہ ابونعیم الاصبہانی(صاحب حلیۃ)نےاسی حدیث کودوسرے طریق سےذکرکیاہے،اس(دوسرےطریق کی تفصیل)سابقہ نتائج الافکارکی حدیث میں محمدبن سعیدکے ذریعہ سےکی گئی ہے ،جوکہ الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذالک میں موجودہے،گویاکہ محمدبن سعیدبن ثواب سے یہ روایت دوطریقوں سےمروی ہےایک الترغیب میں مذکورہے،دوسری نتائج الافکارفی حدیث الاذکارمیں،دونوں کے رواۃ پرتفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔

5۔"التيسير بشرح الجامع الصغير"2 /  212:

( الصلاة على نور على الصراط ) أي يكون ثوابها يوم القيامة نوراً يضئ للمار على الصراط ( فمن صلى على يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً ) أخذ من أفراده الصلاة هنا أن محل كراهة أفرادها عن السلام ما لم يرد الأفراد في شيء بخصوصه فلا يزاد على الوارد ( الأزدي في ) كتاب ( الضعفاء ) والمتروكين ( قط في الأفراد ) بفتح الهمزة ( عن أبي هريرة ) بإسناد فيه أربعة ضعفاء۔

6۔"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"198:

 وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاماً أخرجه ابن شاهين في الأفراد وغيرها وابن بشكوال من طريقه وأبو الشيخ والضياء من طريق الدارقطني في الأفراد أيضاً والديلمي في مسند الفردوس وأبو نعيم وسنده ضعيف وهو عند الأزدي في الضعفاء من حديث أبي هريرة أيضاً لكنه من وجه آخر ضعيف أيضاً وأخرجه أبو سعيد في شرف المصطفى من حديث أنس والله أعلم۔

مذکورہ عبارت میں جومذکورہے کہ "اخرجہ ابن شاھین"،یہ الترغیب کی روایت کے تحت گزرچکی ہے،اور"ابن بشکوال من طریقہ"ابن بشکوال کی روایت القربہ کے حوالے سے گزرچکی ہے،"أبو الشيخ والضياء من طريق الدارقطني في الأفراد  یہ روایات بھی آگے اطراف الغرائب والافرادکے تحت آرہی ہے"الدیلمی فی مسندالفردوس"دیلمی کی روایت الفردوس بمأثورالخطاب کے تحت آگے آرہی ہے،"وابونعیم وسندہ ضعیف"ابونعیم کی روایت کی وضاحت فیض القدیرللمناوی کے تحت گزرچکی ہے،"وھوعندالازدی فی الضعفاء"علامہ ازدی کے حوالے سے ضعیف کاقول تقریباتمام روایتوں میں موجودہے،"لکنہ من وجہ آخر"گویاکہ مذکورہ روایت کے تین طرق ہیں،۱۔الترغیب کی روایت میں ۲۔القربہ لابن بشکوال کی روایت میں ۳۔نتائج الافکارفی حدیث الاذکارمیں،تینوں طرق میں ضعیف رواۃ موجود ہیں۔

7۔"الجامع الصغير من حديث البشير النذير"2 /  65:

- الصلاة علي نورعلی الصراط، فمن صلى على يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما- الأزدي في الضعفاء ( قط ) في الأفراد عن أبي هريرة۔

اس روایت میں بھی علامہ ازدی کے حوالے سے ضعف کاقول کیاگیاہے۔

8۔"الفردوس بمأثور الخطاب"2/ 408:

 - أبو هريرة :الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر له ذنوب ثمانين عاما۔

"مسند الفردوس"1 / 257:

 أبو هريرة:الصلاة علي نور على الصراط ومن صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر له ذنوب ثمانين عاما ۔

مذکورہ روایات میں کوئی حکم نہیں لگایاگیا،لیکن چونکہ مذکورہ حدیث بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےاورالفاظ بھی بعینہ وہی ہیں جودوسری کتب میں ہیں۔اس لئے اس کابھی وہی حکم ہے جواوپردوسری روایات کالکھاگیاہے۔

" أطراف الغرائب والأفراد"5 /  186:

5095-حديث: نور على نور . . . الحديث. غريب من علي بن زيد عنه، تفرد به الحجاج بن سنان وعنه السكن بن إبراهيم البرجمي وعنه عون بن عمارة.مكحول عنه۔

ایک تواس حدیث کوغریب کہاگیاہے،دوسری بات یہ کہ اس میں ضعیف راوی کے تفردکابھی ذکرہے،جس کی وجہ سے روایت قابل استدلال نہیں رہتی۔

مذکورہ احادیث کے قابل حجت نہ ہونے کی ایک وجہ تو اوپرتفصیل سے ذکرہوئی کہ ان میں ضعیف راوی موجودہیں،دوسری ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ احادیث کے رواۃ میں سے بعض راویوں کاتفردبھی پایاجاتاہے،اور محدثین کے نزدیک اگرمتفردراوی  ضعیف یامجروح ہو تواس کےتفردسے روایت کی صحت بھی متأثرہوجاتی ہے، علامہ ابن صلاح رحمہ اللہ تعالی  رواۃ کے تفرد پربحث کرتے ہوئے فرماتےہیں:

متفردراوی کے حالات میں غورکیاجائے گا،اگروہ عادل،حافظ اورثقہ(بااعتماد) ہوتواس کاتفرد قابل قبول ہوگا،اور حدیث کے بارےمیں اس کاانفرادمؤثرنہیں ہوگا،پھرفرمایا:اوراگروہ راوی متفردہونے کے ساتھ ساتھ ثقہ(بااعتماد)اورحافظ(پختہ حافظہ والا)نہ ہوتو،اس کاتفرداس کی روایت میں  مؤثرہوگااورروایت صحت کے مرتبہ سےنکل جائےگی۔

اس تفصیل کے مطابق مذکورہ روایت میں علامہ دارقطنی نے دوراویوں کے بارے میں تفرد کاحکم لگایاہے۔

حجاج بن سنان کے بارےمیں کہاکہ وہ علی بن زید سے روایت کرنےمیں منفردہیں۔

سکن البرجمی(زکریا البرجمی)کےبارےمیں کہاکہ وہ حجاج بن سنان سےروایت کرنےمیں متفردہیں۔

مذکورہ دونوں راوی روایت کرنےمیں منفردبھی ہیں،اوردونوں ضعیف بھی ہیں،جن کی وجہ سے سندکاتفردپایاجاتاہے،اس لئے یہ  روایت بھی ضعیف ہوگی اورقابل حجت نہ رہےگی۔

"مقدمة ابن صلاح "1 /  66:

 فنقول إذا انفرد الراوي بشئ نظر فيه فإن كان ما انفرد به مخالفا لما رواه من هو أولى منه بالحفظ لذلك وأضبط كان ما انفرد به شاذا مردودا وإن لم يكن فيه مخالفة لما رواه غيره وإنما هو أمر رواه هو ولم يروه غيره فينظر في هذا الراوي المنفرد فإن كان عدلا حافظا موثوقا بإتقانه وضبطه قبل ما انفرد به ولم يقدح الانفراد فيه كما فيما سبق من الامثلة وإن لم يكن ممن يوثق بحفظه وإتقانه لذلك الذي انفرد به كان انفراده به خارما له مزحزحا له عن حيز الصحيح ثم هو بعد ذلك دائر بين مراتب متفاوتة بحسب الحال فيه فإن كان المنفرد به غير بعيد من درجة الضابط المقبول تفرده استحسنا حديثه ذلك ولم نحطه إلى قبيل الحديث الضعيف وإن كان بعيدا من ذلك رددنا ما انفرد به وكان من قبيل الشاذ المنكر۔

چوتھی روایت

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"198:

وعند الدارقطني مرفوعاً بلفظ من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين سنة قيل يارسول الله كيف الصلاة عليك قال تقول اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك، النبي الأمي وتعقد واحدة: قلت: وحسنه العراقی ومن قبله أبو عبد الله بن النعمان ويحتاج إلى نظر وقد تقدم نحوه من حديث أنس قريباً۔

بعض روایات میں صرف 80سال کے گناہوں کی معافی کاذکرہے،اوراس کے بعد درودشریف کے الفاظ یہ مذکورہیں ۔أللھم صل علی محمد عبدک ونبیک ورسولک النبی الامی۔

مذکور ہ روایات درج ذیل کتب میں موجودہے:

1۔القول البدیع للسخاوی۔

2۔المغنی عن حمل الاسفار فی الاسفار فی تخریج الاحیاء۔

3۔ كشف الخفاء۔

4۔تاریخ بغداد۔

"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع"198:

وعند الدارقطني مرفوعاً بلفظ من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين سنة قيل يارسول الله كيف الصلاة عليك قال تقول اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك، النبي الأمي وتعقد واحدة: قلت: وحسنه العراقی ومن قبله أبو عبد الله بن النعمان ويحتاج إلى نظر وقد تقدم نحوه من حديث أنس قريباً۔

ایک بات یہ کہ علامہ ابن بشکوال نے یہی روایت دارقطنی کے حوالے سے نقل کی ہے،اوردارقطنی کی دستیاب کتابوں میں یہ روایت نہ مل سکی۔

دوسری بات یہ کہ اگرچہ مذکورہ حدیث کی علامہ عراقی اورابوعبداللہ بن النعمان نے تحسین کی ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ علامہ سخاوی نے اس کے فورابعد یہ بھی فرمایاہے کہ یہ بات قابل غورہے(علامہ عراقی کی تحسین بھی قابل غورہے)۔

علامہ عراقی کے بارےمیں گزرچکاہے،جبکہ ابوعبداللہ النعمان سے مرادابوعبداللہ شمس الدین ابن النعمان ہیں جوساتویں صدی کے محدث ہیں۔

"الأعلام خير الدين الزركلي"15 / 273:

 ابن النعمان: (.. - 683 ه‍ =.. - 1284 م) محمد بن موسى، أبو عبد الله شمس الدين ابن النعمان: صوفي باحث، من المالكية مراكشي الاصل تلمساني ثم من أهل فاس، وقيل في نسبه: المزالى الاشبيلى الهنتاتى. له كتب، منها (مصباح الظلام في المستغيثين بخير الانام - خ) في شستربتى (3677) و(أعلام الاجناد والعباد أهل الاجتهاد بفضل الرباط والجهاد)۔

"شذرات الذهب في أخبار من ذهب" 5 / 383:

وفيها ابن النعمان القدوة الزاهد أبو عبد الله محمد بن موسى بن النعمان التلمساني قدم الأسكندرية شابا فسمع بها من محمد بن عماد والصفراوي وكان عارفا بمذهب مالك راسخ القدم في العبادة والنسك أشعريا منحرفا على الحنابلة توفي في رمضان ودفن بالقرافة وشيعه أمم قاله في العبر وفيها تقي الدين محمد بن عبد الولي بن جبارة بن عبد الولي المقدسي الفقيه الحنبلي سمع بدمشق من أبي القسم بن صصرى وغيره وببغداد من أبي الحسن القطيعي۔

"ذيل التقييد في رواة السنن والأسانيد"1/ 269:

- محمد بن موسى بن النعمان المزالي الهنياني التلمساني2 المولد الفاسي الدار الشيخ أبو عبد الله نزيل مصر مؤلف مصباح الظلام في المستغثين بخير الانام . سمع على أبي الفضل أحمد بن محمد بن عبد العزيز بن الجباب صحيح مسلم وحدث به.سمعه عليه بمكة مسندها الرضي ابراهيم بن محمد الطبري امام المقام الشريف وحدث به عن ابن النعمان سماعا وعن شيخه ابن الجباب المذكور ۔۔

مات يوم السبت تاسع رمضان سنة ثلاث وثمانين وستمائة بمصر عن ست وسبعين سنة ومولده بتلمسان سنة ست أو سبع وستمائة ۔

2۔"المغني عن حمل الأسفار في الأسفار في تخريج الإحياء"1 /  58:

وایضا"تخريج أحاديث الإحياء"2 /  49:

 - حديث "من صلى علي في يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين سنة قيل يا رسول الله كيف الصلاة عليك؟ قال تقول: اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الأمي، وتعقد واحدة، وإن قلت اللهم صل على محمد وعلى آل محمد صلاة تكون لك رضاء ولحقه أداء وأعطه الوسيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته واجزه عنا ما هو أهله واجزه أفضل ما جزيت نبيا عن أمته وصل عليه وعلى جميع إخوانه من النبيين والصالحين يا أرحم الراحمين"۔

أخرجه الدارقطني من رواية ابن المسيب قال أظنه عن أبي هريرة وقال حديث غريب، وقال ابن النعمان حديث حسن۔

اس کوحدیث غریب  بھی کہاگیاہے،جہاں تک ابن نعمان کاقول کہ یہ حدیث حسن ہے،اس کے بارے میں اوپرعلامہ سخاوی علیہ الرحمہ فرماچکےہیں کہ یہ قول خودقابل غورہے۔

3۔"كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس" 1 / 151:

ورواه الدارقطني عن ابن المسيب قال أظنه عن أبي هريرة بلفظ من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين سنة، قيل يا رسول الله كيف الصلاة عليك ؟ قال : تقول اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الأمي وتعقد مرة واحدة، وهو حسن كما قاله العراقي ۔

کشف الخفاء کی مذکورہ عبارت میں بھی علامہ عراقی کی تحسین کاذکر ہے،جس کی تفصیل اوپرگزرچکی ہے۔

4۔"تاريخ بغداد لأحمد البغدادي"3 /  464:

( 7326 ) وهب بن داود بن سليمان أبو القاسم المخرمي حدث عن إسماعيل بن علية روى عنه محمد بن جعفر المطيري وكان ضريرا ولم يكن ثقة۔

 أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم الفقيه حدثنا عمر بن إبراهيم المقرئ حدثنا محمد بن جعفر المطيري حدثنا وهب بن داود بن سليمان الضرير حدثنا إسماعيل  بن إبراهيم حدثنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال كنت واقفا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين عاما فقيل له كيف الصلاة عليك يا رسول الله قال تقول اللهم صلي على محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الامي وتعقد واحدا۔

مذکور ہ حدیث میں موجود رواۃ کی تفصیل:

ابوطالب عمر بن ابراھیم الزہری الفقیہ:فقیہ ،علامہ، حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تھے،بغدادمیں کبارشافعیہ میں ان کاشمار ہوتاتھا،خطیب بغدادی نےان کی توثیق کی ہے۔

ابوحفص عمربن ابراھیم المقرئ البغدادی:خظیب بغدادی نے ان کے بارےمیں فرمایاکہ ثقہ تھے۔

محمد بن جعفر بن أحمد بن يزيد الصيرفي، المطيري، البغدادي:امام دارقطنی نے ان کے بارےمیں فرمایاکہ ثقہ بااعتماداورمامون تھے۔

وھب بن داؤد بن سلیمان الضریر:خطیب بغدادی نے لکھاہےکہ وہ ثقہ (بااعتماد )نہ تھے،اوراسی وجہ سے علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کے بارے میں لکھاہے"لایصح"اسی طرح حافط ابن حجراورعلامہ ذہبی رحمہم اللہ تعالی نے بھی اس راوی  کوغیرمعتمد لکھاہے۔

اسماعیل  بن ابراہیم المعروف بابن علیۃ :یونس بن بکیرنے کہاکہ سیدالمحدثین تھے،امام نسائی اور دوسرے ائمہ نے بھی ان کی توثیق کی ہےیحیی بن معین نے کہاکہ ثقہ،سچے،امانت دار،متقی پرہیزگارتھے۔

عبدالعزیزبن صہیب: امام ابوداؤدنے امام احمدکاقول نقل کیاہےکہ یہ ثقہ تھے،اور معرفۃ الثقات للعجلی میں بھی ان کوثقہ کہاگیاہے۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي"17 / 524:

 الزهري الفقيه العلامة، أبو طالب، عمر بن إبراهيم بن سعيد، الزهري الوقاصي، من ذرية صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم سعد بن أبي وقاص، بغدادي من كبار الشافعية ببغداد، ويعرف بابن حمامة،مولده في سنة سبع وأربعين وثلاث مئة،كتب عن: أبي بكر القطيعي، وابن ماسي، وعيسى بن محمد الرخجي، وعدة.روى عنه: الخطيب ووثقه ۔

توفي سنة أربع وثلاثين وأربع مئة۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي"16 /  483:

الكتاني * الامام المقرئ المحدث المعمر، أبو حفص، عمر بن إبراهيم بن أحمد بن كثير البغدادي الكتاني،ولد سنة ثلاث مئة، وقرأ على ابن مجاهد، وسمع منه كتابه في السبع.وسمع من: البغوي، وأبي سعيد العدوي، وأبي حامد الحضرمي، وأبي محمد بن صاعد۔۔۔وخلق سواهم۔وحدث عنه: أبو محمد الخلال، وأبو القاسم التنوخي۔۔۔

قال الخطيب: هو ثقة،توفي في رجب سنة تسعين وثلاث مئة، وله تسعون سنة۔

"سير أعلام النبلاء للذهبي" 15 /  301:

 - المطيري * الامام المحدث، أبو بكر، محمد بن جعفر بن أحمد بن يزيد، المطيري ثم البغدادي الصيرفي، من أهل مطيرة سامراء.نزل بغداد، وحدث عن: الحسن بن عرفة، وعلي بن حرب الطائي، وعباس الدوري، وابن عفان العامري.وحدث عنه: الدارقطني، وابن شاهين، وابن جميع، وأبو الحسن ابن الصلت، وآخرون،قال الدار قطني: هو ثقة مأمون۔

قلت: توفي سنة خمس وثلاثين وثلاث مئة وقد لا طخ التسعين۔

"العلل المتناهية لابن الجوزي"1 /  463:

 انا محمد بن علي بن عبيد الله قال انا ابو منصور قال انا ابو حفص الكتاني قال انا ابو بكر محمد بن جعفر المطيري قال نا وهب بن داؤد قال انا اسماعيل بن ابراهيم قال انا عبدالعزيز بن صهيب عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال من صلى علي يوم الجمعة مائتي غفر الله له ذنوب ثمانين عاما فقيل له كيف الصلاة عليك قال يقول اللهم صل على محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الأمي ويعقد واحدةقال المؤلف هذا حديث لا يصح قال ابو بكر الخطيب وهب بن داؤد ليس بثقة۔

"لسان الميزان لأحمد العسقلاني"6 /  174:

[ 822 ] وهب بن داود المخرمي عن بن علية قال أبو بكر الخطيب لم يكن بثقة قرأت على عمر بن عبد المنعم عن الكندي أنا أبو منصور القزاز أنا محمد بن علي العباسي أنا عمر الكتاني املأ ثنا محمد بن جعفر الطبري ثنا وهب بن داود الضرير ثنا إسماعيل ثنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس رضى الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين عاما الحديث۔

"ميزان الأعتدال لذهبي"3 /  230:

9427 - وهب بن داود المخرمى . عن ابن علية . قال أبو بكر الخطيب ( 3 ) : لم يكن بثقة . [ قرأت على عمر بن عبد المنعم عن الكندى : أخبرنا أبو منصور الفراء ، حدثنا محمد بن على العباسي ، أخبرنا عمر الكتاني إملاء ، حدثنا محمد بن جعفر المطيرى ، حدثنا وهب بن داود الضرير ، حدثنا إسماعيل ، حدثنا عبد العزيز بن صهيب ، عن أنس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : من صلى على يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين عاما . . . الحديث ]۔

"تهذيب التهذيب لأبن حجر "12 / 183:

إسماعيل بن إبراهيم بن مقسم الأسدي مولاهم أبو بشر البصري المعروف بابن علية روى عن عبد العزيز بن صهيب وسليمان التيمي ۔۔وخلق كثير وعنه شعبة وابن جريج ۔۔۔و ابن وهب والشافعي وأحمد۔۔۔ قال علي بن الجعد عن شعبة إسماعيل بن علية ريحانة الفقهاء ۔وقال يونس بن بكير عنه: بن علية سيد المحدثين۔وقال بن مهدي: بن علية أثبت من هشيم۔۔۔وقال بن محرز عن يحيى بن معين: كان ثقة مأمونا صدوقا مسلما ورعا تقيا۔۔۔وقال النسائي: ثقة ثبت۔۔ومات سنة 193 ۔

"تهذيب الأسماء واللغات لأبي زكريا النووي" 1 / 433:

عبد العزيز بن صهيب: هو أبو حمزة عبد العزيز بن صهيب البصرى البنانى، بضم الموحدة، مولاهم، وبنانة بطن من قريش. سمع عبد العزيز أنس بن مالك وغيره. روى عنه سعبة، والحمادان، وعبد الوارث، وابن علية، وهشيم، ووهيب، وإبراهيم بن طهمان، وأبو عوانة، وهشام بن حسان، وآخرون، واتفقوا على توثيقه۔

"موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل" 3 / 328:

- عبد العزيز بن صهيب البناني، مولاهم، البصري، الأعمى۔قال عبد الله بن أحمد: سألت أبي، عن عبد العزيز بن صهيب البناني. فقال: ثقة. ثقة۔

  وقال أبو داود: سمعت أحمد قال: عبد العزيز بن صهيب، ثقة۔

"معرفة الثقات للعجلي"2 /  97:

عبد العزيز بن صهيب بصرى تابعي ثقة سمع من أنس۔

خلاصہ:یہ کہ اس سند میں  بھی تمام رواۃ ثقہ ہیں سوائے ایک راوی وھب بن داؤدبن سلیمان الضریرکےجن کے بارےمیں خطیب   بغدادی نے لکھاہے۔وہ ثقہ (بااعتماد )نہ تھے،اوراسی وجہ سے علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کے بارے میں لکھاہے"لایصح"اسی طرح حافط ابن حجراورعلامہ ذہبی رحمہم اللہ تعالی نے بھی اس راوی  کوغیرمعتمد لکھاہے۔

خلاصہ جواب

حاصل یہ کہ  سوال میں ذکرکردہ روایت بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی،اوردیگر روایات جوہم معنی یاقریب المعنی ہیں ان کابھی مجموعی اعتبارسے صحیح یاحسن ہوناواضح نہیں ہوسکا،احادیث کی کتابوں میں یہ روایات موقوفاملتی ہیں،تاہم چونکہ ان روایات کے موضوع ہونے کی صراحت بھی کسی معتبرمحدث کے کلا م میں نہیں ملی ،اورجمعہ کے دن درودشریف کی کثرت بغیر کسی تعیین وقت اورجگہ کے دوسری صریح وصحیح احادیث سے ثابت  بھی ہے،اس لئے ان صحیح احادیث کی موجودگی میں ضعیف احادیث کوبیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔

رہی بات کہ فضائل کے باب میں ضعیف احادیث کوبیان کیاجاسکتاہےتو اگرکوئی مذکورہ احادیث کوبھی فضائل کےباب میں بیان کرے توجائزہوگا یانہیں؟

اس کاجواب یہ ہے کہ ضعیف احادیث کوبھی فضائل کے باب میں کچھ شرائط کےساتھ  بیان کیا جاسکتا ہے(مثلا:

ضعف شدید نہ ہو۔

اس پرعمل کومسنون نہ سمجھاجائے،یعنی اس عمل کوخاص سنت سمجھنے کااعتقادنہ ہو۔

جوعمل اس حدیث میں بیان ہواہے ،قرآن وحدیث کی دوسری نصوص میں بھی اس کی اصل  بیان شدہ ہو۔

مذکورہ تینوں شرطوں میں سے آخری شرط توپائی جاتی ہے،اسی طرح دوسری شرط بھی پائی جاسکتی ہےکہ خاص سنت کااعتقادنہ ہومگرعوام کے سامنےجب کسی عمل کی فضیلت بیان کی جاتی ہےتوعموماوہ اسےسنت ہی سمجھنے لگتے ہیں،البتہ پہلی اوربنیادی شرط نہیں پائی جاتی ۔مثلا مذکورہ احادیث میں سے پہلی روایت تواصل کتاب میں ملی ہی نہیں،دوسری روایت کی سند ہی مذکورنہیں کہ صحت یاضعف کاحکم لگایاجاسکے،اورجوراوی مذکورہیں ان کابھی علم نہ ہوسکا،جبکہ تیسری روایت میں ضعف شدیدپایاجاتاہے،اورچوتھی روایت کےبارےمیں جس کتاب کاحوالہ دیاگیاہے،اس میں موجودنہیں،جن میں ہے،ان میں بھی ضعف کاحکم لگایاگیاہے،اس لئےمذکورہ روایات کوبطورفضائل کے بھی بیان نہیں کیاجاسکتا،لیکن چونکہ خاص درودشریف کے بارےمیں یہ بھی قول ہے کہ یہ واحد ایک ایساعمل ہے،جوہمیشہ مقبول ہی ہوتاہے،کسی صورت ردنہیں ہوسکتا(جیساکہ حضرت شیخ الحدیث مولانازکریارحمہ اللہ تعالی نے فضائل درودشریف میں بحوالہ شامیہ لکھاہے)،اس لئے اگرکوئی مذکورہ احادیث پرفضیلت کےحصول کی خاطرعمل کرناچاہتاہےتودرودشریف کے جوصیغے مستندروایات میں واردہیں،انہی کااہتمام کرناچاہئےکہ وہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان ہوئے ہیں،ان سے افضل کوئی صیغہ نہیں ہوسکتا،مگرچونکہ مذکورہ بالاروایت میں بیان کردہ صیغے بھی درودشریف ہی کے ہیں،اس لئے وہ پڑھنے سےدرودشریف کاثواب بہرحال ملےگا،کیونکہ درودشریف کی فضیلت بغیرکسی تعیین مکان وزمان کےویسے بھی دوسری احادیث صحیحہ سےثابت ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار"4 /  115:

مطلب في أن الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم هل ترد أم لا قال الفاسي في شرحه : ومن تمام كلام أبي سليمان عند بعضهم : وكل الأعمال فيها المقبول والمردود إلا الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم فإنها مقبولة غير مردودة ۔

مذکورہ بالا احادیث کے مقابلے میں جمعہ کے دن درودشریف کی فضیلت سے متعلق بہت سی صحیح اور صریح احادیث موجودہیں،سنن ابوداؤداورسنن ابن ماجہ میں ایک حدیث  ہے :حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ تمہارے دنوں میں سے افضل جمعہ کادن ہے،اس دن میں مجھ پرکثرت سے درود بھیجاکرو،تمہارادرودمجھ پرپیش کیاجاتاہے۔

یہ روایت بیھقی،نسائی اورسنن دارمی میں بھی مذکورہے۔

"سنن ابن ماجه"1 /  524:

 1636 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة . حدثنا الحسين بن علي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي الأشعث الصنعاني عن أوس بن أوس قال  قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة . فيه خلق آدم . وفيه النفخة . وفيه الصعقة . فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي فقال رجل يا رسول الله كيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت ؟ يعني بليت . ( إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ) [ ش ( أرمت ) أي بليت ] . صحيح

"سنن أبي داود للسجستاني"1 /  562:

 - حدثنا الحسن بن على حدثنا الحسين بن على الجعفى عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبى الأشعث الصنعانى عن أوس بن أوس قال قال النبى -صلى الله عليه وسلم- « إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا على من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة على ». قال فقالوا يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال يقولون بليت. قال « إن الله تبارك وتعالى حرم على الأرض أجساد الأنبياء صلى الله عليهم ».

"معرفة السنن والآثار للبيهقي"5 /  208:

 - قال أحمد قد روينا ، عن أنس بن مالك ، وأبي أمامة في فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجمعة ، ويوم الجمعة أحاديث ، وأصح ما روي فيها حديث أبي الأشعث الصنعاني ، عن أوس بن أوس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم « إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة ؛ فيه خلق آدم ، وفيه قبض ، وفيه النفخة ، وفيه الصعقة ؛ فأكثروا علي الصلاة فيه ؛ فإن صلاتكم معروضة علي » . قالوا : يا رسول الله ، وكيف تعرض صلواتنا عليك وقد أرمت ؟ يقولون : قد بليت . قال : « إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء » ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

/20رجب  1439 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب