03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے پہلے طلاق کو معلق کرنا
85716طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب اگر کسی غیر شادی شدہ نے قسم کھایا کہ اگر فلاں کام کیا تو میری ہونے والی بیوی (مراد اپنی منگیتر تھی) کو ایک طلاق اور پھر وہ کام کیا اس کے بعد پھر دوبارہ یہی شرط لگائی کہ اگر فلاں کام کیا تو میری ہونے والی بیوی دوسری طلاق اور پھر وہ کام کیا ماقبل کی طرح اب مندرجہ ذیل سوالات ہیں 1،مندرجہ بالا صورت میں اگر حیلہ کی طور پر منگیتر سے قبل کسی دوسری عورت سے نکاح کی تو اسکو یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں 2,یہ دونوں طلاق نکاح قبول کرنے کے بعد ایک ہی دفعہ واقع ہونگے یا ایک طلاق سے بائنہ ہو جائیگی اور دوسری طلاق کیلئے الگ مجلس میں قبول کرنا پڑیگا 3، جس طرح عام طور پر ایک مجلس میں تین مرتبہ ایجاب وقبول ہوتا ہے تو کیا اس طرح ہوسکتا ہے کہ مبتلا بہ کی ایک مرتبہ قبول کرنے پر پہلی ( یا دونو) طلاق واقع ہو جائے اور اسی مجلس میں دوسری دفعہ قبول کرے تو دوسری طلاق واقع ہو جائے اور تیسرے قبول سے نکاح ہو جائے یا اس کیلئے مجلس کا بدلنا لازم ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مذکورہ صورت میں اپنی منگیتر یا کسی اور عورت سے نکاح کرنے پر طلاق نہیں ہوگی  ۔اس لیے کہ اس نے” میری ہونے والی بیوی “یعنی  منگیتر کو طلاق کہا ہے ۔جبکہ اس منگیتر سے اس وقت نکاح ہے ہی نہیں ،نیز اس صورت میں یہ اضافت الی النکاح بھی نہیں ہے ۔لہذا شادی ہونے پربھی طلاق واقع نہ ہوگی ۔ البتہ بلاوجہ قسمیں کھانا مناسب نہیں ، خاص طور پر طلاق وغیرہ کی قسم کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

قال في الفتاوى الهندية:ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي.( الفتاوى الهندية :1/ 420)

قال الحصکفی رحمه الله تعالى:(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (،أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) (الدر المختار علی رد المحتار :3/ 344)

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۹  جمادی الاولی  ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب