03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیئرز یعنی حصص کی خرید وفروخت میں مارجن لینے کے بعد بروکر سے پیسے لینے کی صورت میں مارجن کے لین دین کاحکم
84782خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

مجھے ایک کمپنی کے شیئرز مطلوب تھے ،میرے پاس پیسے کچھ کم تھے،پانچ لاکھ کے شیئر زلینے تھے  جبکہ میرے پاس صرف ایک لاکھ روپے تھے،میرے بروکر نے مجھے کہا کہ اگر تمہیں پانچ لاکھ کے شیئرز خریدنے ہیں تو خرید لو ،شام میں ادائیگی کے وقت اگر تمہارے پاس پیسے نہ ہوئے تو میں بقیہ چار لاکھ دے دوں گا ،لیکن یومیہ 0.05 فیصد مارجن(سود) لوں گا،ایک مرتبہ یہ معاملہ اس طرح ہوا کہ شام کو میرے پاس پیسوں کا انتظام ہوچکا تھا تو میں نے اپنے پاس سے ادائیگی کی اور اپنے بروکر سے چار لاکھ روپے ادا نہیں کروائے لیکن وعدے کے مطابق مجھے چار لاکھ پر 0.05 فیصد مارجن کمیشن کے علاوہ دینا پڑا،دوسری مرتبہ اسی سے ملتی جلتی صورت پیش آئی لیکن اس  وقت مجھے شام میں پیسوں کی ادائیگی کے لیے ضرورت پڑی تو بروکر نے وعدے کے مطابق میری طرف سےپیسے ادا کیے ،اور دو دن بعد میں نے بروکر کے چارلاکھ روپے واپس کیے، مع  (0.05 فیصدضرب دو ) کے ،اور اسی طرح سے معاملہ مستقل چلتا رہتا ہے،اب میرے چند سوالات ہیں؟

شیئرز کی خرید وفروخت کرتے ہوئےمارجن لینے کے بعد،اگرکلوزنگ کے وقت پیسوں کی ادائیگی کے لیے بروکر سے پیسے لینے کی ضرورت پیش آتی ہےاور باقاعدہ ہم بروکرسے پیمنٹ کرواتے ہیں تو کیا بروکر کے ساتھ کمیشن کے علاوہ التزام کے مطابق طے شدہ مارجن کا لین دین  جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مارجن ٹریڈ ایک سودی معاملہ ہے،جس میں بروکر کی طرف سے انویسٹر کو یہ یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم سےزائد مثلاً دس گنا زائد رقم تک شیئرز کی خریداری کرسکتا ہے،بعد میں اگر پیسوں کی ادائیگی کی ضرورت پیش آئی اور انویسٹر کے پاس نہ ہوئے تو یہ پیسے قرض کے طورپربروکر ادا کرے گااوربروکر انویسٹر سے یومیہ حساب سے مارجن یعنی سود وصول کرے گا،اور یہ مارجن کمیشن کے علاوہ ہوتا ہے،چونکہ یہ قرض پر مشروط اضافے یعنی سود کا معاملہ ہے اس لیے مارجن کا عقد ناجائز ہےاوراس سے اجتناب لازم ہے،رہی بات یہ کہ اگر کلوزنگ کے وقت بروکر سے پیسے لینے کی ضرورت پیش آئی تب بھی یہ معاملہ ناجائز رہے گا اور کمیشن کے علاوہ مارجن کے نام سے جو اضافی رقم انویسٹر کی جانب سے بروکر کو دی جاتی ہے اس کا لین دین ناجائز اور حرام ہوگا ،اگر مارجن لے لیا تو اسے لوٹانا ضروری ہوگا،اس لیے کہ اگر بروکر سے قرض لینے کی ضرورت پیش آٗئی تو یہ مارجن قرض پر مشروط اضافہ ہوگا جوکہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے،لہٰذا اس کالین دین ناجائز ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي :(12/ 109)

فأما الربا في اللغة: هو الزيادة. يقال: أربى فلان على فلان، أي زاد عليه. ويسمى المكان المرتفع ربوة لزيادة فيه على سائر الأمكنة. وفي الشريعة: الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا.

[المعیار الشرعی رقم(۲۱)،الأوراق المالیۃ (الأسہم والسندات)]

۳/۵۔لا یجوز شراء الأسہم  بقرض  ربوی من السمسار  أو غیرہ(بیع الھامش Margin)کما لایجوز رھن السہم لذٰلک القرض.وینظر المعیار الشرعی رقم(۱۲) بشان الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ البند۴/۱/۲/۶.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۲۶.صفر.۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب