| 85470 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان حضرات اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دینی ادارہ کے نام پر مختلف علاقوں میں متعدد جائیدادیں(زرعی زمینیں، مکانات، دکانیں وغیرہ) وقف ہیں،لیکن ان موقوفہ جائیدادوں میں سے کچھ جائیدادیں ایسی ہیں کہ ان سے ادارہ کو بالکل ہی فائدہ نہیں ہورہا یا فائدہ تو پہنچ رہا ہے لیکن بالکل معمولی (غیر معتد بہٖ) منافع ہورہا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. بعض زرعی جائیدادیں سیلاب اور آب پاشی وغیرہ کا نظام صحیح نہ ہونے کی وجہ سے قابل کاشت نہیں رہیں۔
2. بعض زمینوں پر کاشت کاری کی صورت میں کوئی معتد بہٖ پیداوار نہیں ہوتی، بالکل معمولی پیداوار ہوتی ہے اوربعض اوقات ادارہ کو کاشت کاری پر کیے گئے اخراجات کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔
3. بعض موقوفہ مکانات / دکانوں کا کرایہ برائے نام ہے، بلکہ ان کی حفاظت اور بقا کے لیے ادارہ کو خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ۴۔ بعض جائیدادوں کا قبضہ بھی ادارہ کے پاس نہیں ہے، بلکہ کسی اور نے ان پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، جن کا کیس عدالت میں طویل عرصہ سے زیر سماعت ہے،عدالتی کارراوئی کے اخراجات ادارہ کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ بعض مقبوضہ جائیدادوں پر قبضہ واپس لینے کی کوشش کے دوران جانی نقصان کا اندیشہ ہے ۔ ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے شریعت مطہر ہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ: (الف) کیا صورت مسئولہ میں اس موقوفہ اراضی ،دکان اور مکان کو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (ب) اگر بیع جائز ہو تو ان کے ثمن کو ادارہ کی کن مدات میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ بینو او توجروا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کی رو سے موقوفہ زمین کو وقف کرنے کے بعد بیچنا جائز نہیں،کیونکہ موقوفہ زمین واقف(وقف کرنے والے) کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے۔البتہ اگر موقوفہ زمین ایسی ہے کہ وہ بالکل قابل انتفاع نہیں ہے تو ایسی زمین کو دوسری قابل انتفاع زمین سے تبدیل کرنا جائز ہے۔
استفتاء میں مذکور پہلی تین صورتوں میں جو زرعی زمینیں ،مکانات یا دکانیں نا قابل انتفاع ہیں ،یا ان پر کاشت کاری یا کرایہ پر دینے کی صورت میں ادارہ کو فائدے کی بجائے نقصان برداشت کرنا پڑتا ہو،تو ایسی صورت میں ان کو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔البتہ اس رقم سے دوسری قابل انتفاع زمین خریدنا لازم ہوگا،اس رقم کو ادارہ کے کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
اور چوتھی صورت میں ادارے کی جن املاک پر کسی نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے تو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز قبضہ چھڑانے کی بھر پور کوشش کرے۔اس عذر کی وجہ سے موقوفہ زمین کو بیچنا جائز نہیں۔البتہ اگر ناجائز قبضہ چھڑانے کی کوئی اور صورت ممکن نہ ہو تو مجبوری کی وجہ سے موقوفہ جائیداد حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے،لیکن لینے والے کے لیے یہ رشوت لینا بہرحال ناجائز اور حرام ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه . (رد المحتار:583/6)
قال ابن مازه رحمه الله :سئل شمس الإسلام الحلواني عن أوقاف المسجد إذا تعطلت وتعذر استغلالها هل للمتولي أن يبيعها ويشتري مكانها أخرى؟ قال: نعم.( المحيط البرهاني:233/6)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله: (قوله: وشرط في البحر إلخ) عبارته وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه ،وفي موضع منع منه: لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به ،وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا .ويجب أن يزاد آخر في زماننا: وهو أن يستبدل بعقار لا بدراهم ودنانير فإنا قد شاهدنا النظار يأكلونها، وقل أن يشتري بها بدلا ولم نر أحدا من القضاة فتش على ذلك مع كثرة الاستبدال في زماننا. (رد المحتار:586/6)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله: لو اضطر إلى دفع الرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض.( رد المحتار: 72/5)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


