| 85703 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر ایک عورت کسی اسکول میں ٹیچنگ کرتی ہو ،اور وہ اسکول مذکورہ عورت کے گھر سے تقریبا ۵کلو میٹرکے فاصلے پر ہو، اور عورت شرعی پردے کا لحاظ بھی کرتی ہے تو کیا اس کے لیے یہ نوکری کرنا جائزہے یانہیں ؟اوریہ کہ وہ اسکول روزانہ اکیلےآتی جاتی ہو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مذکورہ عورت کسی ایسے اسکول میں پڑھاتی ہےجہاں مخلوط نظام تعلیم نہیں ہے ،یعنی صرف لڑکیوں کا اسکول ہے تو اس کے لیے یہ نوکری کرنا جائز ہے۔ اور اگر مخلوط نظام تعلیم ہے تو مروّجہ مخلوط تعلیم میں شر اور فساد غالب ہے لہذا ایسی ملازمت سے اجتناب بہتر ہے۔البتہ اگر گھر کے اخراجات میں بہت دقت پیش آرہی ہو اور اس کے برے اثرات بچوں کی پرورش پر پڑرہے ہوں تو مجبوری کی وجہ سے درج ذیل شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے مخلوط ماحول میں بھی پڑھانے کی گنجائش ہے۔
- اگر شادی شدہ ہے تو شوہر کی اجازت سے تعلیم دے۔
- مکمل باپردہ ہوکر جائے۔
- مردوں سے بقدر ضرورت سے زائد بات چیت اور ہنسی مزاح سے اجتناب کرے۔
اولاً تو چاہیے کہ شوہر یا کسی محرم مرد کے ساتھ اسکول جائے،البتہ اگر کوئی محرم مرد میسر نہ ہو اور کسی قسم کےفتنے کا اندیشہ نہ ہوتو مذکورہ(۵ کلو میٹر)کے فاصلے پر واقع اسکولاکیلےآجا سکتی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامةابن الهمام رحمه الله : فإن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم بغير رضا الزوج ليس لها ذلك، فإن وقعت لها نازلة إن سأل الزوج من العالم وأخبرها بذلك لا يسعها الخروج، وإن امتنع من السؤال يسعها أن تخرج من غير رضاه، وإن لم تكن لها نازلة ولكن أرادت أن تخرج لتتعلم مسألة من مسائل الوضوء والصلاة إن كان الزوج يحفظ المسائل ويذاكر معها له أن يمنعها، وإن كان لا يحفظ الأولى أن يأذن لها أحيانا، وإن لم يأذن فلا شيء عليه، ولا يسعها الخروج ما لم يقع لها نازلة. ( فتح القدير: 398/4)
قال العلامة الحصكفي رحمه الله: لها السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة.(193)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : (قوله في سفر) هو ثلاثة أيام ولياليها فيباح لها الخروج إلى ما دونه لحاجة بغير محرم بحر، وروي عن أبي حنيفة وأبي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يوم واحد، وينبغي أن يكون الفتوى عليه لفساد الزمان شرح اللباب ويؤيده حديث الصحيحين «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم عليها» (466/2)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


