03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہرے مقتدی کی نماز کا حکم
85476نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں: میں سنتا نہیں ہوں، پیدائشی بہرہ نہیں ہوں، مسئلہ یہ ہے تلاوت ٹھیک نہیں کرسکتا ،نظریں پھیر کرکرتا ہوں۔لیکن نماز میں کیا پڑھوں؟ اگر میں جماعت میں شریک ہوں تو امام کے اگلے رکن میں جانے کا پتہ نہیں چلتا ۔ میں کیا کروں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1 قراءت پر بالکل قادر نہ ہونے کی صورت میں قراءت فرض نہیں ہے،البتہ قراءت کی جگہ ’’سبحان اللہ یا الحمد للہ‘‘ پڑھناکافی ہوگا۔

.2 اگر قراءت پر قادر تو ہے، لیکن تلاوت ٹھیک سے نہیں کرسکتا  توجس قدر ممکن ہو کوشش کرتا رہے۔لہذا آپ بھی  اگرقراءت پر کچھ قادرتو ہیں مگر ٹھیک سے نہیں کرسکتے تو جس قدر پڑھنا ممکن ہو ،کوشش کرتےرہیں ۔

3.آپ اپنےقریبی نمازی کے رکوع وسجدہ  سے  احساس کرکے رکوع سجدہ کرلیا کریں،اگر پھر بھی  کوئی رکن رہ جائے تو اسے مکمل کرتے ہوئے امام کے ساتھ مل جائیں اور نماز مکمل کرلیں ۔

حوالہ جات

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:أما الأمي ،والأخرس لو افتتحا بالنية جاز ؛لأنهما أتيا بأقصى ما في وسعهما.( رد المحتار: 1/ 442)

وقال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی 🙁ولا يلزم العاجز عن النطق) كأخرس وأمي (تحريك لسانه) وكذا في حق القراءة هو الصحيح؛ لتعذر الواجب.( الدرالمختار: 2/59 1)

 و في الفتاوی الھندیہ :وفي المبسوط: والأخرس، والأمي الذي لا يحسن شيئا يصير شارعا بالنية، ولا يلزمه التحريك باللسان كذا في التبيين.( الفتاوى الهندية:1/ 69)

 وقال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی:(واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه) بعذر كغفلة وزحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم  بمسافر، وكذا بلا عذر، بأن سبق إمامه في ركوع وسجود، فإنه يقضي ركعة، وحكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو، ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق، ثم يتابع إمامه إن أمكنه وإدراكه، وإلا تابعه، ثم صلى ما نام فيه بلاقراءة، ثم ما سبق به بها: إن كان مسبوقا أيضا، ولو عكس صح وأثم، لترك الترتيب.( الدر المختار،ص: 81)    

و في الفتاوی الھندیۃ :إذا كبر مع الإمام، ثم نام حتى صلى الإمام ركعة ،ثم انتبه فإنه يصلي الركعة الأولى  وإن كان الإمام يصلي الركعة الثانية. هكذا في الذخيرة، ولو لم يشتغل بقضاء ما سبقه الإمام  ولكن يتابع الإمام أولا، ثم قضى ما سبقه الإمام بعد تسليم الإمام جازت صلاته عندنا. هكذا في شرح الطحاوي. ( الفتاوى الهندية: 1/ 92)

  شمس اللہ    
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14   جمادی الاولی،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب