| 85280 | جائز و ناجائزامور کا بیان | رشوت کا بیان |
سوال
میں ایک سرکاری ملازم ہوں اورمخصوص میری ذمہ داری ہے سرکارکی طرف سے ،جس کی مجھے سرکارکی طرف سے مخصوص تنخواہ اورسہولیات ملتی ہیں،میرافسرڈپٹی کمشنرہے،2011 میں مجھے میرے افسر نے میری ذمہ داری کے علاوہ ایک اضافی کام دیاجوکہ باقاعدہ ایک مستقل افسرکی ذمہ داری ہوتی ہے،لیکن یہ پوسٹ اکثرخالی رہتی تھی اورضلع کوہستان جیسے پسماندہ علاقہ میں تھی،جہاں کوئی افسرجانانہیں چاہتاتھا،اگرکسی افسرکی پوسٹنگ ہوبھی جاتی تووہ رشوت یااثرورسوخ استعمال کرکے پوسٹنگ کروالیتا،میرے افسرنے اس جگہ کی ذمہ داری مجھے اضافی دیدی،کیونکہ سرکاری کام میں بہت حرج ہورہاتھا اورمیں نے چھ سال تک یہ اضافی کام کیا،اس دوران میں نے اپناکام بھی پوری طرح کیا،کبھی کبھارمیں نے کام کی زیادتی کی وجہ سے چھٹی والے دن بھی کام کیا،مجھے اس کی کوئی اجرت یاتنخواہ نہیں ملتی تھی،البتہ اس کام پرمجھے کمیشن کے نام پربغیرکسی حساب وکتاب کے رقم مل جاتی اورکبھی کبھی ایک فیصد کے حساب سے رقم مل جاتی،کیونکہ اس کاتعلق ٹھیکداروں کے ترقیاتی کاموں سے تھا،جیسے سڑک بنانا،سرکاری عمارت بنانا،ٹھیکداروں کی نامزدگی اورٹینڈردیناوغیرہ،میری ذمہ داری یہ تھی کہ ٹھیکداروں کی فائل چیک کرکے اپنے افسرکومنظوری کے لئے پیش کرنا،ڈی سی دستخط کرکے متعلقہ محکمہ کوٹھیکہ داروں کوبل اداکرنے کی منظوری دیتااوروہ فائل منظورشدہ جب میں متعلقہ محکمہ کو واپس کرتا متعقلہ محکمہ کااہلکارمجھے اپنے محکمہ کے حساب سےٹھیداروں سے وصول شدہ رقم میں سے کچھ رقم دیتا جومیں اپنے افسرکودیتا،افسرکچھ رقم مجھے اورکچھ رقم خود رکھ لیتا،اسی طرح اگرکوئی اورسرکاری اہلکار یہ کام کرتاتواس کوبھی کچھ حصہ مل جاتا،اسی طرح میراافسرکبھی بغیررقم کے بھی یہ منظوری والاکام کردیتاتھا،جس کامجھے کچھ نہیں ملتاتھا،اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات ہیں:
1.کیایہ رقم جس کی مقدارکامجھےاندازہ نہیں لیناجائزتھایانہیں؟
2.اگرجائزنہیں تھاتواس کو لگانے کا کیاہے؟کیونکہ نہ تومجھے رقم کااندازہ ہے اورنہ ہی مالکان کاپتہ ہے۔
3.کیایہ کمیشن کی رقم اس نوعیت کی نہیں جس طرح پراپرٹی ڈیلرز خریدوفروخت کرتے ہیں اورمالک اورخریداردونوں سے رقم لیتے ہیں،یہاں پرمیرے افسرکوبغیرکسی زبردستی کے ملتی تھی اوراگرکوئی ٹھیکدار نہ بھی دیتاتوبھی اس کاکام ہوجاتاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرکاری ملازمین کو ان کی محنت کے بدلےتنخواہ اور دیگر سہولیات ملتی ہیں (ہماری معلومات کےمطابق ان کے اپوائنٹمنٹ لیٹر میں اس قسم کے کسی کمیشن کا ذکر نہیں ہوتا) اس لیے ان کا ٹھیکیداروں سے کمیشن لینا رشوت اور حرام ہے،پھر اگر وہ رشوت لینے کے باوجود ٹھیکیداروں سے مطلوبہ معیار کے مطابق کام لیتے ہیں توصرف رشوت کا گناہ ہوگا اور اگر بلیک میل ہوکر ناقص کام پر خاموش ہوجاتے ہیں تورشوت کے ساتھ ساتھ خیانت اور بددیانتی کےارتکاب کی وجہ سے دوہراگناہ ہوگا،صورت مسؤلہ میں ٹھیکداروں سے آپ کے آفسرکاپیسہ لینااورپھرآپ دونوں کاتقسیم کرلینادرست نہیں تھا،کیونکہ شرعی طورپریہ رشوت کے زمرہ میں آتاہے،باقی یہ بات کہ آپ کے افسرکی طرف سےٹھیکہ دینے کے لئے پیسوں کامطالبہ نہیں ہوتاتھا،لوگ خود دیتے تھے،پھریہ رشوت کیسے ہے؟جوچیزعادت اور معمول کاحصہ بن جائے،اگرچہ زبانی طورپر اس کاذکرنہ ہو تو وہ چیزبھی مشروط کے درجہ میں ہوتی ہے،سرکاری محکمہ جات میں عمومی رجحان یہی ہے کہ کوئی بڑاکام پیسوں کے بغیرنہیں ہوتا،یہی وجہ تھی کہ ٹھیکہ لینے والے آپ کویاآپ کے افسرکومطالبہ کے بغیرپیسہ دیتےاورآپ لوگ لے لیتے،اس لئے اس عمومی پریکٹس کومدنظررکھتے ہوئے یہ رقم بھی رشوت کہلائے گی،جس کا حکم یہ ہے کہ جن لوگوں سے یہ رقم لی گئی تھی،اگران کاعلم ہوجاتاہے تو وہ رقم ان کو دینا ضروری ہے، اگر ان کا انتقال ہوگیا ہے تو ان کے ورثہ کو دینا ضروری ہے، اگر اصل لوگوں کا علم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثواب مذکورہ رقم غرباء پر تقسیم کرنا ضروری ہے،باقی کتنی رقم دیناضروری ہے؟اگرمالکان کاعلم ہوجائے توان سے معلومات لے لی جائیں،اگران کوبھی یاد نہ ہو یاان کاعلم نہ ہوسکے توخوب سوچ وبچارکی جائے جس طرف رجحان جائے تواتنی مقدارصدقہ کردی جائے۔
باقی آپ نے جواضافی کام باقاعدگی سےکیاہے،اس کی اجرت مثل( اس جیسے کام کرنے کی معروف اجرت) کے آپ حق دار ہیں،جس کامطالبہ افسرسے کرسکتے ہیں اورافسر اپنی اتھارٹی کی حد تک سرکاری فنڈسے اس کی ادائیگی کرنے کامجازہے۔
حوالہ جات
فی رد المحتار(ج5 / ص 362،دارالفکر):
وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاءوالإمارة.الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط۔ وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني، وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط، وهو أن يهدى ليكف عنه الظلم والحيلة أن يستأجره إلخ قال: أي في الأقضية هذا إذا كان فيه شرط أما إذا كان بلا شرط لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي ليعينه عند السلطان فمشايخنا على أنه لا بأس به، ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع فأهدى إليه بعد ذلك فهو حلال لا بأس به وما نقل عن ابن مسعود من كراهته فورع.الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا. وفي القنية الرشوة يجب ردها ولا تملك وفيها دفع للقاضي أو لغيره سحتا لإصلاح المهم فأصلح ثم ندم يرد ما دفع إليه اهـ، وتمام الكلام عليها في البحر ويأتي الكلام على الهدية للقاضي والمفتي والعمال.
وفی إعلاءالسنن(ج14/ص635):
والحاصل:أن حد الرشوة هوما يؤخذ عماوجب علي الشخص سواءكان واجباًعلی العين أوعلی الكفاية وسواء كان واجباً حقاً للشرع كما في القاضي وأمثاله...أو كان واجباً عقداً كمن آجر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيما لهم،أو عليهم كأعوان القاضى، وأهل الديوان وأمثالهم.
وفی رد المحتار (ج 26 / ص 453):
وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱/جمادی الاولی ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


