| 85561 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم میں ناہید دختر ہارون رشیدہوں۔ میری شادی راشد عباسی سے ہوئی۔ میری شادی کو 14 سال ہوئے ہیں۔ 2013 ء میں میرے شوہر راشد عباسی نے سب گھر والوں کے سامنے مجھے تین طلاقیں دیں اور میں والدین کے گھر آگئی ۔پھر میرے شوہر نے دو دارالافتاء سے فتوی ٰلیا جو کہ طلاق کے واقع ہونے کا تھا۔ ہم الحمدللہ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے شوہر نے اہل حدیث مسلک کے عالم سے فتویٰ لیا ۔اس وقت مجھے تین ماہ کا حمل تھا اسی بنیاد پر اہل حدیث عالم نے طلاق ثلاثہ واقع نہ ہونے کا فتوی دیا، جس کی بنیاد پر ہم میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنے لگے۔ اس طلاق سے قبل راشد سے میرا ایک بیٹا پیدا ہوا اور اس مذکورہ طلاق کے بعد ایک بیٹی اور بیٹا پیدا ہوئے۔ پھر کچھ عرصے بعد اس نے مجھے دوبارہ ایک طلاق دی اور رجوع کر لیا ۔اس کے بعد پھر دوسری طلاق دی اور رجوع کر لیا ۔پھر راشد نے اپنے والدین اور گھر والوں کے سامنے کہا کہ تم میرے ساتھ طلاق یافتہ اور حرام رہ رہی ہو۔ اس کے بعد میں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔اب میرے والدین مجھ پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ تم اپنی زبان بند رکھو اور اپنے شوہر کے ساتھ رہوتمہیں طلاق نہیں ہوئی، جبکہ میرا شوہر طلاق دے کر مکر جاتا ہے۔ برائے کرم دلائل کی روشنی میں واضح کیجئے کہ یہ طلاق ہوئی کہ نہیں؟ اگر طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہیں تو پھر اس کے بعد میرا شوہر کے ساتھ گزرے وقت اور بچوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ والدین کے پریشر کے جواب میں مجھے شریعت کی روشنی میں کیا کرنا چاہیے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب شوہر نے پہلی بار میں تین طلاقیں دیں تو وہ طلاقیں واقع ہوگئی تھیں،چاہے وہ حالت حمل میں ہی کیوں نہ ہوں۔مردوعورت کا تین طلاقوں کے بعد اکٹھے رہنا حرام ہے،لہذا اللہ کے حضور اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار ضروری ہے۔ تاہم اس دورانیہ میں جو بچےپیدا ہوئے ہیں تو ان کا نسب اس مرد سے ثابت ہوجائے گا۔تین طلاقوں کے ہوجانے کے بعد والدین کا عورت کو مرد کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے اور گناہ کے کام میں معاونت ہے۔لہذا آپ کے لیے اس پر عمل کرنا قطعاً جائز نہیں ۔
حوالہ جات
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له
نكاحهاقبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}
[البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة(بدائع الصنائع:3/187)
قال أبو بكر: قوله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} الآية، يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها.(أحكام القرآن :2/83)
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، علي أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة.(عمدۃ القاری:20/233)
ولو طلقها ثلاثا، ثم تزوجها قبل أن تنكح زوجا غيره فجاءت منه بولد ولا يعلمان بفساد النكاح فالنسب ثابت، وإن كانا يعلمان بفساد النكاح يثبت النسب أيضا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: 1/ 540)
أخرج أبو داؤد في" سننہ"(4/265)(الحديث رقم:2625) من حدیث علي رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث جيشا وأمر عليهم رجلا، وأمرهم أن يسمعوا له ويطيعوا، فأجج نارا وأمرهم أن يقتحموا فيها، فأبى قوم أن يدخلوها، وقالوا: إنما فررنا من النار، وأراد قوم أن يدخلوها، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "لو دخلوها -أو دخلوا فيها- لم يزالوا فيها".وقال: " لا طاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف.
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/جمادی الاولیٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


