| 85434 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عزیزالرحمان کوہستان اپر خیبرپختونخواں سے میرا تعلق ہے۔میرا سوال یہ ہے آج کل ٹیلی گرام ایپ پر مختلف پروجیکٹ چل رہے ہیں۔کسی اور کے لنک کے تھرو پراجیکٹ جوائن کرنا پڑتا ہے جوائن کرنے کے بعد ان کے مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو جوائن اور سبسکرائب کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ساتھ مختلف گیم کھیلنا پڑتا ہے جن سے کوائن ملتے ہیں اور مختلف لوگوں کو اپنا لنک بھیجنا پڑتا ہے اگر وہ لنک جوائن کرتے ہیں تو اس سے بھی کوائن ملتے ہیں اور ان کی کمائے کا کچھ پرسنٹ یعنی کچھ حصہ منافع کے طور پہ اس لنک بھیجنے والے کو بھی ملتے ہیں آخر میں اپنے کوائن سیل کرنے پڑتے ہے جس کے بدلے میں ڈالر ملتے ہیں پھر ڈالر کو بیچ کر پاکستانی کرنسی لینا پڑتا ہے اس طریقے کار کے تحت یہ پیسے لینا جائز ہے یا ناجائز ہے اس کی رہنمائی فرمائی جائے شکریہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں کسی کو فالو،جوائن یا سبسکرائب کرناکوئی مقصودی منفعت نہیں ہےجس کی اجرت لی جائے ، نیز یہ کہ ان گیمز میں اگر خلافِ شرع امور کا ارتکاب ہویا ان میں شرط دونوں طرف سے ہو کہ جو جیتے گاساری رقم اس کوملےگی، یہ بھی جوا ہونے کی وجہ سے ناجائزہے ۔اس کے علاوہ بیع میں یہ ضروری ہے کہ مبیع (جوکہ یہاں پرکوائن ہے) مال متقوم ہو اورخارج میں اس کو محسوس کیا جا سکتا ہو،جبکہ کوائن فرضی ہندسےہیں اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے، لہذامذکورہ طریقۂ کار کے تحت پیسےکماناجائزنہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:لغةً: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعًا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ؛ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له:فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية. (الدرالمختارعلی رد المحتار:(4/6
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا، مالا متقوما، مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم. منح.(ردالمحتارمع الدرالمختار:(59,58/5
قال العلامۃ علاء الدين الكاساني رحمہ اللہ:وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا، فلا ينعقد بيع المعدوم..... (ومنها) أن يكون مالا؛ لأن البيع مبادلة المال بالمال.( بدائع الصنائع(140,138/5:
قال العلامۃ خسروالحنفي رحمہ اللہ تعالیٰ:وإن شرطاه لكل واحد منهما على صاحبه، لم يجز كما في المسابقة.(درر الحكام شرح غرر الأحكام(321/2:
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
7جمادی الاولیٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


