03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآن پاک لوح محفوظ میں کن حروف کے ساتھ لکھا ہوا ہے
85769قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

یہ سوال بہت دنوں سے پریشان کر رہا ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ میں کس حرف میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک سات احرف میں نازل ہوا نبی علیہ السلام پر لیکن لوح محفوظ میں کس حرف میں لکھا ہوا ہے ۔کیا قرآن عظیم لوح محفوظ میں قریشی حرف میں لکھا ہوا ہے۔ مجھے پتہ ہے آپ کو یہ سوال غیر ضروری لگے گا لیکن جب بھی شیطان میرے دل میں وسوسے ڈالتا ہے قرآن پاک کے بارے میں تب میں ان وساوس کو یہ کہ کر بھگاتا ہوں کہ قرآن کریم بالکل اسی طرح ہمارے پاس موجود ہے جس طرح لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے لیکن جب سے مجھے سات احرف کے بارے میں پتہ چلا ہے تب سے شیطان وسوسے ڈال رہا ہے ،بہت دنوں سے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن باربار یہ خیال واپس آجاتا ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ میں کس حرف میں لکھا ہوا ہے۔ میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی سچی کتاب ہے اور اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود لی ہے، اور قرآن كريم  تمام مخلوقی تصرفات سے پاک و صاف ہے۔ اور آخر میں یہ بھی بتا دیجیے گا کہ عام مسلمان کا قرآن عظیم پر ایمان کیسا ہونا چاہئے یعنی کن کن باتوں پر ایمان ہونا چاہئے اور اگر ان باتوں پر ایمان نہ ہو تو مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ سورہ بروج بَلْ هُوَ قُرْآنَ مَجِيدٌ (21) بلکہ وہ قرآن سے بڑی شان والا في لوح محفوظ (22) لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہیےکہ قرآن پاک اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے ،اور ہر قسم کی تحریف  سے پاک ہے،اور ہمارے آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے، اور اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری   خودلی ہے۔

باقی قرآن پاک کی قراءات وغیرہ کا مسئلہ ایک علمی مسئلہ ہےجس میں عوام الناس کونہیں الجھناچاہیےاورنہ ہی اس مسئلہ پربحث مباحثہ کرنا چاہیےاور نہ ہی قیامت میں اس کے متعلق کوئی سوال ہوگا۔تاہم اس کاعام فہم جواب دیاجاتاہےاسی پر اکتفاءکیا جائے مزیدوہم اور شک میں مت پڑیں ۔قرآن پاک  سبعۃ احرف کی رعایت کر کے لکھا گیا ہے اور سبعۃ احرف سے راجح قول کے مطابق اختلاف قراءت کی سات انواع مراد ہیں۔

 (1)صیغ اسماء         (     2) صیغ افعال               (    3) اختلاف اعراب    (                        4) کمی بیشی      (    5) تقدیم وتاخیر          (                6) الفاظ مترادفہ       ( 7) صفات حروف۔اور قرآن پاک ان تمام  انواع  قراءت کی رعا یت کر کے لکھا گیا ہے،اور امت  نے اسی ترتیب کے مطابق یاد کیا،غالب اورصحیح رائے یہ ہے کہ قرآن  پاک لوح  محفوظ میں بھی اختلاف قراءت کی ان سات انواع کے ساتھ لکھا ہوا ہے مگر لوح محفوظ میں سبعۃ احرف کی کیفیت  کا کہیں ذکر  نہیں اور نہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں کہ اس کے متعلق کوئی خا ص نظریہ یاعقیدہ بنائیں۔ ہم اس کے مکلف ہیں کہ اس پر عقیدہ رکھیں کہ وہ لوح محفوظ میں بھی موجود ہےاور اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کا بندوبست کیا ہوا ہے۔

حوالہ جات

قال الله تبارك وتعالى:﴿إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ﴾] الحجر: 9-10 [

 قال العلامةالسندي رحمه الله :وقال الإمام أبو الفضل الرازي :الكلام لايخرج عن سبعة أحرف في الاختلاف: 

  1. اختلاف الأسماء من إفراد وتثنية وجمع وتذكير.
  2. اختلاف تصريف الأفعال وما تستند إليه، من: الماضي، والمستقبل، والأمر، والمتكلم، والمخاطب، والفاعل، والمفعول به.
  3. وجوه الإعراب.
  4. الزيادة والنقصان.
  5. التقديم والتأخير.
  6. القلب والإبدال في كلمة بأخرى أو حرف بآخر.
  7. اختلاف اللغات من فتح وإمالة وترقيق وتفخيم …  (علوم القراءات:ص107)

قال الله تبارك وتعالى:فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ ‌‌(سورة الواقعة :78)

قال العلامۃ النسفي رحمه الله:{فِى كتاب} أي اللوح المحفوظ {مَّكْنُونٌ} مصون عن أن يأتيه الباطل أو من غير المقربين من الملائكة لا يطلع عليه من سواهم. (تفسير النسفي: 3/ 429)

أخرج الإمام البخاري رحمه الله في "صحيحه" (6/ 53797111:)من حديث عمر بن الخطاب يقول:.. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف فاقرءوا ما تيسر منه"

محمد  اسماعیل بن محمد اقبال

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

5/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن محمد اقبال

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب