03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےذہنی معذور ہونے کی بنیاد پر عدالتی خلع کا حکم
84303طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میں نے کورٹ سے اپنے شوہر سے خلع لی ہے،میں نے بہت کوشش کی ہے کہ وہ مجھے طلاق دے دے لیکن اس نے نہیں دی تو مجبوراً مجھے کورٹ سے لینی پڑی،مجھے فتویٰ چاہیے کہ مجھے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟

تنقیح:سائلہ کے سوالنامے اور منسلکہ عدالتی فیصلے میں کسی قسم کی وجہ نہیں لکھی گئی ہے کہ کس بنیاد پر خلع کا مطالبہ کیا گیا ہےاور کس بنیاد پر عدالت نے خلع  دی ہے؟البتہ سائلہ نےفون کال پر وضاحت کی ہے کہ شوہر ذہنی طور پر نفسیاتی مریض ہیں،اور اس کی تفصیل یہ بیان کی کہ حد سے زیادہ غصہ کرتے تھے،دیواروں پر سر مارتے تھے،چیزیں اٹھا کر پھینکتے تھے،حتی کہ ابھی آخری بار بلیڈ سے ہاتھ پر مختلف جگہوں پر کٹ لگا کر مجھے تصویریں بھیجیں،جس کے بعد میں بہت ڈر گئی اور میں نے طلاق  یا خلع کا مطالبہ کرنا شروع کردیا،لیکن وہ نہیں دے رہے تھے پھر مجبوراً ہمیں عدالت سے خلع لینی پڑی،شوہرعدالت میں حاضر ہوئے تھے،عدالت نے ان سے طلاق دینے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے نہیں دی تو عدالت نے خود خلع دے دی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤولہ میں بنیادی طور پر عورت نے خلع کا مطالبہ شوہر کی مخصوص حالت کی بنیاد پر کیا ہے،اور وہ حالت یہ ہے کہ شوہر انتہائی غصہ کرتا ہے،چیزیں اٹھا کر پھینک دیتا ہے،دیوار پہ سر مارتا ہے،حتیٰ کہ ایک مرتبہ بلیڈ سے ہاتھ پر کٹ لگاکر خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرچکا ہے،یہ ساری صورتحال بظاہر شوہر کے عقلی طور پر مکمل صحت مند نہ ہونے(جنون حادث/جنون افاقہ) پر دلالت کرتی ہے،لہٰذا اس بنیاد پر دفع ضرر کے لیے بیوی کا شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست ہے بشرطیکہ جنون اس درجے کا طاری ہوتا ہو کہ ایسے شخص کے ساتھ رہنا غیر معمولی حرج کا باعث ہو،البتہ اگر شوہر طلاق یا خلع نہ دے تو عدالت یا جماعت المسلمین کے ذریعے نکاح فسخ کروانے کے لیے درج ذیل طریقہ کار کا اہتمام ضروری ہے:

  1. سب سے پہلے عورت عدالت میں اپنے شوہر کا مجنون ہونا ثابت کرے۔ }سوال میں مذکور شوہر کی کیفیت کو عدالت میں شرعی گواہوں(دو دیانت دار مرد یاایک دیانت دار مرد اور دو دیانت دار عورتوں) کے ذریعے ثابت کرے){
  2. عدالت معاملے کی تحقیق کرے اور جنون ثابت ہونے پر شوہر کوعلاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے۔
  3. ایک سال کے بعد اگر عورت پھر عدالت سے رجوع کرے کہ شوہر کی جنونی کیفیت اب بھی برقرار ہےا ور حقیقتاً برقرار بھی ہو تو عدالت عورت کو تفریق کے مطالبے کا اختیار دے۔
  4. عورت اگر اسی مجلس میں تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی تفریق کردے۔
  5. یہ تفریق فسخ نکاح شمار  ہوگی۔

البتہ عدالت یا جماعت المسلمین کے ذریعے تنسیخِ نکاح کا مذکورہ اختیار درج ذیل شرائط کے ساتھ مشروط ہے:

  1. نکاح سے پہلے عورت کو ہونے والے شوہر کے مجنون ہونے کا علم نہ ہو۔
  2. نکاح کے بعد شوہر کی مذکورہ کیفیت(جنون موجِب للفسخ) کا علم ہونے کے بعد ،اس شوہر کے ساتھ رہنے پر رضا مندی کا اظہار نہ کیا ہو، نہ صراحتاً نہ دلالتہً،یعنی زبان سے بھی رضامندی کا اظہار نہ کیا ہواورجماع یا دواعی جماع پر اپنےاختیارسےقدرت بھی نہ دی ہو۔
  3. مہلت کا سال گزرجانے کے بعد دوبارہ درخواست پر عدالت عورت کو اختیا دے تو عورت اسی مجلس میں فرقت اختیار کرلے،اگر مجلس برخاست ہوگئی یا عورت خود یا کسی کے اٹھانے سے کھڑی ہوگئی تو اختیار نہ رہے گا۔

مذکورہ صورت میں سائل کی طرف سے پوچھے گئے سوال  اور منسلکہ دستاویزات کے مطابق چونکہ عدالت نے شرعی طریقہ کار کا اہتمام نہیں کیا لہٰذا عدالت سے جاری کردہ خلع  معتبر نہیں ہوگی اور عورت بدستور شوہر کے نکاح میں برقرار رہے گی،عورت کو چاہیے کہ ازسر نو عدالت میں دعویٰ دائر  کرے اور عدالت مذکورہ شرعی طریقے کے مطابق عدالتی کارروائی کرے ،البتہ اگر یقین ہوکہ عدالت مذکورہ شرعی طریقے کے مطابق عدالتی کارروائی نہیں کرے گی اورکسی بھی صورت میں عورت شخصِ مذکور کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تومالکیہ کے مسلک کے مطابق جماعت المسلمین کے ذریعے فیصلہ کروا لیا جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ علاقے کے چار پانچ سمجھدار اور دیندار لوگوں کو جمع کیا جائے، ان میں ایک یا دو عالم بھی ہوں، ان کے سامنے عورت خود یا اس کا وکیل دعوی پیش کرےاور شرعی گواہوں کے ذریعے شوہر کےذہنی مریض ہونے کو ثابت کرے،شوہر کے ذہنی مریض ثابت ہونے کے بعد فیصلہ کرنے والی جماعت شوہرکوعلاج کےلیےایک سال کی مہلت دے،ایک سال کے بعد اگر عورت پھر جماعت المسلمین سےرجوع کرے کہ شوہر کی جنونی کیفیت اب بھی برقرارہےاورحقیقتاًبرقراربھی ہوتوجماعت المسلمین عورت کوتفریق کے مطالبےکااختیار دے،عورت اگر اسی مجلس میں تفریق کا مطالبہ کرے تو یہ حضرات عورت کے مطالبہ پرفریقین کے درمیان تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کر دیں، اس کے بعد فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی،عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 526)

وإذا كان بالزوج جنون أو برص أو جذام فلا خيار لها كذا في الكافي.قال محمد - رحمه الله تعالى - إن كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة، ثم يخير المرأة بعد الحول إذا لم يبرأ، وإن كان مطبقا فهو كالجب وبه نأخذ كذا في الحاوي القدسي.

الفتاوى الهندية (1/ 525)

لو وجدت المرأة زوجها مجبوبا خيرها القاضي للحال ولا يؤجل كذا في فتاوى قاضي خان.

البناية شرح الهداية (5/ 590)

(وإذا كان بالزوج جنون، أو برص، أو جذام، فلا خيار لها، عند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: لها الخيار) ش: وبه قال الشافعي ومالك وأحمد م: (دفعا للضرر عنها، كما في الجب والعنة) ش: أي كما كان لها الخيار في الجب والعنة، فتخير دفعا للضرر عنها، حيث لا طريق لها سواه.

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار شرح تنویر الابصار (۴/۷۶۲)ط:دار الکتب العلمیۃ

قولہ:(وخالف محمد  فی الثلاثۃ الاول ) فی بعض النسخ حذفھا.

قولہ: (فی الثلاثۃ الاول) ھی الجنون ،والجذام،والبرص،وألحق بھا القھستانی کل عیب لا یمکنھا المقام معہ إلا بضرر، ونقلہ المؤلف فی  ((شارح الملتقی)).

العناية شرح الهداية (6/ 93)

( وإذا كان بالزوج جنون أو برص أو جذام فلا خيار لها عند أبي حنيفة وأبي يوسف ، وقال محمد لها الخيار) لأنه تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان بمنزلة الجب والعنة فتخير دفعا للضرر عنها حيث لا طريق لها سواه .

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 176)

وقال محمد رحمه الله: وللمرأة الخيار في الجنون والجذام وكل عيب لا يملكها المقام معه إلا بضرر، ألا ترى أنه لها ثبت الخيار في الجبّ والعنة وإنما ثبت دفعاً للضرر عنها، وفرّق بين جانب الرجل وبين جانب المرأة من حيث إنّ الرجل متمكن من دفع الضرر عن نفسه بالطلاق؛ لأن الطلاق في يده بخلاف المرأة وهما سويا بين جانب المرأة وبين جانب الرجل فيما سوى الجب والعنة والله أعلم.

الاختيار لتعليل المختار (3/ 115)

[فصل عيوب الزوجية]

فصل (وإذا كان بأحد الزوجين عيب فلا خيار للآخر إلا في الجب والعنة والخصي) ، أما عيوب المرأة فبإجماع أصحابنا؛ لأن المستحق هو التمكين، وإنه موجود. والاستيفاء من الثمرات، واختلاله بالعيوب لا يوجب الفسخ؛ لأن الفوات بالموت لا يوجبه، فهذا أولى.

وأما عيوب الرجل وهي الجنون والجذام والبرص فكذلك. وقال محمد: لها الخيار؛ لأنه لا ينتظم بينهما المصالح، فيثبت لها الخيار دفعا للضرر عنها، بخلاف الزوج؛ لأنه يقدر على دفعه بالطلاق، وصار كالجب والعنة. ولهما: أن الخيار يبطل حق الزوج، فلا يثبت. وإنما ثبت في الجب والعنة؛ لإخلالهما بالمقصود من النكاح، والعيوب لا تخل به.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 327)

وقال محمد: خلوه من كل عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر كالجنون والجذام والبرص، شرط لزوم النكاح حتى يفسخ به النكاح، وخلوه عما سوى ذلك ليس بشرط، وهو مذهب الشافعي.

(وجه) قول محمد أن الخيار في العيوب الخمسة إنما ثبت لدفع الضرر عن المرأة وهذه العيوب في إلحاق الضرر بها فوق تلك؛ لأنها من الأدواء المتعدية عادة، فلما ثبت الخيار بتلك، فلأن يثبت بهذه أولى بخلاف ما إذا كانت هذه العيوب في جانب المرأة؛ لأن الزوج، وإن كان يتضرر بها لكن يمكنه دفع الضرر عن نفسه بالطلاق، فإن الطلاق بيده، والمرأة لا يمكنها ذلك؛ لأنها لا تملك الطلاق، فتعين الفسخ طريقا لدفع الضرر، ولهما أن الخيار في تلك العيوب ثبت لدفع ضرر فوات حقها المستحق بالعقد، وهو الوطء مرة واحدة، وهذا الحق لم يفت بهذه العيوب؛ لأن الوطء يتحقق من الزوج مع هذه العيوب، فلا يثبت الخيار هذا في جانب الزوج.

الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري (5/ 8)

قوله ( وإذا كان بالزوج جنون أو جذام أو برص فلا خيار للمرأة عند أبي حنيفة وأبي يوسف ) .

وقال محمد لها الخيار دفعا للضرر عنها كما في الجب والعنة بخلاف جانبه ؛ لأنه متمكن من دفع الضرر بالطلاق ولأنها يلحقها الضرر بالمقام مع الجنون أكثر مما يلحقها بالمقام مع العنين فإذا ثبت لها الخيار مع العنين فهذا أولى ولهما أن في الخيار إبطال حق الزوج وإنما ثبت في الجب والعنة ؛ لأنهما يخلان بالوطء وهذه العيوب غير مخلة به ولأن المستحق على الزوج تصحيح مهرها بوطئه إياها وهذا موجود.

المبسوط للسرخسي (5/ 177)

فأما المرأة إذا وجدت بالزوج عيب الجنون أو الجذام أو البرص فليس لها أن ترده به في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعلى قول محمد لها الخيار إذا كان على حال لا تطيق المقام معه لأنه تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان بمنزلة ما لو وجدته مجبوبا أو عنينا ولكنا نقول بهذه العيوب لا ينسد عليها باب استيفاء المقصود إنما تقل رغبتها فيه أو تتأذى بالصحبة والعشرة معه وذلك غير مثبت لها الخيار كما لو وجدته سيء الخلق أو مقطوع اليدين أو الرجلين بخلاف الجب والعنة على ما قررنا.

الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي (8/ 199)

ونقل حنبل: إذا كان به جنون أو وسواس، أو تغير في عقل، وكان يعبث ويؤذي: رأيت أن أفرق بينهما. ولا يقيم على هذا.

شرح مختصر خليل للخرشي (4/ 198)

وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

         ۱۵.محرم۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب