03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدنےزندگی میں جائیدادوالدہ کےنام کرکےقبضہ میں دےدی توکیاحکم ہے؟
85665میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم مفتی صاحب! ہمارےوالد صاحب نےدوشادیاں کی تھیں،جن میں سےپہلی زوجہ کوایک سال کےبعدہی طلا ق دےدی تھی،ان سےایک بیٹا عبدالسلام تھا،جس کی کفالت  اس کی والدہ نےہی لےلی تھی،وہ اس کو اپنےوالد سےملنےبھی نہیں  دیتی تھیں،بلکہ یہاں تک کہہ دیاتھاکہ وہ مرچکےہیں،ہماری والدہ سےشادی کےبعد ہم 3 بھائی دوسری بیگم سےہیں اورتاحیات وہ ان کےنکاح میں  تھی،6سال قبل ہمارےوالد صاحب کی وفات ہوگئی ۔

ہمارے والد کاایک گھر تھا،جوانہوں نےاپنی زندگی میں بہت سال پہلےہی والدہ کےنام  کردیاتھااوردرمیان میں گھر تبدیلی کی وجہ سےفائل وغیرہ کےچکرمیں اپنے نام ایک گھر کیا،مگر ہمیشہ یہ کہاکہ یہ تمہاراہے،صرف KDAکی مشغولیت کی وجہ سےوہاں عورتیں نہیں جاسکتیں،یہ تمہاراہے،بہر کیف، جب ہم اپنے فائنل گھرمیں 7سال پہلےمنتقل ہوئےتویہ گھرو الد نےوالدہ کےنام کردیاتھاکاغذوں  میں بھی ۔

اب سوال یہ ہےکہ کیااس گھر میں ہمارےچوتھےبھائی کاکوئی حصہ شرعا ہے؟والدکی وفات سےقبل ہی یہ والدہ کےنام ہوچکاتھا،کچھ لوگ کہتےہیں کہ یہ ظلم ہے،تمہارےوالد کویہ والدہ کےنام پر نہیں کرنا چاہیےتھا،کیونکہ اس سےلڑکا(دوسری بیوی سےہونےوالابیٹا)جائیدادسےمحروم ہواہے،تم لوگوں کو تووالدہ کےبعد مل ہی جائےگا۔

اس سےقبل دارالعلوم سےبھی فتوی لیاہے،جس میں انہوں نےیہی کہاتھاکہ چونکہ زندگی میں نام کردیاتواب نہ اس کاہے،نہ تم تین لڑکوں کا کوئی حصہ ہے،ہاں والدہ کی وفات کےبعد تم تینوں کو ملےگا۔

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ والدصاحب نےوالدہ کو مکان پر قبضہ دےدیاتھا،اوررہائش بھی اسی گھرمیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ والدنےاپنی زندگی میں والدہ کےنام کرنےکےساتھ ساتھ قبضہ بھی دےدیاتھا،لہذایہ اب یہ مکان والدہ کا ذاتی شمار ہوگا،اس میں آپ ورثہ کاکوئی حصہ نہیں ہوگا،ہاں اگراس گھرکےعلاوہ والدکی دیگرجائیدادبھی ہوتودیگرجائیداد میں تمام ورثہ کاحصہ ہوگا۔

زندگی میں تقسیم کرنے میں بہتراورمفتی بہ قول یہ ہےکہ بیٹےاوربیٹیوں کوبرابرحصہ دیاجائے،کیونکہ یہ عطیہ اورہبہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہےکہ"اپنی اولادکوعطیہ دینےمیں برابری کرو"اس لئےاگربرابردیاجائےتوبہترہے،لیکن  اگرکسی معقول وجہ مثلا دین داری،خدمت گزاری،دینی خدمات اورحاجتمندی  وغیرہ کی وجہ سےکسی کوزیادہ اورکسی کوکم دیاجائےتوبھی شرعاگنجائش ہے۔

زندگی میں بعض ورثہ کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کے لیے کسی وارث کو زیادہ دینا یا بعض اولاد کو دینا اور بعض کو محروم کردینا یا کسی معقول وجہ کے بغیر کم دینا شرعاجائز نہیں،احادیثِ مبارکہ میں ان دونوں صورتوں کی ممانعت موجود ہے،لہذااس سےاحترازلازم ہے۔

صورت مسئولہ میں اگرخدانخواستہ والد صاحب کامقصدیہ تھاکہ اولادجائیدادسےمکمل محروم ہوجائےتوشرعااس خاص نیت سےجائیدادبیوی کےنام اور قبضہ میں دینےکی صورت میں والدصاحب ظالم اور گناہگارہونگےاورروزقیامت جواب دہ بھی ہونگے،لیکن گناہگارہونےکےباوجودجائیدادبیوی کی ذاتی شمار ہوگی،اوردیگرورثہ کامیراث میں حصہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"شرح المجلۃ"1 /462:

وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔

"صحیح البخاری "418 :  قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعدلوابین اولادکم فی العطیۃ ۔

"البحرالرائق" 7/490 : وفی الخلاصۃ: المختارالتسویۃ بین الذکرواالانثی فی الھبۃ ۔

"الفتاوى الهندية "35 /  24:ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين ، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار ، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار ، كذا في الظهيرية ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/جمادی الاولی 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب