| 85689 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میرے والد نے مجھے جہیز میں گھر بمع تمام سامان دیا تھا۔ شادی کو 17 سال ہو گئے ہیں ۔میرا گھر سسرال کے پاس ہی تھا۔ چند سال پہلے ہم کھارادر سے گرومندر شفٹ ہوگئے ہیں ۔ تین سال پہلے میری ساس کا انتقال ہو چکا ہے ۔ اب میرے سسر اکیلے اپنے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ میں اپنے شوہر سے کہتی ہوں کہ میرا اور سسر کا گھر بیچ کر انہیں اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں ، لیکن وہ بضد ہیں کہ نہیں ! انہیں اکیلے رہنے دو ، بس ہم انہیں کھانا بھیج دیتے ہیں ، جب انہیں ضرورت ہوگی تو وہ ہمارے گھر آ کر رہ لیں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ میرا گھر چھوٹا ہے اور ان کے آ نے سے ہمیں بہت پریشانی ہوتی ہے ۔نیز یہ کہ میں بھی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ ہم ایسی جگہ گھر لیں جو میرے والدین کے پڑوس میں ہواور میرے سسر کو ہم اس میں اپنے ساتھ ہی رکھ لیں ، تاکہ ہم دونوں ملکر ایک دوسرے کے والدین کی خدمت کر سکیں ۔میرے شوہر کہتے ہیں میں تمھارے والدین کے پڑوس میں نہیں رہوں گا ۔ اب ان کے والد کو جب ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنے والد کے پاس چلے جاتے ہیں ،جبکہ میں عورت ہونے کی بنا پر ہر وقت ان کی خدمت نہیں کر سکتی اور اگر میں ان سے کہتی ہوں کہ اب آ پ کے والد بھی میرے گھر نہ آ ئیں ، تو وہ کہتے ہیں کہ میں بھی گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہوں، یہ گھر تمھارا ہے ،اس لیے تم مجھے بے عزت کرتی ہو۔ کیا ان کا یہ رویہ صحیح ہے ؟ میں بہت پریشان ہوں ، نیز یہ کہ وہ بڑے سے بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کو اپنے والدمحترم کی خدمت سے نہیں روکا جا سکتا ، پھر چاہے خدمت کی جو بھی صورت ہو ۔سسرکا گھر بیچنا تو آپ کے شوہر کے لیے جائز نہیں ، لہذا آپ کو چاہیے کہ میاں کو گھر بیچنے پر مجبور نہ کریں ، اس سے گھریلو ناچاقیاں شروع ہو جاتی ہیں ، جو کہ پوری زندگی کا سکون برباد کر دیتی ہیں۔چونکہ گھر چھوٹا ہونے کی بنا پر سسر کو ساتھ رکھنے میں پریشانی ہے ، تو آپ اپنے میاں کو پیار محبت سے سمجھا کر اگر کسی چیز پر راضی کر سکتی ہیں تو ٹھیک ، ورنہ انہیں مجبور کرنا جائز نہیں۔بہتر ہے کہ آ پ کے شوہر جیسے چلنا چاہیں چلنے دیں ، اپنے گھر کا انہیں احساس دلانا ازدواجی رشتے کے لیے مناسب نہیں ۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله : وبيع ملك الغير لا يجوز . (الدر المختار مع الرد : 4/ 396)
قال العلامةالجصاص رحمه الله : وقوله تعالى: {لينفق ذو سعة من سعته} يدل على أن النفقة تفرض عليه على قدر إمكانه وسعته، وأن نفقة المعسر أقل من نفقة الموسر.وقوله تعالى: {ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله} ، قيل معناه: من ضيق عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله، يعني والله أعلم أنه لا يكلف نفقة الموسر في هذه الحال بل على قدر إمكانه ينفق. وقوله تعالى: {لا يكلف الله نفسا إلا ما آتاها} ، فيه بيان أن الله لا يكلف أحدا ما لايطيق. (أحكام القرآن للجصاص: 3/ 619)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : ينبغي أن لا يلزمه إسكانها في دار واسعة كدار أبيها أو كداره التي هو ساكن فيها؛ لأن كثيرا من الأوساط والأشراف يسكنون الدار الصغيرة. (رد المحتار:3/ 602)
قال العلامة الكاساني رحمه الله : قوله تعالى: {وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا} [الإسراء: 23] أي: أمر ربك وقضى أن لا تعبدوا إلا إياه.أمر سبحانه وتعالى ووصى بالوالدين إحسانا، والإنفاق عليهما حال فقرهما من أحسن الإحسان، وقوله عز وجل: {ووصينا الإنسان بوالديه حسنا} [العنكبوت: 8]، وقوله تعالى: {أن اشكر لي ولوالديك} [لقمان: 14] والشكر للوالدين هو المكافأة لهما، أمر سبحانه وتعالى الولد أن يكافئ لهما، ويجازي بعض ما كان منهما إليه من التربية والبر والعطف عليه والوقاية من كل شر ومكروه ،وذلك عند عجزهما عن القيام بأمر أنفسهما والحوائج لهما وإدرار النفقة عليهما حال عجزهما وحاجتهما من باب شكر النعمة، فكان واجبا. وقوله عز وجل :{وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15]، وهذا في الوالدين الكافرين ،فالمسلمان أولى، والإنفاق عليهما عند الحاجة من أعرف المعروف .
(بدائع الصنائع:4 / 30 )
قال العلامة شمس الأئمة السرخسي رحمه الله : وهي لا تملك تفويت حق الزوج عليه. (المبسوط:5/ 16)
قال العلامةالجصاص رحمه الله : تضمن قوله تعالى : {الرجال قوامون على النساء} قيامهم عليهن بالتأديب والتدبير والحفظ والصيانة ؛ لما فضل الله به الرجل على المرأة في العقل والرأي ، وبما ألزمه الله تعالى من الإنفاق عليها. فدلت الآية على معان: أحدها: تفضيل الرجل على المرأة في المنزلة ، وأنه هو الذي يقوم بتدبيرها وتأديبها، وهذا يدل على أن له إمساكها في بيته، ومنعها من الخروج ،وأن عليها طاعته وقبول أمره ما لم تكن معصية. ودلت على وجوب نفقتها عليه بقوله: {وبما أنفقوا من أموالهم} ،وهو نظير قوله: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] ،وقوله تعالى: {لينفق ذو سعة من سعته} [الطلاق: 7] ، وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "ولهن رزقهن وكسوتهن بالمعروف". وقوله تعالى: {وبما أنفقوا من أموالهم} منتظم للمهر والنفقة; لأنهما جميعا مما يلزم الزوج لها. (أحكام القرآن للجصاص: 2/ 236)
عبداللہ اسلم
دارالافتا ء جامعۃ الرشید ، کراچی
1 جمادى الآخرہ، 1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ اسلم ولد محمد اسلم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


