03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جماعت میں سجدہ پر قدرت نہ ہو تو تنہا نماز پڑھے
85647نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

اگر ایک شخص کسی بیماری کی وجہ سے سجدہ زمیں پر نہیں کرسکتا اور کرسی پر نماز پڑھتا ہے اگر وہ گھر میں کوئی خصوصی انتظام کر لے جس کی مدد سے وہ سجدہ زمیں پر کر لے چو کہ مسجد میں ممکن نہ ہو اسی صورت میں اس شخص کے لئے مسجد میں نماز ادا کرنا بہتر ہے یا کہ گھر میں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جماعت سنت مؤکدہ یاقریب بواجب ہے اور سجدہ  کرنا فرض ہے،اس لیے جماعت میں شامل ہونے کی غرض سے  سجدہ کو چھوڑنا جائز نہیں،لہذا گھر میں ممکنہ صورت اختیار کر تے ہوئےزمین پر سجدہ کرکے نماز پڑھے،اگر ممکن ہو توگھر میں جماعت کرلے۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصكفي رحمه الله :‌ولو ‌أضعفه ‌عن ‌القيام الخروج لجماعة صلى في بيته قائما...أقول علی فرض تصورہ ینبغي أن لایسقط لأن الركوع وسيلةإليه، ولايسقط المقصود عندتعذرالوسيلة،كمالم يسقط الركوع وسجودعند تعذالقيام).الدر المختار 565\2:)

قال ابن عابدين رحمه الله : (قوله الخروج لجماعة) أي في المسجد، وهو محمول على ما إذا لم تتيسر له الجماعة في بيته، أفاده أبو السعود ط (قوله به يفتى) وجهه أن القيام فرض بخلاف الجماعة، وبه قال مالك والشافعي، خلافا لأحمد بناء على أن الجماعة فرض عنده أقول علی فرض تصورہ ینبغي أن لایسقط لأن الركوع وسيلةإليه، ولايسقط المقصود عندتعذرالوسيلة،كمالم يسقط الركوع وسجودعند تعذالقيام . (حاشية ابن عابدين : 1/ 446)

محمد اسماعیل اقبال

دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی

27/جمادی الاولی 1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن محمد اقبال

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب