| 85645 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
اگر میرے پا س کوئی چیز ہو اور میں کسی آدمی کو 100 روپے میں فروخت کروں اور ساتھ یہ بھی کہوں کہ کسی اور کو یہ چیز فروخت نہ کرنا۔پھر جب میں تمہیں 150 روپے دوں گا تو تم مجھے دوبارہ فروخت کردینا ۔یہ معاملہ ربا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چیز فروخت کرتے وقت واپسخریدنے کی شرط لگانے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہے،کیونکہ ہر ایسی شرط جس میں خریدنے یا بیچنے والے کا فائدہ ہو تو وہ جائز نہیں ہے۔لہذا اس معاملہ کو بغیر کسی کمی بیشی کے ختم کرنا ضروری ہے۔تاہم اگر معاملہ کرتے وقت واپس لینے کا تذکرہ اور شرط نہ لگائی جائے،بلکہ چیز فروخت کرنے سے پہلے یافروخت کرنے کے بعدیہ مفاہمت کرلی جائے کہ خریدنے والا آگے اس چیز کو فروخت نہیں کرے گا،بلکہ جب فروخت کرنے والا 150 روپے دے گا تو خریدنے والا اس چیز کو واپس فروخت کردے گا، تو اس طرح معاملہ کرنا جائز ہوگا۔اور خریدنے والے پر اپنے وعدے کی وجہ سے شرط کی پاسداری ضروری ہوگی۔
حوالہ جات
وإن کان شرطا لا یقتضیہ العقد،ولیس فیہ عرف ظاهر قال:فان کان فیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین فالبیعفاسد؛لأن الشرط باطل في نفسہ.(المبسوط للسرخسی: 13/15)
وإن کان الشرط شرطا لم یعرف ورود الشرع بجوازہ فی صورتہ وھو لیس بمتعارف إن کان لأحد المتعاقدینفیہ منفعۃ أو کان للمعقود علیہ منفعۃ والمعقود علیہ من أهل أن یستحق حقا علی الغیر فالعقد فاسد کذا فی الذخیرۃ.....ولو اشتری شیئا لیبیعہ من البائع فالبیع فاسد.(الفتاوی الھندیۃ :3/134)
قال):ولکل واحد من المتعاقدین فسخہ رفعا للفسادالخ)لکل واحد من متعاقدي البیع الفاسد لہ فسخ البیع رفعا للفساد،سواء کان قبل القبض أو بعدہ(العنایۃ شرح الھدایۃ:6/465) (احسن الفتاویٰ:6/524)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/جمادی الاولیٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


