| 85378 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ضلع بٹگرام میں سی پیک پر واقع علاقہ چانجل کی حدود صواب تنگی سے شروع ہوتی ہے اور اس جگہ سے لے کر شمال میں واقع میرہ گئی کی آخری حدود تک چانجل کا اطلاق ہوتا ہے ،ایک اس گاؤں کا اطلاق بمعنی عام ہے اور ایک بمعنی خاص ۔عام نام کے اعتبار سے مختلف دور دراز بستیوں کو شہر بٹگرام میں چانجل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی علاقے میں لوگ ان بستیوں کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں، جبکہ معنی خاص کے اعتبار سے چانجل ایک مستقل گاؤں ہیں جو دیگر متفرق محلوں کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ان بستیوں کے اپنے قبرستان ہیں اور ان کی غمی خوشی کے موقع پر مہمانوں کو کھانا کھلانے اور دیگر امور سنبھالنے کے اپنے طور وطریقے رائج ہیں اور باقاعدہ چانجل(بمعنی خاص) ان بستیوں سے کافی فاصلے پر ہیں،کہیں یہ فاصلہ زرعی زمینوں کے ذریعے قائم ہے اور کہیں ایسی جگہیں ہیں جہاں پہاڑ نما کیفیت کی وجہ سے وہاں مکانوں کی تعمیر ناممکن ہے،اور علاقہ چانجل کے ارد گرد ایک بڑی نہر بھی واقع ہے جو اس آبادی کو دیگر آبادیوں سے جدا کرتی ہے اورعلاقہ چانجل کا ان علاقوں کے ساتھ آمدورفت رابطہ بذریعہ پل ہوتا ہے۔
چانجل:گاؤں چانجل جس کی ذاتی متصل آبادی درج ذیل ہیں:موجودہ مردم شماری کے مطابق چانجل کی انسانی آبادی550 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 50 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کوئی بازار یا مارکیٹ نہیں ہے جہاں بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں،البتہ اس علاقے میں چار انفرادی دکانیں ہیں جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ان دکانوں میں سے ایک دکان خواتین کے لباس اور زیب وزینت کے اشیاء فروخت کرنے کے لیے گھر کے اندرونی حصے میں بنائی گئی ہے ،اس کے علاوہ تینوں دکانوں میں کریانے کی اشیاء، سبزی، اور مناسب فروٹ دستیاب ہوتا ہے، باقی غذائی اجناس مثلا: چاول، آٹا، چینی، گیس اور دیگر بنیادی اشیاء خوراک موجود نہیں ،ان کے علاوہ باقاعدہ قصاب خانہ نہیں ہے، تاہم ایک آدمی مال مویشی کی خریداری اور فروخت کا کام کرتا ہے اور کبھی کبھار جانور کو ذبح کرکے گوشت فروخت بھی کردیتا ہے ۔موچی ،نائی، لوہار، درزی کی باقاعدہ دکان نہیں ہے ،نیز بینک اور ایزی پیسہ کی سہولت بھی میسر نہیں ہے ،ڈاکخانہ کی باقاعدہ آفس نہیں ہے البتہ ایک سرکاری ڈاکیہ ڈاک خانے کے امور مناسب انداز سے چلانے کی کوشش کرتا ہے ،علاقہ ہٰذا کی بعض دکانوں میں معمولی نوعیت کا کپڑا اور جوتا بھی دستیاب ہوتا ہے۔ان ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے اس علاقے کے مکین بٹگرام یا تھاکوٹ بازار کا رخ کرتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے لیے علیحدہ گورنمنٹ پرائمری اسکول ہیں۔علاقہ ہذا میں ایک سی ڈی کمیونٹی ہے جہاں ایک سرکاری ڈاکٹر صبح سے لے کر ظہر تک ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے،مذکورہ سی ڈی میں نہ ادویات ہیں،نہ لیبارٹری ہیں اور نہ دیگر سہولیات،ڈاکٹر صرف چیک اپ کرکے مریض کو پرچی پکڑا دیتا ہے اور قریب میں ایک پرائیویٹ میڈیکل اسٹور ہے جس میں صرف ادویات میسر ہوتی ہیں اور ظہر کے بعد کےاوقات میں چھوٹی بیماریوں جیسے بخار درد وغیرہ کےلیے بھی دوائیاں دیدیتے ہیں
گاؤں چانجل سے متصل دیگر متفرق آبادیاں ( باوجود کسی قدر فاصلے کے) درج ذیل ہیں:
(1)بارو: موجودہ مردم شماری کے مطابق بارو کی انسانی آبادی 100 سے زائد ہیں۔کل ذاتی متصل خانہ جات 40 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے اس علاقے میں دو کریانے کی دکانیں ہیں جس میں سبزی، مرغ اور کریانےکی اشیاء دستیاب ہیں،ایک گھر میں خواتین کی اشیاء زیب وزینت فروخت ہوتی ہیں اور یہ باقاعدہ ایسی دکان نہیں ہے جس میں لوگوں کی آمد ورفت ہو۔
نوٹ: چانجل اور بارو کے درمیان پیدل راستہ 650 فٹ سے زائد ہے،البتہ دونوں علاقوں کا قبرستان ایک ہے اور اہلیان چانجل کی جائیداد کا ایک معتد بہ حصہ بارو میں موجود ہے جس میں زرعی اور غیرزرعی زمینیں شامل ہیں۔
(2) مٹہ:موجودہ مردم شماری کے مطابق مٹہ کی انسانی آبادی 200ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 23 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں ایک دکان ہے جہاں کریانے کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں۔سبزی،فروٹ اور دیگر غذائی اجناس میسر نہیں ہے۔
نوٹ: مٹہ اور چانجل کا پیدل فاصلہ 1000 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(3) خٹکو پیزہ:موجودہ مردم شماری کے مطابق خٹکو پیزہ کی انسانی آبادی 240ہیں۔کل ذاتی متصل خانہ جات 18 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں ایک دکان ہے جہاں کریانے کی اشیاء ستیاب ہوتی ہیں اور بوقت ضرورت 10 سے 12 لیٹر کی مقدار میں پٹرول کی دستیابی ممکن ہوتی ہے۔پیشہ کے لحاظ سے یہاں ترکان قوم کے لوگ رہتے ہیں اور سالانہ فصل کے عوض علاقہ چانجل میں لکڑی وغیرہ کاکام سرانجام دیتے ہیں۔علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 900 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(4) بجرگرام:موجودہ مردم شماری کے مطابق بجرگرام کی انسانی آبادی 840 ہیں۔ کل ذاتی متصل خانہ جات
60 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے چار کریانے کی دکانیں ہیں جہاں سبزی،فروٹ اور کریانے کی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں اور محدود مقدار میں بچوں اور خواتین کے سوٹ بھی گھریلو خاتون فروخت کرتی ہے۔اس کے ساتھ یہاں ایک میڈیکل اسٹور بھی ہے جس میں ایک اسکول کا استاد طبی تشخیص کا کام کرکے ان کےلیے دوائیاں تجویز کرتا ہے۔باقی اشیائے زندگی جو علاقہ چانجل میں موجود نہیں ہے،یہاں بھی میسر نہیں ہے۔علاقہ چانجل سے اس علاقے کی طرف کئی راستے موجود ہیں،جن کی بنیاد پر فاصلہ کم یا زیادہ ہوجاتا ہے ،لیکن علاقہ چانجل اور اس کے درمیان طویل مسافت پر زرعی زمینیں حائل ہیں اور زرعی زمینوں کا اختتام ایک دریا پر ہوتا ہے اور دریا کے اس پار بجرگرام کی حدود شروع ہوجاتی ہے۔
(5) خانخیل گھرانہ:موجودہ مردم شماری کے مطابق خانخیل گھرانہ کی انسانی آبادی30ہیں۔کل ذاتی متصل خانہ جات 7 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کوئی دکان نہیں ہے۔
(6)کشمیر چینہ/امارپٹے: موجودہ مردم شماری کے مطابق کشمیر چینہ /امارپٹے کی انسانی آبادی200 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 17 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں ایک سبزی کی دکان ہے اور ایک ہوٹل ہے ،مچھلی فروش بھی ہے اور ایک پبلک اسکول ہے،یاد رہے کہ اس آبادی سے دور یہ دکانیں ، ہوٹل اور سکول سی پیک پر واقع ہیں۔گاؤں چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 3000 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(7) فتح شاہ: موجودہ مردم شماری کے مطابق فتح شاہ کی انسانی آبادی300 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 31 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کوئی دکان نہیں ہے اور نہ دیگر ضروریات زندگی میسر ہے۔
علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 4000 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(8) بٹ پیزہ: موجودہ مردم شماری کے مطابق بٹ پیزہ کی انسانی آبادی400ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 40 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں بھی کچھ میسر نہیں ۔علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 2500 فٹ سے زیادہ ہے۔
(9) میرہ گئی: موجودہ مردم شماری کے مطابق میرہ گئی کی انسانی آبادی180 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 18 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کوئی دکان نہیں ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی میسر ہیں۔علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 5000 فٹ سے زیادہ ہے۔
(10) ڈھیری:موجودہ مردم شماری کے مطابق ڈھیری کی انسانی آبادی 1000 سے زائد ہے۔کل ذاتی متصل
خانہ جات 57 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں تین کریانے کی دکانیں ہیں جہاں سبزی،فروٹ،مرغ اور کریانے کی اشیاء میسر ہیں اور باقی غذائی اجناس اور اشیائے ضروریہ میسر نہیں ،یہاں اسکول بھی موجود نہیں ہے،البتہ ایک میڈیکل اسٹور موجود ہے جس میں ادویات فروخت ہوتی ہیں اور باقاعدہ ڈاکٹر کی سہولت میسر نہیں ہے۔علاقہ ڈھیری کا چانجل سے پیدل فاصلہ بھی کافی زیادہ ہیں۔باقی مختلف پیشے سنار،موچی،نائی موجود نہیں ہیں، البتہ قوم کے لحاظ سے ترکان موجود ہیں جن کو سالانہ فصل میں کچھ حصہ دیا جاتاہے اور اس کےعوض وہ لوگ گھروں میں لکڑی کے متعلق کام کرتے ہیں۔
(11) ڈھیری خاربوڑہ:موجودہ مردم شماری کے مطابق ڈھیرہ خاربوڑہ کی انسانی آبادی93 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 9 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
(12)بتکڑہ سر:موجودہ مردم شماری کے مطابق بٹکڑہ سر کی انسانی آبادی250 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 22 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے ۔بتکڑہ ڈھیری کے ساتھ ملحقہ علاقہ ہے جہاں ایک پرائمری سکول ہےجس میں ڈھیری اور بتکڑہ کے رہائشی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں،ڈھیری کا اپنا الگ قبرستان ہے اور اس علاقے کا اپنا قبرستان ہے۔علاقہ ڈھیری سے اس کا پیدل فاصلہ 900 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(13)پشور :بتکڑہ کے ساتھ ہی تھوڑی سی فاصلے پر پشور کے نام سے چند گھروں پر مشتمل ایک آبادی ہیں جہاں ایک مسجد بھی ہے۔اس پشور علاقے کا اختتام سی پیک پر ہوجاتا ہے اوروہیں چانجل تھانہ کے نام سے ایک پولیس چوکی ہےجہاں دو دکانیں ہیں،جس میں سبزی اور مرغی بھی مل جاتی ہے۔ایک تھانے کی مسجد بھی ہے۔موجودہ مردم شماری کے مطابق پشور کی انسانی آبادی200 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 18 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں نہ دکان ہے،نہ مدرسہ اور اسکول۔علاقہ ڈھیری سے اس کا پیدل فاصلہ 1200 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(14) بٹکڑہ ابراہیم :موجودہ مردم شماری کے مطابق بٹکڑہ ابراہیم کی انسانی آبادی100 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 9 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کچھ میسر نہیں ۔علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 5000 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(15)اخوند خیل ٹاؤن:چوکی کےسامنے ایک ہی خاندان کے 7 گھر ہیں جو اخوندخیل ٹاؤن کے نام سے مشہور ہے
جہاں ایک مسجد بھی ہے۔موجودہ مردم شماری کے مطابق اخوندخیل کی انسانی آبادی85 ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 7 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے۔علاقہ چانجل سے اس کا پیدل فاصلہ 5000 فٹ سے زیادہ ہیں۔
(16) ڈنگرونڈ:موجودہ مردم شماری کے مطابق ڈنگرونڈ کی انسانی آبادی 180 ہیں۔کل ذاتی متصل خانہ جات 28 ہیں۔ ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں کسی قسم کی کوئی دکان نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مدرسہ یا اسکول ہے،بلکہ یہ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بٹگرام کا رخ کرتے ہیں۔
(17) کنڈوسر:موجودہ مردم شماری کے مطابق کنڈوسر کی انسانی آبادی 53ہے۔کل ذاتی متصل خانہ جات 16 ہیں۔ضروریات زندگی کے فراہمی کے اعتبار سے یہاں بھی کسی قسم کی دکان نہیں ہے ۔
علاقہ چانجل چونکہ بالکل مرکز میں واقع ہےاور بقیہ پورے مختلف گاؤں اس کے ارد گرد واقع ہیں اس لیےنہر گاؤں کی تفصیلات ذکر کرنے کے بعد علاقہ چانجل سے اس کا فاصلہ بتادیا جاتا ہے ،تاکہ اگر ان متفرق بستیوں کو مذکورہ فاصلے کے باوجود ایک بستی اور ان کی آپس کے تعلق کو اتصال واتحاد قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں.
الغرض گاؤں چانجل کے متفرق اجزاء کی کل آبادی 4000 سے متجاوز ہیں۔جبکہ بعض جگہوں میں اتصال بھی محل نظر ہے اور ہر جگہ کے الگ الگ نام سے موسوم ہونے کے اس ساری آبادی کو ایک آبادی کہنا بھی مشکل ہے۔نیز اشیائے ضرورت کی چالیس پچاس تک کی دکانیں متصل بھی نہیں ہیں، جو بازار کی شکل میں ہو،اسی طرح زندگی سے متعلق روزمرہ کی سہولیات مثلا غلہ،گندم،چینی کے دکانیں موجود نہیں ،ایسے ہی ضروری پیشہ ور افراد مثلا سنار،موچی،قصاب بھی موجود نہیں ہے،البتہ تنازعات کے فیصلے کےلیے قدر فاصلے پر پولیس چوکی واقع ہے۔علاوہ ازیں ضروریات یومیہ کےلیے ان تینوں گاؤں کے رہائش پذیر یا ان کے قرب وجوار میں رہنے والے لوگ کسی ایک گاؤں کی طرف رجوع کرنے کے بجائے بٹگرام شہر کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مذکورہ تینوں گاؤں میں کوئی ایک گاؤں کی وضع وصفت ایسی نہیں ہے کہ جسے عرف میں شہر کہا جاسکے یا قصبہ کبیرہ کہا جاسکے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا دور دراز علاقوں کی تفصیلات ایک ویلیج کونسل کی بنیاد پر ذکر کی گئی ہے جو ویلیج کونسل چانجل کے نام سے موسوم ہے جو کہ خالص دیہاتی طرز پر ایک علاقہ ہے اور مختلف دور دراز محلوں پر مشتمل ہیں جس میں مختلف محلوں کے مختلف نام ہے۔
ان تفصیلات کو ذکر کرنے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا ان صفات کی حامل بستیوں میں جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے یا
نہیں ؟یعنی ان متفرق بستیوں کو ایک سمجھ کر ان میں جمعہ کا اجراء کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اور کیا مذکورہ بالا تفصیلات جمعہ کی انعقاد کے لیے شرعا کافی ہیں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔جمعہ کے جواز کے لیے اصل تو یہ ہے کہ مصر یعنی شہر ہو،اس کے بعد قریہ کبیرہ یعنی بڑی بستی جس میں بازار ہو، میں جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے،قریہ کبیرہ معلوم کرنے کے لیے مختلف حضرات نے ضروریات نیزگھروں اور لوگوں کے حوالے سے مختلف اندازے ذکر کیے ہیں،یہ اپنے اپنے دور میں قریہ کبیرہ کی تعیین کی صورتیں تھیں،چناچہ اس حوالے سے آجکل کے اعتبار سے قریہ کبیرہ میں بازار کے بارے میں یہ دوصورتیں ہیں:
1۔جہا ں متصل دورویہ دکانیں ہوں۔
2۔جہاں اتنی دکانیں ہوں( اگرچہ متفرق ہوں) جن سے مقامی افراد کی اکثر ضروریات زندگی سے متعلق اشیاء مل
جاتی ہوں۔
ضروریات زندگی میں تین چیزیں اہم ہیں:
1۔کھانے، پینے اور پہننے کی اشیاء موجود ہوں۔
2۔دینی وعصری تعلیم کے مراکزہوں۔کم از کم میٹرک تک تعلیم ہوتی ہو۔
3۔صحت کے مراکز۔جہاں بنیادی علاج معالجہ کی سہولت موجود ہو۔
یہ اس بناء پر کہ قریہ کبیرہ بہرحال اپنی ہیئت کے اعتبارسے مصر سے چھوٹا ہوتا ہے ،لہذا اس میں وہ تمام چیزیں بطور شرط ملحوظ رکھنا مشکل ہےجو مصر کی خاصیت یا اس کے لیے ضروری ہوا کرتی ہیں۔
حضرات اکابر رحمہم اللہ تعالی کے فتاوی میںقریہ کبیرہکے بارے میں پوچھےگئے سوالاتکے جوابات پرغور کرنے سے معلوم ہوا کہ ایسی جگہ جہاں معتدبہ آبادی اور دکانیں ہوں اور مقامی لوگوں کی اکثر اشیاء ضرورت پوری ہورہی ہوں وہ بھی قریہ کبیرہ ہے،اور وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے۔
- فقہاء احناف سے فناء مصر کی حد بندی کے بارے میں مختلف اقوال منقول ہیں،تاہم اصل اور مفتی بہ قول یہ ہے کہ فنائے مصر میں میلوں کا اعتبار نہیں اورنہ کسی مقدار کے ساتھ اس کی حد بندی ہوسکتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ علاقہ ہےجہاں سے شہر کی ضروریات متعلق ہوں ،مثلا: شہر کی عیدگاہ،قبرستان ،چھاؤنی ،کارخانہ،اڈہ ،اسٹیشن ہسپتال ہو،وہاں شہر کی مضافات ہونے کی بناء پر جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے،جہاں اس طرح نہ ہو وہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں۔عرفا الگ الگ مقام سمجھے جانے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے مضافات میں شامل نہیں ہوں گے۔
- ان آبادیوں کے درمیان اتصال بھی نہیں ہے،درمیان میں زرعی زمینیں،فاصلہ اور خاص کر عرف میں سب کا الگ شمار ہونا اس کی دلیل ہے۔
اس پوری تفصیل کے پیش نظر مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جا رہی ہیں،اور مذکورہ گاؤں کے مضافات کی بستیاں گاؤں کی حدود سے خارج ہیں،عرف کے اعتبارسے تمام گاؤں الگ شمارہوتے ہیں،جبکہ خود وہ بستیاں بھی نہ مصر یا فناء مصر ہیں اور نہ ہی ایسی بڑی بستیاں ہیں جہاں بازار اور دکانیں ہوں، لہذااس گاؤں اور اس کے اردگرد گاؤں میں رہنے والوں پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ۔
حوالہ جات
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 259):
"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة
إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا
تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها .....
أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها ۔۔۔وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح....."۔
وفی فیض الباری(2/329):
واعلم ان القریۃ والمصر من الأشیاء العرفیۃ التی لاتکاد تنضبط بحال وان نص،ولذا ترک الفقھاء المصر علی العرف۔
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 138):
(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لاكما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل
مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي.
(قوله والمختار للفتوى إلخ) اعلم أن بعض المحققين أهل الترجيح أطلق الفناء عن تقديره بمسافة وكذا محرر المذهب الإمام محمد وبعضهم قدره بها وجملة أقوالهم في تقديره ثمانية أقوال أو تسعة غلوة ميل ميلان ثلاثة فرسخ فرسخان ثلاثة سماع الصوت سماع الأذان والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره. بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منهما على فرسخ من كل جانب، نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار اهـ ملخصا من [تحفة أعيان الغني بصحة الجمعة والعيدين في الفنا] للعلامة الشرنبلالي وقد جزم فيها بصحة الجمعة في مسجد سبيل على أن الذي بناه بعض أمراء زمانه وهو في فناء مصر بينه وبينها نحو ثلاثة أرباع فرسخ وشيء
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
03/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


