03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ،بیوی ،3بیٹےاور4بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
85512میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال:میت کےورثہ میں وراثت کی تقسیم کےحوالہ سےراہنمائی  درکاہے:

میت کےورثہ :والدہ،بیوی،4 بیٹیاں  اور3 بیٹے۔

وراثت کی رقم 3766000روپےہے،اس کی تقسیم شریعت کےمطابق کس طرح ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم   کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر  اگرمرحوم   نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (والدہ،بیوہ،3بیٹے اور4بیٹیوں  )میں تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کی والدہ کو کل میراث کاسدس1/6(چھٹاحصہ )ملےگا،مرحوم کی بیوہ کو کل میراث کاثمن 1/8(آٹھواں حصہ)ملےگا،باقی میراث بیٹےبیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بیٹوں کو دودوحصےاوربیٹیوں کوایک ایک حصہ ملےگا۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتو کل میراث کا 16.666فیصدوالدہ کاہوگا،اور 12.5%فیصدبیوی کوملےگا۔باقی 70.8333فیصد کوبیٹےبیٹیوں میں تقسیم کیاجائےگا،ہربیٹےکو 14.1666%فیصدحصہ دیاجائےگااور ہربیٹی کو 7.083%فیصدحصہ ملےگا۔

مذکورہ بالامیراث کےحصوں  کےمطابق سوال میں مذکورہ رقم کی تقسیم :

رقم )روپے)

فیصدی حصہ  

ورثہ

نمبرشمار

627666.687

16.666%

والدہ  (سدس)

  1.  

470750

12.5%

بیوی  (ثمن )

  1.  

533516.687

14.1666%

بیٹا(عصبہ)

  1.  

533516.687

14.1666%

بیٹا(عصبہ)

  1.  

533516.687

14.1666%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

266758.3

7.083%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

266758.3

7.083%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

266758.3

7.083%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

266758.3

7.083%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

3766000

100%

 

مجموعہ

حوالہ جات

\"السراجی فی المیراث "5،6 :

 الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:

یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔

"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

20/جمادی الاولی 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب