| 85667 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:ہم جب بالغ ہوئےاورپتہ چلاکہ ہمارابھائی ایک اور ہےتوہم نےوالد صاحب کو مجبورکرکےایک دودفعہ ملاقات کی ،مگر اس کی والدہ نےپھربھی اچھی طرح ملنےنہ دیا،والدنےیہ بھی کہاکہ کالج کی فیسوں کایا کوئی اورمسئلہ ہےتو بتاؤ،مگراس کی والدہ نےصاف انکارکردیاکہ نہیں، کوئی واسطہ نہیں رکھناتوکیااب بعدمیں وراثت کامطالبہ درست ہے؟ باقی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، شرعاجوحکم ہوگاوہ کریں گے،ان شاءاللہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ملنےنہ دینےاور واسطہ نہ رکھنےکی وجہ سےوراثت سےمحروم نہیں ہوگا،اسی طرح اگرشروع میں کالج کی فیس وغیرہ لینےسےمنع کیاہےتواس منع کرنےکی وجہ سےوراثت کاحصہ ساقط نہیں ہوا،اگروالدہ کےنام اورقبضہ میں دی گئی جائیدادکےعلاوہ والدکی دیگر جائیدادموجود ہے(جس میں تمام ورثہ کےساتھ چوتھےبھائی کابھی حصہ بنتاہے)توشرعااس کومطالبہ کاحق ہےاوروہ دیگرورثہ سےاپناحصہ وصول کرسکتاہے۔
ہاں اگر باقاعدہ میراث کی تقسیم کےوقت وہ اپناحصہ لینےسےانکار کرکردے،اس طورپر کہ اس کواس کاوراثتی حصہ ملکیت میں دےدیاجائےپھروہ واپس کردےتوخاص اس صورت میں دوبارہ مطالبہ کاحق نہ ہوگا۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
26/جمادی الاولی 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


