03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا زندہ بھائیوں کے کاروبار میں بہنوں کا حصہ ہے؟
86299شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد پرائے گھر میں رہتے تھےاور دکان بھی پرایا تھا،اس دوران میرے بھائیوں نے کاروبار شروع کیا،والد صاحب بہت بوڑھے تھے ،کمائی بھائیوں کی تھی۔ والدصاحب نے چار شادیاں کی تھیں،ایک بغیر اولاد کی وفات پاگئی،دوسری والد صاحب کی زندگی میں وفات پاگئی، دو والد صاحب کے بعد زندہ رہیں۔اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1) ایک بیوی سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں (ایک بیٹی والد صاحب کی زندگی میں فوت ہوگئی) ۔
(2) دوسری سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ( دو بیٹے والد صاحب کی زندگی میں فوت ہوگئے) ۔
(3) تیسری بیوی سے ایک بیٹااور سات بیٹیاں۔ 
والد صاحب 1977 میں فوت ہوچکے ہیں، ان کی حیات میں گھر، دُکان اور کچھ زمینیں خریدی گئیں۔2002ءمیں بھائیوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا،اس دوران مشترکہ کاروبار میں کچھ زمینیں خریدی گئی تھیں اور باہمی مشورے سےتما م جائیداد ومال کو چھ حصے کرکے، بھائیوں اور مرحوم بھائیوں کے بیٹوں کو برابر حصہ دیا گیا (چار بھائی زندہ تھے جبکہ دوبھائی مرحوم) ۔اس کے بعد ایک قطعہ اراضی فروخت کرکے بہنوں کو کچھ رقم دی گئی،جو ان کے حصے سے کم تھی، لیکن وہ بہنیں راضی تھیں۔ 
سائل سب بھائیوں میں چھوٹا ہے، اپنی شرعی ذمہ داری اد اکرنا چاہتا ہےا ور درج بالا صورت حال کے بعد پوچھنا چاہتا ہےکہ (1) کیا بھائیوں کے مشترکہ کاروبار یا جائیدا د میں بہنوں کا حصہ ہے؟ (2) اگر بالفرض بہنوں کا حصہ بنتا ہے تو سائل کو چھٹا حصہ مل رہاہے ،اس میں بہنوں کا حصہ کتنا ہوگا؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

،.2چونکہ مشترکہ کاروبار صرف بھائیوں کا تھا۔ اس لیے مشترکہ کاروبار اور اس کاروبار سے خریدی گئی تمام زمینوں  میں بہنوں کا حصہ نہیں بنتا ۔جتنا حصہ بہنوں کو دیا گیا ،وہ بطور تبرع تھا،شرعی اعتبار سے ان کو دینا سائل پر لازم نہیں ہے۔

حوالہ جات

في الهندية :
شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما.أما الشركة بالمال :فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع. (الفتاوى  الهندية: 2/301)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : (وركنها في شركة العين اختلاطهما، وفي العقد اللفظ المفيد له) ".(رد المحتار : 299/4)
و فيه (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه.(رد المحتار : 687/5)
 

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/رجب المرجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب