03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی پی فنڈ، بینولینٹ فنڈ اور ریٹائرمنٹ بینیفٹ کی رقم پر زکوۃ کا حکم
84638زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ ہم سے حکومت ہر ماہ تنخواہ میں جی پی فنڈ، بینولینٹ فنڈ اور ریٹائرمنٹ بینیفٹ کی مد میں مخصوص رقم کی کٹوتی کرتی ہے۔ اسمیں جو جی پی فنڈ کے پیسے ہیں ،وہ ہم اپنی جمع شدہ رقم کا 80% کسی بھی وقت بطور قرض نکلوا سکتے ہیں، جو کہ حکومت ہم سے تین  سال کے اندر اندر کاٹ کر واپس جمع کرتی ہے۔ مزید یہ کہ جی پی فنڈ کی رقم پچپن  سال کی عمر ہوجانے کے بعد ہم بنا واپسی کے نکال سکتے ہیں ،اس سے کم عمر میں وہ ہم جب بھی نکالیں گے تو واپس جمع کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ مذکورہ بالا باقی دو قسم کی رقوم ہمیں صرف ریٹائرمنٹ یا وفات پر ہمارے ورثاء کو دی جاتی ہے۔ اور یہ رقوم سکیل کے حساب سے مخصوص ہوتی ہے۔ اس میں جس کی جتنی رقم جمع ہوتی ہے۔ اگر وہ ملنے والی رقم سے کم یا زیادہ بھی ہوگی تب بھی ہمیں وہی مخصوص طے شدہ رقم ملے گی۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ ان تین اقسام کی رقوم پر زکوٰۃ واجب ہوتی  ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پراویڈنٹ فنڈ:

(1)۔۔۔ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم اگر متعلقہ محکمہ اپنے ہی اکاؤنٹ میں رکھتا ہو یا ملازم کی اجازت کے بغیر کسی اور ٹرسٹ یا ادارے کو دیتا ہو تو ریٹائرمنٹ کے بعد وہ رقم ملنے کی صورت میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق ملازم پر اس کی زکوۃ واجب نہیں ہوگی؛ کیونکہ یہ دینِ ضعیف ہے، البتہ اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کردے تو زیادہ بہتر ہے۔ ملازم کی موت کی صورت میں اس کے ورثا پر بھی گزشتہ سالوں کی زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

(2)۔۔۔ اور اگر متعلقہ محکمہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ملازم کی اجازت سے کسی مستقل اور خود مختار ٹرسٹ یا ادارے کی تحویل میں دیتا ہو تو پھر اس رقم کی زکوۃ ملازم پر واجب ہوگی؛ کیونکہ ایسی صورت میں وہ ٹرسٹ وغیرہ ملازم کا وکیل ہوگا اور وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔ پھر اگر یہ ٹرسٹ یا ادارہ اس رقم کو اپنے پاس ملازم کے قرض کے طور پر رکھتا ہو، اس کو ملازم کی اجازت سے کسی کاروبار میں نہیں لگاتا تو ہر سال موجود رقم کی زکوۃ ساتھ ساتھ بھی ادا کرسکتے ہیں اور وصول ہونے پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ایک ساتھ بھی ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اس رقم کو ملازم کی اجازت سے کسی کاروبار میں لگاتا ہو تو پھر ہر سال کی زکوۃ اسی سال ادا کرنا لازم ہوگا۔     

 اگر اس دوسری صورت میں ملازم اس رقم کی زکوۃ ادا کرنے سے پہلے فوت ہوجائے اور اس نے اس کی زکوۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ورثا پر اس کے کل ترکہ کے ایک تہائی حصے تک اس کی وصیت پوری کرنا لازم ہوگا، لیکن اگر اس نے زکوۃ ادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو تو پھر گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ورثا کے ذمے لازم نہیں ہوگا، لیکن اگر عاقل، بالغ ورثا اپنے اپنے حصوں سے اس کی طرف سے گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کردیں تو امید ہے کہ اس کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔  

(باستفادۃٍ من امداد الفتاوی:3/152۔ جواہر الفقہ:3/292-258، مع الإضافات)

(ماخوذ از تبویب79170)

بینوولنٹ فنڈ: اس میں ایک معمولی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اوراس فنڈکے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز قائم کیاجاتا ہے، یہ  فنڈ  اس بورڈ کی تحویل میں ہوتے ہیں اور اس بورڈ کے بارے میں ایکٹ بینوولنٹ فنڈ اینڈ گروپ انشورنس 1969ء کی دفعہ نمبر5 میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ یہ ایک باڈی کارپوریٹ ہے، جو ایک شخصِ قانونی (LEGLE PERSON)کے طور پر جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا مالک بن سکتا ہے، خریدوفروخت کر سکتا ہے اور مقدمات میں مدعی اور مدعی علیہ بن سکتا ہے، لہذا ملازم کی طرف سے اس بورڈ کو دی جانے والی رقم تبرع شمار ہوکر اس بورڈ کی ملکیت میں داخل ہوتی ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ ادارہ  یہ رقم اپنے مجموعی فنڈ(جس میں مرکزی حکومت، دیگراداروں کی طرف سے دی گئی رقوم اور پرائیویٹ افراد اور اداروں کی طرف سے دیے گئے عطیات بھی شامل ہوتے ہیں) داخل کر کے  مستحق ملازمین (خواہ وہ  ان فنڈز کے استحقاق کے لیے اپنی تنخواہ سےکٹوتی کرواتے ہوں یا نہ) کا تعاون کرے، لہذا یہ فنڈ ملازمین کی شخصی یا اجتماعی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملازم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زندگی میں  بہرصورت اس فنڈ میں کسی حصے کا مطالبہ کرے۔

         بینوولنٹ فنڈ چونکہ  بورڈ آف ٹرسٹیز کی طرف سے  ملازم کو عطیہ  دیا جاتاہے ۔ لہذا اس فنڈ پر پچھلے سالوں کی زکوۃ واجب نہیں ہو گی۔

ریٹائرمنٹ بینیفیٹ فنڈ: یہ فنڈ  خیبر پختونخواہ  گورنمنٹ ایمپلائز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس  کے تحت قائم کیا گیا ہےاس میں ایک معمولی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے۔ اس فنڈ کیلئے بھی ایک بورڈ قائم کیا جاتا ہے ۔ یہ فنڈ اس بورڈکی تحویل میں  ہوتا ہے۔ملازمین کی تنخواہوں سےکٹوتی کے علاوہ  حکومت کی طرف سے بھی اس فنڈ کو عطیات ملتے ہیں ۔متعلقہ بورڈ اس رقم کو اپنی صواب دید کے مطابق  بینکوں اور مالیاتی اداروں میں رکھتاہے۔ملازم کو یہ  فنڈ ریٹائرمنٹ کے بعد ملتا ہے اور اسی طرح اگر  ملازم کا  دوران سروس انتقال ہوجائے تو اس کی فیملی کو یہ  فنڈ ملتا ہے۔

        یہ بھی بینوولنٹ فنڈ کی طرح ہے جو کہ بورڈ کی طرف سے  عطیہ دیا جا تا ہے ۔ لہذا اس فنڈ پر پچھلے سالوں کی زکوۃ واجب نہیں ہو گی۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 10)

وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط .كذا قال عامة مشايخنا .أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة ،كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا.

وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر.

وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض.

وأما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة، وثمن ثياب البذلة والمهنة وفيه روايتان عنه، ذكر في الأصل أنه تجب فيه الزكاة قبل القبض لكن لا يخاطب بالأداء ما لم يقبض مائتي درهم فإذا قبض مائتي درهم زكى لما مضى، وروى ابن سماعة عن أبي يوسف عن أبي حنيفة أنه لا زكاة فيه حتى يقبض المائتين ويحول عليه الحول من وقت القبض وهو أصح الروايتين عنه، وقال أبو يوسف ومحمد: الديون كلها سواء، وكلها قوية تجب الزكاة فيها قبل القبض إلا الدية على العاقلة ومال الكتابة فإنه لا تجب الزكاة فيها أصلا ما لم تقبض ويحول عليها الحول.

عطاء الر حمٰن

دارالافتاء،جامعۃالرشید کراچی

14/صفرالمظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عطاء الرحمن بن یوسف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب