03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم بھائی کی پنشن میں دوسرے بھائی کا حصہ
85562میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم! میرے والد اور میرے چچا میرے دادا کے گھر میں مشترکہ رہتے تھے۔ میرے دادا اور دادی کا انتقال بالترتیب 2005ء اور 2007ء میں ہوا ہے۔ میرے والد کا انتقال 2014ء میں ہوا۔ 2015ء میں ان کی کل پنشن 28 لاکھ روپے ملی۔ 2012ء میں میری شادی پر میری بیوی کے لیے زیور (4 تولہ سونا) میرے والد نے بنایا تھا جوکہ اس کے حق مہر میں شامل نہیں تھا۔ میرے والد کی وفات تک میرے چچا کے کسی بچے کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ میرے والد کے ذمہ ان کی وفات کے وقت  4 لاکھ 21 ہزار روپے قرض  تھا (جس میں کچھ قرض کی رقم ان کے آخری وقت میں بیماری کی وجہ سے لیا گیا تھا، جبکہ کچھ رقم پہلے سے گھر کے اخراجات کی مد میں واجب الادا تھی) جو میں نے ان کی پنشن کی رقم سے ادا کر دیا۔ اس کے علاوہ گھر کی مرمت پر 3 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ مزید یہ کہ پنشن کی رقم سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے کا پلاٹ خریدا ہے۔

 اب میرے چچا کا مطالبہ ہے کہ میرے والد کی ملنے والی کل پنشن کی رقم، ماہانہ پنشن کی رقم اور میری بیوی کے زیورات میں سے آدھا حصہ ان کا حق بنتا ہے کیونکہ ہم مشترکہ طور پر رہتے تھے۔ ہمارے گھر میں میرے والد کی تنخواہ آتی تھی ،  میرے چچا زمین کی دیکھ بھال کر تے تھے جس کے علاوہ میرے چچا کی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا۔ جو فصل زمین سے حاصل ہوتی وہ گھر میں خرچ ہوتی تھی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے چچا کا پنشن کی بقیہ رقم (18 لاکھ 29 ہزار)، پلاٹ، ماہانہ پنشن کی رقم اور میری بیوی کے زیورات میں سے حصہ ہوگا یا کل پنشن کی رقم 28 لاکھ روپے، ماہانہ پنشن کی رقم اور میری بیوی کے زیورات میں سے حصہ ہوگا یا کسی چیز میں حصہ نہیں ہوگا۔ اگر ان کا حصہ بنتا ہے، تو اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟ گھر کے افراد میں میرے علاوہ میری والدہ، میری بیوی، میرے چچا، ان کی بیوی، ان کے 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد کے انتقال پر حکومت کی طرف سے جو 28 لاکھ روپے ملے ہیں یہ مختلف اقسام کے فنڈز پر مشتمل ہیں جن میں: جی ۔ پی فنڈ، بینیولیٹ فنڈ، گروپ انشورنس، لیو ان کیشمنٹ،  گریجویٹی اور  پنشن  شامل ہیں۔ ان 28 لاکھ میں سے جو رقم جی۔پی فنڈ، لیو ان کیشمنٹ  اور گریجویٹی کی مد میں ملی ہے ، وہ آپ کے والد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہو کر بطورِ میراث تقسیم ہو گی جس کا آٹھواں حصہ یعنی 12.5% آپ کی والدہ کا ہے اور بقیہ رقم کے آپ مالک ہیں۔

اور  ان 28 لاکھ میں سے جو رقم بینیولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس پر مشتمل ہے اور اسی طرح  جو رقم ماہانہ پنشن کے نام پر مل رہی ہے وہ صرف  آپ کی والدہ  کا حق ہے اور وہ اس کی تنہا مالکہ ہیں۔اس حوالے سے  تفصیلات ذیل میں دیے گئے لنک پر جا کر تفصیلی فتویٰ میں دیکھی جا سکتی ہیں:

almuftionline.com/2023/08/16/11007/

آپ کے چچا  کا اس کل رقم (28 لاکھ)،  خریدے گئے پلاٹ  اور ماہانہ پنشن میں کوئی حق نہیں ہے۔

جہاں تک آپ کی اہلیہ کے زیورات کا تعلق ہےتو وہ آپ کے والد کی طرف سے اسے ہدیہ تھا۔  جب آپ کی اہلیہ نے زیورات پر قبضہ کر لیا تھا  تو وہ اس کی ملک میں آ گئے  تھے، اب ان زیورات  میں بھی آپ کے چچا  کا کوئی حق نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: للزوجات حالتان :الربع بلا ولد، والثمن مع الولد.

‌‌(الدر المختار ،ص:762)

وقال ایضاً: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت، ثم أصله، ثم جزء أبيه، ثم جزء جده (ويقدم الاقرب فالاقرب منهم) بهذا الترتيب: فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل).

(الدر المختار ،ص:763)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:(الخالية إلخ) صفة كاشفة ؛لأن تركۃ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية. (رد المحتار :6/ 759)

وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك، أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام: من ترك مالا، أو حقا، فهو لورثته.(بدائع الصنائع :7/ 57)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه، ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها قال: وهبت منك هذه العين فقبضها الموهوب له بحضرة الواهب ولم يقل: قبلت، صح لأن القبض في باب الهبة جار مجرى الركن فصار كالقبول. ولوالجية .

(رد المحتار :5/ 688)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

16/جمادی الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب