| 85896 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ بلوچستان سے بڑے بڑے کاروباری حضرات ہمارے علاقے جنوبی وزیرستان سپین کے بارڈر تک اسمگل شدہ گاڑیاں لے آتے ہیں، وہاں پر ہمارے علاقے کے لوگ ان سے یہ معاملہ طے کرتے ہیں کہ یہ گاڑی بیس ہزار روپے کے عوض ذمہ داری کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر واقع وانا بازار میں آپ کے خریدار یا پارٹنر تک پہنچاؤں گا، اگر گاڑی کو کچھ نقصان پہنچا یا حکومت کی جانب سے پکڑی گئی تو میں اس کی قیمت ادا کرنے کا پابند ہوں۔ گاڑیوں کی قیمتیں دس لاکھ سے لے کر تیس لاکھ تک ہوتی ہیں ،چونکہ یہ گاڑیاں غیر قانونی اور اسمگل شدہ ہوتی ہیں، اس وجہ سے حکومت کی جانب سے پکڑے جانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، مزید یہ کہ اس کے واقعات علاقے میں رونما بھی ہوئے ہیں کہ حکومت نے گاڑی پکڑی اور وہ ضائع ہوگئی، اس کے بعد گاڑی کے مالک نے ذمہ دار شخص کو گاڑی کی قیمت ادا کرنے کا پابند بنایا ۔ اب کیا اس طرح بیس ہزار کے عوض تیس لاکھ کی گاڑی کی ذمہ داری قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں سود کی کوئی صورت بنتی ہے یا نہیں؟ نیز مندرجہ بالا صورت میں اگر گاڑی پکڑی گئی تو کیا ذمہ دار شخص پر ضمان آئے گا یا نہیں ؟ دوسری صورت یہ معاملہ چونکہ چند مخصوص لوگ بڑے ڈیلروں کے ساتھ طے کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ کی جتنی گاڑیاں ہو صرف بارڈر تک پہنچا کر میرے ساتھ رابطہ کر لیا کریں ، آگے متعین جگہ تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے، چنانچہ وہ ڈیلر اکٹھے بیس تیس گاڑیاں بارڈر تک لے آتا ہے اور ذمہ دار شخص کے حوالے کرتا ہے، پھر آگے سے ذمہ دار شخص اپنے پاس موجود ڈرائیورز حضرات کو فی گاڑی دو ہزار کے عوض دیکر مقررہ جگہ تک پہنچانے کا معاملہ طے کرتا ہے، کیا ڈرائیورز حضرات کا فی گاڑی دو ہزار کے عوض مقررہ جگہ تک پہنچانا ذمہ داری کے ساتھ یا بغیر ذمہ داری کے جائز ہے یا نہیں ؟ نیز گاڑی پکڑے جانے کی صورت میں کیا ڈرائیور سے ضمان کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ بشرطیکہ اس نے ذمہ داری قبول کی ہو ؟ اگر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے پھر ضمان کا کیا حکم ہے؟ تیسری صورت اگرڈرائیور کے لئے دو ہزار کے عوض گاڑی لے جانا جائز نہیں، پھر وہ جو گاڑیاں لے کر گیا ہے جن کا معاوضہ اس کو ابھی تک نہیں ملا ہے ،کیا وہ معاوضہ ابھی لے سکتا ہے، کیونکہ اپنی مزدوری تو وہ پوری
کرچکاہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں، ایمرجنسی کے پیشِ نظر جواب جتنا جلدی ممکن ہو اتنا جلد درکار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید یہ سمجھنا چاہیے کہ اسمگلنگ کرنا ، اسمگل شدہ مال خریدنا بیچنا اور ا س میں مدد کرنا حکومت کے قانون کی خلاف ورزی، ملک کی معیشت کا نقصان اوراپنی عزت کو داؤ پر لگانا ہے، اس لیے ناجائز ہے۔ایسے مال کی خرید وفروخت اور اس میں تعاون کرنا بھی ناجائز ہے ، البتہ اگر وہ اشیاء خود حرام نہیں ہیں تو اس کی خرید و فرخت سے حاصل ہونے والے منافع حلال ہوں گے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مقامی شخص اسمگلر کے ساتھ یا کوئی ڈرائیور مقامی شخص کے ساتھ اسمگل شدہ گاڑی کو مقررہ معاوضہ کے عوض مخصوص جگہ تک پہنچانے کا معاہدہ کرے تو یہ عقدِ اجارہ ہونے کی بناء پر فی نفسہ جائز ہے۔وہ گاڑی قبضہ کے بعد مقامی شخص یا ڈرائیور کےپاس امانت شمار ہوگی ، اگر گاڑی بے احتیاطی یا لاپرواہی کی وجہ سے ضبط یا نقصان کا شکار ہوئی تو ضبط کی صورت میں پوری قیمت کا اور نقصان کی صورت میں بقدرِ نقصان اس کی قیمت واجب ہوگی۔ البتہ اگر بے احتیاطی یا کوتاہی کے بغیر ضبط یا نقصان کا شکار ہوئی یا کوئی ایسا نقصان ہوا جس سے بچنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں مقامی شخص یا ڈرائیور ذمہ دار نہیں ہوگا، اگرچہ معاملہ اس شرط پر ہوا ہو کہ ضبط یا نقصان کی صورت میں گاڑی کی مکمل قیمت ادا کرنے کا ذمہ دارہوگا، علاوہ ازیں مذکورہ معاہدوں میں سود کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا۔مزید یہ کہ ڈرائیور جو گاڑیاں لے کر گئے ہوں اور ان کا معاوضہ ابھی تک وصول نہ کیا ہو تو اس کے لیے شرعاً ان کا معاوضہ لینا جائزہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: (ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال وحمال ودلال وملاح، وله خيار الرؤية في كل عمل يختلف باختلاف المحل مجتبى (ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان) ؛ لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع (وبه يفتى) كما في عامة المعتبرات، وبه جزم أصحاب المتون، فكان هو المذهب خلافا للأشباه ، وأفتى المتأخرون بالصلح على نصف القيمة، وقيل إن الأجير مصلحا لا يضمن، وإن بخلافه يضمن، وإن مستور الحال يؤمر بالصلح عمادية.قلت: وهل يجبر عليه؟ حرر في تنوير البصائر نعم كمن تمت مدته في وسط البحر أو البرية تبقى الإجارة بالجبر(و) يضمن (ما هلك بعمله كتخريق الثوب من دقه وزلق الحمال وغرق السفينة).
(الدر المختار مع رد المحتار:6/ 64)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( ولا يضمن إلخ) اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا ، وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا.( رد المحتار:6/ 65)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: (وكل ما صلح ثمنًا) أي بدلًا في البيع (صلح أجرة) لأنها ثمن المنفعة.
) الدر المختار مع رد المحتار (61 / 4:
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: (المادة 611) الأجير المشترك يضمن الضرر والخسائر التي تولدت عن فعله ووصفه إن كان بتعديه وتقصيره أو لم يكن. (مجلة الأحكام العدلية: 114)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: وحكم الأجير المشترك أن ما هلك في يده من غير صنعه فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول زفر والحسن، وإنه قياس سواء هلك بأمر يمكن التحرز عنه كالسرقة والغصب، أو بأمر لا يمكن التحرز عنه كالحرق الغالب والغارة الغالبة والمكابرة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى: إن هلك بأمر يمكن التحرز عنه فهو ضامن، وإن هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه فلا ضمان،كذا في المحيط... وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه يحصل صيانة أموالهم كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية:4/ 500)
قال العلامۃ الآلوسي رحمہ اللہ: ﴿يأيها الذين آمنوا﴾ بعد ما أمر سبحانه ولاة الأمور بالعموم أو الخصوص بأداء الأمانة والعدل في الحكومة، أمر الناس بإطاعتهم في ضمن إطاعته عز وجلّ وإطاعة رسوله صلي الله عليه وسلم. (روح المعاني، سورة النساء: 59، 6/104)
احسان اللہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/16 جمادی الآخرۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ بن سحرگل | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


