| 85321 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحومہ کے نام پرساڑے سات مرلہ پلاٹ ،زرعی زمینیں اورنقدی وغیرہ ہے تواس کی تقسیم کیسے ہوگی؟ورثہ میں شوہر،بیٹا،بیٹی اوروالدین ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ترکہ تقسیم کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے دیکھیں اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں، اگرمرحومہ کے ذمہ نہ توکسی کاقرض ہے اورنہ ہی وصیت کی ہے تواس صورت میں یہ ساری جائیداد(پلاٹ اورزرعی زمین) سامان اور نقدی ورثہ میں تقسیم ہوگی،حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
|
ورثہ کی تفصیل |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
مجموعہ |
|
والد |
6/36 |
16.666 |
16.666 |
|
والدہ |
6/36 |
16.666 |
33.332 |
|
شوہر |
9/36 |
25 |
58.332 |
|
بیٹا |
10/36 |
27.777 |
86.109 |
|
بیٹی |
5/36 |
13.888 |
100 |
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


